Saturday, May 21, 2011

مسلم بہن کے نام

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اے بہن
جس کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہے۔ جسے اللہ اور اس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔۔ جسے اللہ نے عقل ، حیا اور پاکیزگی جیسے پیاری پیاری نعمتوں سے نوازا ہے ۔۔ آپ وہ خاتون ہیں جو اللہ کے لئے رکوع کرتی ہیں اور اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں اور اللہ کے لیے ساری عبادات کرتی ہیں۔
آپ مسلمان ہیں ۔ مومنہ ہیں ۔۔ پاک دامن اور عفیفہ ہیں ۔۔ آپ ہی وہ خوش نصیب ہیں جس کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو وصیت کی تھی کہ میں تمہیں عورتوں سے بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔۔۔ آپ وہ ذات ہیں جس کا بیوی ، بہن ، بیٹی اور ماں کی شکل میں مردوں کی زندگی میں بہت بڑا حصہ ہے۔
مجھے ایک سوال کرنے کی اجازت دیجیے؟
کیا آپ جیسی اچھی صفات کی حامل عورت کے لائق ہے کہ وہ نامحرموں کے سامنے بے پردہ پھرے ۔۔۔ ان کے سامنے خوشبو لگائے ۔۔۔ میک اپ کرکے نکلے ۔۔۔ چھوٹا اور تنگ گاؤن پہن کر پھرے ۔۔۔ یا چھوٹی سی چادر سے پردہ کرے؟
کیا ایسی صفات کی حامل عورت کی شان میں ہے کہ وہ چھوٹی قمیض پہنے ۔۔۔ تنگ پاجامہ پہنے ۔۔۔ پینٹ شرٹ پہنے ۔۔۔ یا مردوں کو فتنے میں ڈالنے کے لیے باریک نقاب پہنے ۔۔۔؟ یا بازاروں میں آوارہ پھرے اور غیروں سے ہنس ہنس کر باتیں کرے یا وہاں اپنی دوستوں کے ساتھ اونچی آواز میں باتیں کرے اور قہقہے لگائے؟

نہیں نہیں اللہ کی قسم ہرگز نہیں !! آپ جسی اچھی اچھی اچھی صفات والی عورت کے شایان شان نہیں کہ وہ حرام کام کرے۔۔

اے میری مومنہ بہن
یہ جان لو کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے اور ہر جگہ ہر وقت آپ اس کی نظروں میں ہوتی ہیں ۔۔۔۔!

کیا آپ چاہتی ہو کہ وہ آپ کو ایسے کام کرتے ہوئے دیکھے جن کاموں سے اس نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو منع کیا ہو؟ کیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کے نبی پر یہ آیات نازل کر کے آپ پر حجاب فرض نہیں کیا؟
يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن
ترجمہ: "اے نبی اپنی بیویوں اور صاحب زادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔
کیا پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ "جو عورت خوشبو لگا کر کسی کے پاس سے گزرے وہ زانیہ ہے"۔
(ترمذی ، کتاب الادب ، 2786

اے میری مسلمان بہن
کیا آپ کو اس بات پر یقین ہے کہ آپ جو کچھ کرتی ہیں ، چاہے چھوٹا عمل ہو یا بڑا ۔۔۔ اللہ کے پاس ریکارڈ ہو رہا ہے۔ اگر آپ کوئی نیکی کریں گی تو وہ نیکی ریکارڈ ہوگی اور اگر کوئی برائی کریں گی تو برائی ہی ریکارڈ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا 
يعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور
المومن (غافر) : 19
'' بےشک اللہ تعالی نظروں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں'

اے بہنا !
کیا آپ اس بات پر راضی ہیں کہ شیطان آپ کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرے؟
کیا یہ بات آپ کو غم میں مبتلا نہیں کرتی کہ آپ کو مسلمانوں کے خلاف کافروں کی تدبیروں میں سے ایک تدبیر بنا لیا جائے؟
ہاں !! کیا آپ نے اس کافر کی بات نہیں سنی جب وہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک سجی دھجی عورت ہزار جنگجو کافروں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے؟

اے بہن !
کیا آپ اس بات پر راضی ہیں کہ آپ کی وجہ سے آپ کا مسلمان بھائی فتنہ میں پڑ جائے اور اللہ کی نافرمانی کرے؟
کیا آپ اس بات سے راضی ہیں کہ آپ کی وجہ سے ایک مسلمان اللہ کے غضب کا شکار ہو اور آگ میں ڈالا جائے؟؟
پیاری بہنا ! اللہ عز و جل نے آپ کو صحت ، خوبصورتی ، عقل اور اس طرح کی کئی دوسری چیزیں دے کر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ کیا آپ اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے گناہوں کی وجہ سے ان نعمتوں میں سے کوئی نعمت چھین لے ؟

اے پاک دامن بہن ۔۔۔۔
قبر یا تو جنت کے محلوں میں سے ایک محل ہے یا آگ کے انگاروں میں سے ایک انگارا؟ آپ اپنی قبر کا حال کیا چاہتی ہیں؟
کیا آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی قبر روشنیوں سے بھری ہوئی ہو؟
کیا آپ چاہتی ہیں کہ وہ کھلی اور وسیع ہو؟
کیا آپ چاہتی ہیں کہ وہاں آپ کو آرام ملے؟؟
جنت آپ کے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، کیا آپ اس میں داخل ہونا چاہتی ہیں؟

او بہنا ۔۔۔ !
حیران مت ہو ! ایسے بھی لوگ ہیں جو تکبر کرتے ہیں اور جنت میں داخلے کی پیشکش کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نہیں سنا کہ :
میری تمام امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔
پوچھا گیا : ایسا کون بدبخت ہے جو انکار کرے گا؟
فرمایا : جس نے میری اطاعت کی ، جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت میں داخلے سے) انکار کیا
(بخاری)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانیوں میں سے ایک بہت بڑی نا فرمانی حجاب شرعی کو اختیار نہ کرنا ہے۔
آپ کے لیے حجاب شرعی کی چند شروط پیش کی جارہی ہیں تاکہ اس گناہ اور معصیت کو چھوڑ دیں اور یہ شروط آپ کے لیے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔
آپ کی چادر یا برقع پورے جسم (پاؤں اور چہرے سمیت) کو ڈھانپے۔
چادر یا برقع بذات خود زینت نہ ہو۔(اس پر کڑھائی نہ ہوئی ہو ، نہ ہی رنگ اور موتی لگے ہوئے ہوں)۔
چادر یا برقع موٹا ہو یعنی باریک نہ ہو کہ اس سے آپ کے کپڑے نظر آئیں۔
چادر یا برقع کشادہ کھلا ہو ، تنگ نہ ہو۔
اس چادر یا برقع پر خوشبو پرفیوم وغیرہ نہ لگی ہوئی ہو۔
یہ چادر یا برقع مردوں سے مشابہ نہ ہو۔
اس چادر یا برقع سے لوگوں کے درمیان شہرت مقصود نہ ہو۔

اور آخری بات ۔۔
وہ عورت عقل مند کیسے ہوسکتی ہے جس نے جنت کو اپنی خواہشات کے بدلے میں بیچ دیا؟؟

اے پیاری بہن ۔۔۔!
کیا آپ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھول چکی ہیں کہ:
فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور
(آل عمران 185)
"پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا بے شک وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔"
وصلی اللہ علی سیدنا محمد و علیٰ آلہ وصحبہ وسلم
مراسلہ: ام عمارہ

اگر سبھی کلمہ پڑھنے والی عورتیں ان اسلامی احکامات پر عمل کریں تو ممکن نہیں کہ ہم دوبارہ ایک پاکیزہ اور بہترین معاشرہ نہ بن سکیں۔
اصل میں عورت ذات کی اگر بہترین تربیت کی جائے تو وہ آگے اپنی اولاد کی بھی بہترین تربیت کرتی ہے اور اگر ایک عورت کی تربیت ہی نہ کی جائے اس کو شرم و حیا کا درس ہی نہ دیا جائے اس کو اسلام کے احکامات کی تعلیم ہی نہ دی جائے وہ کیسے ایک پاکیزہ معاشرے کو تشکیل دے سکے گی؟؟؟

میں دوکاندار ہوں اور ایک پلازہ میں دوکان رکھتا ہوں جہاں امیر لوگ ہی آسکتے ہیں یقین کریں مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ عورتوں نے ایسا لباس پہنا ہوتا ہے کہ جس کو پہن کر بھی وہ ننگی ہوتی ہیں اور کہنے کو وہ مسلمان ہیں مگر اس کی تعلیمات سے بےبہرہ اور ان کی اولاد بھی ایسے ہی لباس پہنتی ہے جن کو دیکھ کر ہمیں شرم آ جاتی ہے مگر ان کو کچھ بھی احساس نہیں ہوتا بہت دُکھ اور افسوس کا یہ مقام ہے ہم کس طرف جا رہے ہیں؟

اس وقت انتہائی اہم کام یہ ہے کہ عورتوں کی تربیت صحیح اسلامی طرز پر ہو جیسا کہ اس بہن ام عمارہ نے ایک بہترین اور مختصر تحریر لکھ کر اس میں کام میں حصہ ڈالا ہے ہم سب کو بھی اس معاملے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Wednesday, May 18, 2011

چلتی بندوق کے ہم دھانے پہ ہیں ہم کو معلوم ہے ہم نشانے پہ ہیں

1 تبصرہ جات

چلتی بندوق کے ہم دھانے پہ ہیں
ہم کو معلوم ہے ہم نشانے پہ ہیں


قاتلو قتل گاہیں سجاتے رہو
سینے حاضر ہے گولی چلاتے رہو
ہم عقیدے پہ تن من لٹانے پہ ہیں
ہم کو معلوم ہے ہم نشانے پہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Monday, May 16, 2011

غزوہ احد

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور ایک ہم ہیں کہ دنیا کی محبت میں مگن ہیں اور دوسرا ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آپمس میں متحد نہیں ہیں جس کی وجہ سے کفار کو موقعہ ملا ہے ہم کو آپس میں لڑانے کا۔
ہم آخر کب کفار کی چالوں کو سمجھیں گیں؟؟؟
پہلا حصہ
دوسری حصہ

تیسرا حصہ

Wednesday, May 11, 2011

خوشامد ایک معاشرتی بُرائی

7 تبصرہ جات


بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام میں خودپسندی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اس کی جہاں ممانعت بھی وارد ہوئی ہے وہاں ہی کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے کہ کہیں شیطان اس بندے کو مغرور، متکبر نہ بنادے، اسلام ایک انسان کی ہر معاملے میں بہترین رہنمائی کرنے والا دین ہے اسلام نہیں چاہتا کہ ایک انسان اپنی حدود کو پار کرئے کہ جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں خرابی آئے،اسلام نے ہر معاملے میں بہترین رہنمائے اصول دیئے ہیں اگر ان اصولوں کو فراموش کرکے ان کے خلاف اقدام کیئے جائیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے جو آخر کسی بڑے فتنے کا سبب بن جاتا ہے اور انہی اصولوں میں سے ایک اصول ہے کسی انسان کے سامنے اس کی تعریفوں کے پل باھندنا کہ جس کی وجہ سے وہ بندہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے انسان کے اندر تکبر کا بیج بو دینا ہے اور جس انسان میں تکبر آگیا تو سمجھ لو کہ اس کی آخرت تباہ ہو گئی۔
ابلیس ::شیطان::بھی اسی تکبر کی وجہ سے برباد ہوا تھا، تکبر اللہ کو بہت ناپسند عمل ہے اس لیئے اسلام نے اس تکبر کو ایک انسان کے اندر آنے کے رستے بند کرنے کی طرف توجہ دی ہے جیسا کہ ایک حدیث شریف میں نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف عن معبد الجهني عن معاوية قال سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول إياکم والتمادح فإنه الذبححضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو کیونکہ یہ توذبح کرنے کے مترادف ہے۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:باب:آداب کا بیان۔ :خوشامد کا بیان ۔اس فرمانِ رسولﷺ سے واضح ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح یعنی ہلاک کرنے کے مترادف ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص خودپسندی اور تکبر کا شکار ہوجائے اور شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے۔
اسی طرح کی ایک حدیث مسند احمد میں بھی ہے
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ ۔۔۔۔ ۔۔۔ منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔مسند احمد:جلد ہفتم:باب: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
اس ارشاد رسولﷺ کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے معاشرے میں کچھ عجیب سی حرکات ہورہی ہیں اگر کوئی دین کے علم سے نابلد انسان ایسی حرکت کرئے تو دُکھ نہیں ہوتا کہ وہ جاہل ہے مگر افسوس کہ ہمارے اہلِ علم حضرات بھی اس مرض کے شکار ہوچکے ہیں کہ جب وہ کسی فورم پر تشریف فرما ہوتے ہیں تو ان کے سامنے ان کی خوب تعریف کی جاتی ہے اور وہ صاحب اُس تعریف کرنے والے کو منع بھی نہیں کرتے کہ بھائی منہ پر تعریف نہ کرو اس سے ہمارے پیارے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے اور اس مرض میں سیاسی اور مذہبی سبھی طرح کے لیڈران شامل ہیں، میں سبھی پر اس کا اطلاق نہیں کرتا مگر اکثریت اس کا شکار ہوچکی ہے، مثلاً جب کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ ہوتا ہے تو وہاں پر موجود امیدوار برائے پارلیمنٹ کے سامنے اس کی خوب تعریف کی جاتی ہے اور اس کے نام وہ وہ کام لگائے جاتے ہیں جو اس نے کیئے بھی نہیں ہوتے ہیں اور وہ صاحب اس خوشامدی پر پھولے نہیں سماتے چلو یہ لوگ تو دین کے علم سے بےبہرہ ہیں ان کو ان احادیث کا علم نہیں ہوگا::ویسے یہ احادیث پرائمری کے نصاب میں شامل ہیں مگر افسوس کہ ہمارے اکثر حکمران جاہل اور ان پڑھ ہیں جعلی ڈگڑیاں لے کر ہم پر مسلط ہو جاتے ہیں:: مگر دوسری طرف مذہبی رہنماء بھی کم نہیں ہیں ان کے سامنے ان کو ایسے ایسے خطاب سے نوازہ جاتا ہے کہ جو خطاب کسی صحابی رسولﷺ کے نام کے ساتھ بھی نہیں لگاتے ان کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں
مولانا، رہبر ملت، رہبر طریقت، رہبر معرفت، شیخ المشائح، مفکر اسلام، سند المفسرین، فیض ملت، ملک التحریر، امام المناظرین، شمس المصنفین، عمدۃ المفسرین، استاد العرب و العجم، غواث بحر حقائق، محدث وقت، ریئس التحریر، ولی نعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانہ شمع رسالت، مجدد دین و ملت، عالم شریعت، پیر طریقت، حامی سنت، ماحی بدعت، باعث خیر و برکت، امام عشق و محبت، حضرت شیخ الفضیلت، آفتاب رضویت، ضیاء ملت، مقتدائے اہلسنت، شیخ العرب والعجم اورقطب مدینہ۔ یہ صرف ایک مثال کے طور پر ہیں ورنہ اس سے بھی بڑے بڑے القابات سے نوازہ جاتا ہے مگر مجال ہے کہ وہ صاحب جن کو یہ القاب نوازے جارہے ہوں وہ ان لوگوں کو منع کریں کہ بھائی آپ کیوں میرے منہ پر میری تعریف کیئے جا رہے ہو؟ اس سے میرے پیارے رسولﷺ سے منع کیا ہے، میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا ان حضرات کے سامنے سے یہ حدیث بھی نہیں گزری؟؟؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسرں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسےمنہ لے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔۔۔۔۔الخصحیح مسلم:جلد سوم:باب:امارت اور خلافت کا بیان :جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے ۔ایک اور حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خودپسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔مسند احمد:جلد پنجم:باب:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویاتان واضح احکامات کے ہوتے ایک مسلم کبھی بھی خودپسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے سامنے کسی کو تعریف کرنے کی اجازت دینی چاہیے، مگر افسوس کہ اہلِ علم طبقہ بھی اس مرض کا شکار ہوچکا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جس بندے نے اللہ کی رضا کے لیئے دین کا علم حاصل کیا ہوگا وہ ایسی حرکت کسی کو بھی کرنے نہیں دے گا اور جس نے علم حاصل ہی اس لیئے کیا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اس کو القابات سے نوازیں وہ بلا کیونکر لوگوں کو منع کرئے گا۔
اب دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر کیسا عمل تھا؟
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان کے منہ پر تعریف کرنا شروع کردی۔ تو مقداد بن الاسود نے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور اس کے چہرے پر پھینک دی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دیا کرو۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:باب:ادب کا بیان :چاپلوسی وخوشامد کی برائی کا بیان

اور آج ہم کیا کررہے ہیں؟کیا آج تک مَیں نے آپ نے اس حکمِ رسول
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کیا ہے؟اگر اتنی ہمت نہیں کہ مٹی منہ پر پھینک سکیں تو کم از کم کسی کو منہ پر تعریف ہی کرنے سےہی روک دیا کریں میرے خیال سے اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہوگی۔
اب تعریف کرنے کا مسنون طریقہ بھی آپ بھائی لوگ نوٹ فرما لیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ وَيْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ مِرَارًا إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَکِّي عَلَی اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ إِنْ کَانَ يَعْلَمُ ذَاکَ کَذَا وَکَذَاحضرت عبدالرحمن بن بکرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دوسرے آدمی کی تعریف بیان کی تو آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دہرایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ساتھی کی تعریف ہی کرنا چاہئے تو اسے چاہئے کہ وہ ایسے کہے میرا گمان ہے اور اللہ خوب جانتا ہے اور میں اس کے دل کا حال نہیں جانتا انجام کا علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے۔صحیح مسلم:جلد سوم:باب: زہد و تقوی کا بیان :کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو ۔اس حدیث میں بھی اس بات کا خدشہ پیش کیا کہ تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی یعنی تو نے اپنے بھائی کو ہلاک کردیا یہ الفاظ چھوٹے نہیں ہیں جو ان کو اگنور کردیا جائے بلکہ ہمارے پیارے رسولﷺکے ہر حکم میں ہزاروں دانائیاں پوشیدہ ہوتی ہیں اور اس میں ایک یہ دانائی کی بات بھی ہے کہ کہیں وہ بندہ غرور و تکبر کا شکار نہ ہوجائے۔
اور اس حکمِ رسولﷺ سے بات بالکل واضح ہوئی کہ اگر تعریف کرنی ہے تو پہلے وہ کہے کہ میرا گمان ہے اور اصل حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ ایسے ایسے ہے یعنی اس میں فلاں فلاں اچھائی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایک کامل مسلم بنائے جو ہر معاملے میں قرآن و سنت کا پابند ہو آمین ثم آمین یارب العاملین۔

Friday, May 6, 2011

عاشقانِ رسولﷺ یاکہ محبانِ رسولﷺ

6 تبصرہ جات




بسم اللہ الرحمن الرحیم

برئے صغیر پاک و ہند میں اسلامی حلقوں میں ایک لفظ بہت پایا جاتا ہے کہ ہم عاشقِ رسولﷺ ہیں اور اس فقرے کو بہت اہمیت بھی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے سب خاص و عام یہی دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم عاشقِ رسول ﷺ ہیں۔ آج اسی فقرے کے بارے میں دلائل سے بات ہوگی ان شاءاللہ۔
اس سلسلے میں میری کافی دفعہ بات چیت ہوچکی ہے کیونکہ کبھی میں بھی یہی نظریہ رکھتا تھا اور آج بھی میرے عزیز رشتہ دار اور دوست ایسے بہت ہیں جو یہی فقرہ استعمال کرتے ہیں اس لیے ان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، میرا ان سب سے یہی سوال ہوتا ہے کہ آپ وہ الفاظ استعمال کیوں نہیں کرتے جو اللہ نے کہے اور نبیﷺ نے ادا کیئے ہیں؟ آپ لوگ اللہ اور نبیﷺ کی بات کو چھوڑ کر وہ بات کیوں کرتے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے میں بھی بہت غلط تصور کی جاتی ہے؟مگر مجھے آج تک کسی مولوی صاحب یا کسی دوست عزیز نے اس کی دلیل نہیں دی ہے اور جو وجوہات پیش کی ہیں وہ آپ کے سامنے بھی رکھوں گا ان شاءاللہ، اس سے پہلے ہم اس لفظ عشق، عاشق اور معشوق پر بات کریں گے۔
عشق :۔گو کہ المنجد عربی اور درسی اردو لغت وغیرہ میں عشق کا معنی محبت کی انتہا لکھا گیا ہے مگر ہم نے دیکھنا یہ بھی ہے کہ اس لفظ کا استعمال قرآن و حدیث میں کس لحاظ سے کیا گیا ہے؟اب اس معنی کے مطابق جو بندہ نبیﷺ سے محبت بہت زیادہ رکھتا ہے اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ جی نبیﷺسے عشق کرتا ہے جیسے ایک شاعر نے کہا کہ
دل میں عشقِ نبی کی ہو ایسی لگن


اور جب کہ قرآن میں اللہ نے ایسا کوئی بھی فقرہ استعمال نہیں کیا ہے جس سے محبت کی انتہا عشق کا مفہوم لیا جائے بلکہ عشق کا لفظ پورے قرآن میں ہے ہی نہیں ہے۔ ایک آیت میں اللہ کا ارشاد مبارک ہے کہ 
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓااَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ ١٦٥؁
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔البقرہ: ۱۶۵
اس آیت مبارکہ میں اللہ نے لفظ حب استعمال کیا ہے جو کہ اردو میں لفظ محبت کا معنی پیش کرتا ہے اور اس لفظ محبت سے پہلے شدید کا اضافہ فرمایا یعنی جو اللہ سے بہت زیادہ محبت کی انتہا سے محبت کرتے ہیں، اب اس آیت سے بات واضح ہوتی ہے کہ اگر محبت شدید بھی ہو تو بھی لفظ محبت ہی استعمال کرنا ہے نہ کہ اس کی جگہ کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جائے جو اپنے معنی اور مفہوم میں کچھ ایسے مفاہم بھی رکھتا ہو جس سے سوچ کا رخ بدل جائے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 31؀
کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ آلِ عمران: ۳۱
اس طرح قرآن مجید میں کافی زیادہ آیات مل جائیں گی جن میں لفظ محب، حب استعمال ہوا ہے اور اس آیت کو بھی اگر غور سے پڑھا جائے تو یہی سبق ملتا ہے کہ اگر سے محبت کا دعویٰ ہے تو صرف اور صرف محمدﷺ کی اتباع و پیروی کرو، یعنی کسی کا دعویٰ کرنا اپنی جگہ مگر محبت کی پہچان اتباع محمدﷺ میں ہے اب ہر معاملے میں آپﷺ کی ہی پیروی کرنے کا حکم ہےاور اگر عشق کا لفظ محمدﷺ نے استعمال نہیں کیا اور نہ ہی آپﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کبھی ایسا کہا کہ ہم نبیﷺ سے عشق کرتے ہیں تو ہمارے پاس کیا دلیل ہے جو ہم نبیﷺکے بارے میں کہیں کہ ہم عاشقِ رسولﷺ ہیں؟ اور دوسرا اگر یہ اتنا پاکیزہ لفظ ہے تو کوئی اس لفظ کو اپنی ماں اور بہن کے بارے میں استعمال کیوں نہیں کرتا؟کتنی حیران کن بات ہے کہ جو لفظ ہم اپنی ماں ، بہن کے ساتھ لگانا مناسب نہیں سمجھتے وہی لفظ ہم نبیﷺ کی ذات کے ساتھ استعمال کرتے ہیں؟ کیا یہ توہین نہیں ہے؟ کیا کبھی کسی بندے نے یہ بھی کہا ہے کہ میں اپنی ماں کا عاشق ہوں اوریا کہا کہ اپنی بہن کا عاشق ہوں؟ نہیں اور یقیناً نہیں کہا ہوگا کیونکہ ایسا کہنا معیوب سمجھا جائے گا اور لوگ اس کو پاگل کہیں گیں، کیا اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ شخص اپنی ماں اور بہن سے انتہا درجہ کی محبت نہیں رکھتا ؟ نہیں ناں بلکہ سبھی بھائی بیٹے اپنے بہن اور ماں سے شدید محبت کرتے ہیں اور یہ محبت قدرتی امر ہے جو سبھی کو ہوتی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ وہ یہ لفظ عشق اپنی ماں بہن کے ساتھ نہیں لگاتا مگر وہ شخص یہی لفظ نبیﷺ کی ذات کے ساتھ لگاتا ہے؟اوریا پھر عشق مجازی کے ساتھ لگانا مناسب سمجھتا ہے اور اس بات کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ عشق مجازی کیا چیز ہے۔اور عشق کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عشق ایسی محبت کو کہتے ہیں جس میں نفسیانی غلامی بھی شامل ہواسی لیے کسی غیر مرد کا کسی غیر عورت سے میل جول یا محبت کو اصل معنوں میں عشق کہا جاتا ہےکیونکہ وہ مرد یا عورت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات بھول کر اپنے نفس کے غلام اور اپنی نفسیانی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں
عاشق:۔ عاشق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عورت کے عشق میں مبتلا ہو ۔
معشوق:۔ معشوق اس کو کہا جاتا ہے جس عورت سے کوئی شخص عشق کرتا ہے وہ جس عورت سے عشق کرتا ہے کو معشوق کہا جاتا ہے، یہ تینوں لفظ عشق، عاشق اور معشوق عشق مجازی کے زمرے میں آتے ہیں ان کو اللہ اور نبیﷺ کے لیئے استعمال کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہے کہ جس طرح کوئی یہ کہنا مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ یہ کہے کہ میری بہن میری معشوق ہے یا کہ میں اپنی بہن کا عاشق ہوں یا اپنی بہن سے عشق کرتا ہوں تو انہی الفاظ کو نبیﷺکی ذاتِ اقدس کے ساتھ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ اگر ہم اثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی رہنمائی لیں تو بھی ہمیں ایسا لفظ نہیں ملے گا کہ کسی صحابی رسولﷺنے آپﷺسے کہا ہو کہ میں آپﷺ سے عشق کرتا ہوں بلکہ اس کے خلاف آپ کو ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا قیامت کب ہوگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے اس نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:باب:صلہ رحمی کا بیان :آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں
اس کے علاوہ سینکڑوں حدیثیں مل جائیں گی جن میں لفظ حب یعنی محبت استعمال ہوا ہے مگر کوئی ایک بھی ایسی حدیث یا اثر نہیں ملے گا جس میں عشق کو نبیﷺکے ساتھ نسبت دی گئی ہو۔
اب کوئی بھائی یہ نہ کہے کہ عربی زبان میں لفظ عشق ہے ہی نہیں بلکہ یہ حب کا معنی ہے جو اردو عشق کہلاتا ہے تو اس پر بھی ایک حدیث پیش کر دیتا ہوں تاکہ یہ مغالطہ ہی دفع ہو جائے
وعن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " اقرؤوا القرآن بلحون العرب وأصواتها وإياكم ولحون أهل العشق ولحون أهل الكتابين وسيجي بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجع الغناء والنوح لا يجاوز حناجرهم مفتونة قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم " . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم قرآن کریم اہل عرب کی طرح اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھواہل عشق اور اہل کتاب کے طریق کے مطابق پڑھنے سے بچو میرے بعد ایک جماعت پیدا ہو گی جس کے افراد راگ اور نوحہ کی طرح آواز بنا کر قرآن پڑھیں گے۔ ان کا حال یہ ہو گا کہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا (یعنی ان کا پڑھنا قبول نہیں ہو گا) نیز ان کی قرات سن کر خوش ہونے والوں کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ (بیہقی ، رزین)
مشکوۃ شریف:جلد دوم:باب:فضائل قرآن کا بیان :قرآن محض خوش آوازی کا نام نہیں
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لفظ عشق عربی زبان کا بھی لفظ ہے اور اس کا وہی تصور جو اردو میں لیا جاتا ہے عربی میں بھی لیا جاتا ہے یعنی عشقِ مجازی اور دوسرا اس حدیث میں اہلِ عشق کے طریق سے قرآن پڑھنے کی ممانعت آئی ہے کہ جس طرح عشاق اور شعراء اپنی نظمیں وغزلیں اور اشعار آواز بنا کر اور ترنم و سر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور موسیقی اور راگ کے قواعد کی رعایت کرتے ہیں تم اس طرح قرآن کریم نہ پڑھو۔
آخر میں ایک نبیﷺ کا ارشاد پیش کرتا ہوں کہ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک وہ مجھ سے اپنی اولاد اور والدین اور سب لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرئے ۔ متفق علیہ
صحیح مسلم:جلد اول:باب:ایمان کا بیان :اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر والوں والد اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو۔
اس حکمِ رسولﷺ میں جو بات واضح ہوئی وہ یہی ہے کہ اگر کبھی ایسا ہوجائے کہ آپ کی اولاد یا والدین یا کوئی تیسری ہستی آپ کو کچھ ایسا کام کرنے کو کہے جو نبیﷺ کے حکم کے خلاف جاتا ہو تو ایسے موقعہ پر نبیﷺسے محبت کا ثبوت دیں اور وہ کام نہ کریں یہیں سے معلوم ہوگا کہ کوئی کس سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔اور ابھی جو بات پیش کی ہے کہ کبھی بھی یہ نہ کہیں کہ ہم عاشقِ رسولﷺ ہیں بلکہ یہ کہیں کہ ہم محبانِ رسولﷺ ہیں کیونکہ ایسا حکم عشق عاشق اور معشوق ہم کو نبیﷺنے تعلیم نہیں فرمایا اس لیے ہم ان لفظوں کو اللہ اور نبیﷺکی ذات کے ساتھ منسوب نہیں کریں گیں بلکہ وہیں لفظ کہیں گے جو قرآن اور حدیث میں وارد ہوئے ہیں یعنی محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں محبت کرنے والا دل اور نبیﷺکی اتباع کرنے والا جسم عطاء فرمائے آمین۔

Saturday, April 30, 2011

کرکٹ اور جہاد

1 تبصرہ جات
حصہ اول
حصہ دوئم
حصہ سوئم

Friday, April 22, 2011

یونیورسل ڈرائیورز ڈاؤنلوڈ کریں

2 تبصرہ جات
Universal Drivers is a pack of 150000 Windows based hardware drivers.This pack is offered free of cost and without any kind of registrations. A one click download is offered by Virtual Zone Website. To download this pack please visit This URL and click on Download Link. Download size is 296 MB. It is in RAR format. To extract it you need WinRar software that is available for free.




Wednesday, April 20, 2011

اپنے جی میل ہوم پیج کو اردو میں فعال کریں

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اپنے جی میل ہوم پیج کو اردو میں فعال کریں
آج اردو ویب بلاگ سے اردو ٹرانسلٹریشن کی سپورٹ کے بارے میں علم ہوا۔ یہ یقیناً نہایت اہم پیشرفت ہے اور اس طرح اردو میں ای میل بھیجنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ میں اس پوسٹ میں جی میل میں اردو ٹرانسلٹریشن کی فیچر کو فعال کرنے اور اس کے استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہوں۔
اپنے جی میل اکاؤنٹ میں اردو ٹرانسلٹریشن کو انیبل کرنے کے لیے سب سے پہلے Settings پر کلک کرکے سیٹنگز والے صفحے کو سامنے لے آئیں۔ اس کے بعد ذیل کی تصویر کے مطابق Show all language options پر کلک کریں جس سے چند مزید آپشنز ظاہر ہو جائیں گی۔
اضافی لینگویج آپشنز ظاہر ہونے کے بعد Enable Transliteration چیک باکس کو چیک کر دیں اور اس کے سامنے والے ڈراپ ڈاؤن لسٹ باکس میں Urdu کا انتخاب کر لیں جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دائیں سے بائیں ایڈیٹنگ کے لیے Right-to-left editing support on کو بھی منتخب کر لیں۔ اور اس کے بعد ان سیٹنگز کو محفوظ کر لیں۔
آپ کے جی میل اکاؤنٹ میں ٹرانسلٹریشن انیبل ہونے کے بعد جی میل کے ای میل ایڈیٹر کی ٹول بار میں ایک بٹن کا اضافہ ہو جائے گا جس پر کلک کرکے آپ اردو ٹرانسلٹریشن کا انتخاب کر سکتے ہیں جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔
اردو ٹرانسلٹریشن کا انتخاب کرنے کے بعد آپ جی میل کے ایڈیٹر میں براہ راست ٹرانسلٹریشن کے ذریعے اردو لکھ سکتے ہیں جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔



Sunday, April 10, 2011

نفاق کی نشانیاں (ضرور پڑھیں

0 تبصرہ جات




نفاق کی نشانیاں (ضرور پڑھیں)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


اس تحریر کی پی۔ڈی۔ایف فائل ڈاؤنلوڈ کریں


تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے جس نے سب جہانوں کو صرف چھ 6 دن میں پیدا کیا اور اُس سبحان اور اعلٰی ذات کو زرہ سی بھی تھکان نہیں ہوئی اور درود و سلام اور ہزاروں لاکھوں کروڑوں انگنت رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں محمد علیہ السلام پر اُن کی آل پر اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پر۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ Ď۝ۘ
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر مگر وہ ایمان دار ہیں نہیں 
يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝ۭ
وہ اللہ تعالٰی اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔
فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَھُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ ڏ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ 10۝
ان کے دلوں میں بیماری تھی اور اللہ تعالٰی نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
سورۃ البقرہ آیت نمبر ۸،۹،۱۰
جس طرح ایمان اور کفر کی مختلف قسمیں اور صورتیں ہیں اسی طرح " نفاق" کی بھی دو۲ قسمیں ہیں 
اعتقادی نفاق یہی حقیقی نفاق ہے یعنی بظاہر اللہ کی توحید ، رسالت، فرشتے، اور حشر و نشر کے اعتقاد رکھنے کا دعوی کرنا مگر دل سے اس کا انکار کرتا ہے۔ یہی وہ نفاق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔ اسی نفاق کو قرآن مجید نے کفر بھی کہا ہے اور اسی نفاق کے بارہ میں یہ وعید آئی ہے کہ دوزخ میں منافقین کا ٹھکانا کافروں سے بھی نیچے ہوگا، 
عملی نفاق
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص میں چار باتیں ہوں گی، وہ منافق ہوگا یا جس شخص میں ان چاروں میں سے کوئی خصلت ہو گی، تو اس میں نفاق کی خصلت ہو گی، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔
اس حدیث سے عملی نفاق کی وضاحت ہوتی ہے کہ جس میں جتنی زیادہ نشانیاں ہونگی وہ اتنا ہی منافقین کے قریب ہوگا یعنی ایک مسلم کو ڈرایا کہ ان علامات میں سے اپنے اندر کوئی علامت پیدا نہ ہونے دے ورنہ آخرت میں آگ کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
اب ان شاءاللہ اُن نشانیوں پر بات کریں گے جو منافقین کی قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔
بشیر بن خالد، محمد، شعبہ، سلیمان، عبداللہ بن مرہ، مسروق عبداللہ بن عمرو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص میں چار باتیں ہوں گی، وہ منافق ہوگا یا جس شخص میں ان چاروں میں سے کوئی خصلت ہو گی، تو اس میں نفاق کی خصلت ہو گی، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے، جب وہ گفتگو کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے، اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جب جھگڑا کرے تو بد زبانی کرے۔ 
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2297 حدیث مرفوع 
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو چار ۴ نشانیاں بتائیں ہیں۔
نمبر۱۔جھوٹ بولنامنافق کی بڑی نشانی ہے۔بعض لوگ لوگوں کو ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بول جاتے ہیں تو اس سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو منع کیا ہے۔ اس آدمی کے لیے تباہی ہے جو باتوں باتوں میں اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کے لیے ہلاکت ہے۔
مسند امام احمد،جلد ۵ 
جھوٹا شخص ہر حال میں لعنتی ہے خواہ وہ سنجیدگی میں جھوٹ بولے یا مذاق میں۔
جھوٹا پن ایک مسلم کی پہچان نہیں ہو سکتا کیونکہ منافقین اسی جھوٹ کی بدولت اپنے کفر کو چھُپاتے ہیں ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ۔۔۔۔۔
صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کیا مؤمن بودا بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر پوچھا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پوچھا کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ 
موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 2371 
یعنی مومن سے دوسرے گناہ تو ہو سکتے ہیں مگر مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
مگر افسوس بعض لوگ جھوٹ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی اس کو جائز سمجھتے ہوئے حالانکہ قرآن مجید میں اللہ نے جھوٹوں پر لعنت بھی کی ہے اللہ ہم کو ایسے جھوٹوں سے بچا کر رکھے،آمین۔
نمبر۲۔وعدہ خلافی ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان اپنا اعتماد دوسروں کی نظروں میں کھو دیتا ہے اور اعمال نامے میں نفاق کی ایک علامت کا اضافہ بھی کروا لیتا ہے اس لیے اگر آپ کسی سے کوئی وعدہ کریں ساتھ ان شاءاللہ کہیں اور ساتھ یہ وضاحت بھی کر دیں کہ یہ وعدہ نہیں ہے میں کوشش کروں گا کہ کام ہو جائے اگر نہ کر سکا تو معذرت چاہتا ہوں اس طرح اگر وہ کام آپ سے نہ ہو سکے تو آپ پر کچھ گناہ نہ ہوگا۔
نمبر۳۔عہد شکنی۔ چاہے کسی کافر سے بھی کوئی معاہدہ کرے تو بھی اس کے خلاف نہ کرے۔
عبد اللہ بن ہاشم، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خاص طور پر اللہ سے ڈرنے اور جو ان کے ساتھ ہوں ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو عہد شکنی نہ کرو اور مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو اور۔۔۔۔۔الخ
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 25 حدیث مرفوع 
نمبر۴۔گالیاں دینا۔ یہ ایک بہت ہی بُرا فعل ہے گالی دینے میں پہل کرنے والا اصل میں اپنے والدین کو خود گالی دلوانے کا سبب بنتا ہے،
احمدبن یونس، ابراہیم بن سعد، سعد، حمیدبن عبدالرحمن، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔ 
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 913 حدیث مرفوع 
سلیمان بن حرب، شعبہ، منصور، ابووائل، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کا ایک دوسرے کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے، 
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 982 حدیث مرفوع 
اور جو کچھ آج کل ہو رہا ہے اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ نبی علیہ السلام کے ساتھیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دی جاتی ہیں وہ بھی دین اور ثواب سمجھ کر اللہ ان ظالموں کو ہدایت دے اور ان کے مذہب میں یہ لازمی ہے کہ وہ لعان طعان کریں نبی علیہ السلام کے ساتھیوں پر اصل میں یہی لعنت اُنہی پر لوٹ کر واپس آتی ہے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کسی نے کسی مسلم بھائی پر لعنت کی اور وہ لعنتی نہ ہوا تو وہ لعنت کہنے والے پر پلٹ جاتی ہے اور اسی طرح ایک اور ارشادِ نبی ﷺ ہے کہ اگر کسی نے کسی مسلم کو کافر کہا اور وہ کافر نہ ہوا تو کہنے ولا کافر ہو جائے گا 
زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین ابن بریدہ، یحیی بن یعمر، ابواسود، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا۔ 
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 219 حدیث مرفوع 
اب اگر کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے تو یہ الفاظ اسی ظالم پر واپس آ جاتے ہیں اور وہ لعنتی کافر کرار پاتا ہے۔
اللہ ہم کو ایسے بُرے لوگوں سے،بُری صحبت سے بچا کر رکھے آمین۔
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا ١٤٢؁ۡۙ

بیشک منافق اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور یاد الٰہی تو یونہی برائے نام کرتے ہیں ۔سورۃ النسا ۱۴۲
اس ایک آیت میں منافق کی ۳ نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
۱۔عبادت میں کاہلی دیکھانا،
۲۔لوگوں کو دیکھانے کی خاطر نماز ادا کرنا،

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، سلمہ ابن کہیل حضرت جندب علقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی لوگوں کو سنانے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالی اس کی ذلت لوگوں کو سنائے گا اور جو آدمی دکھلاوے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالی اس کی برائیاں لوگوں کو دکھلائے گا۔ 
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2980 حدیث مرفوع 
قیامت کے دن بھی اللہ ایسا کر سکتا ہے اور اس زندگی میں بھی ایسا کر سکتا ہے۔اس زندگی میں کرے تو بھی بدنامی آخرت میں کرے تو اس سے بھی زیادہ نقصان ہوگا۔ اور ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ریاکاری شرک خفی ہے۔
۳۔اللہ کا ذکر بہت کم کرنا،
یحیی بن ایوب، محمد بن صباح، قتیبہ و ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن، حضرت علاء بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر بصرہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ تو منافق کی نماز ہے کہ سورج کو بیٹھے دیکھتا رہتا ہے جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان میں ہوتا ہے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارنے لگ جاتا ہے اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں کرتا مگر بہت تھوڑا۔ 
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1407 حدیث مرفوع 
منافق کی نشانی ہے کہ اللہ کو یاد تو کرتا ہے مگر بہت کم آج ہم کو اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہم اللہ کا کتنا ذکر کرتے ہیں اگر اللہ کو دن میں بلکل ہی یاد نہیں کرتے تو کیا ہم مسلمان کہلانے کا حق رکھتے ہیں؟اللہ کا تو حکم ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ الاحزاب ۴۱
اللہ ہم سب کو ۵ وقت کا نمازی بنائے آمین۔
منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ ایمان والوں پر طعنہ زنی کرتا ہے
اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ ۭ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 79؀

جو لوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے انہی کے لئے دردناک عذاب ہے۔
بشر بن خالد، غند ر، شعبة، سلیمان، ابووائل، ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس وقت ہم لوگوں کو صدقہ خیرات کرنے کا حکم فرمایا تو ابوعقیل آدھا صاع لے کر حاضر ہوئے اور ایک آدمی زیادہ لے کر حاضر ہوا تو اس پر منافقین نے کہا کہ اس (ابو عقیل) کے صدقہ سے اللہ بے نیاز ہے (یعنی اس قدر معمولی صدقہ خیرات کی اس کو کیا ضرورت ہے؟) اور دوسرے شخص نے ریاکاری کے واسطے صدقہ خیرات کیا ہے اس پر یہ آیت تلاوت کی۔
سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 441 حدیث مرفوع 
افسوس کہ آج تک اُن منافقوں کی نسل چلتی آ رہی ہے جو منافق نبی علیہ السلام کی زندگی میں صحابہ کرام کی شان میں گستاخیاں کرنے سے نہیں ڈرتے تھے آج وہ کس سے ڈر سکتے ہیں۔الحمد للہ کہ اللہ نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے یہاں نہیں تو آخرت میں اپنے کیے کا اجر پا کر رہیں گے۔ان شا اللہ
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـَٔـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ١٤١؁ۧیہ امت ہے جو گزر چکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا وہ تمہارے لئے، تم ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے۔ سورۃ البقرہ ۱۴۱
اس اللہ کے حکم کے بعد ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ ہم گزرے ہوئے لوگوں پر لعن طعن کریں اور وہ بھی اصحابِ رسول ﷺ پر اللہ کی پناہ ایسے بُرے عمل سے۔
دین کی باتوں کا مذاق اُڑانا
آج کل جہالت کی بناہ پر بہت سے مسلمان کہلانے والے خود اپنے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں، مثلا کوئی باحیا عورت پردہ کرتی ہے تو اس سے مذاق کیا جاتا ہے کہ وہ دیکھو ڈاکو جا رہی ہے،
اگر کوئی مرد سنت کے مطابق ڈارھی رکھتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ کیا سکھوں کی طرح ڈارھی رکھ لی ہے
)اللہ کی پناہ ایسے کفریہ الفاظ سے(
وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ۭ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ 65؀اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں ۔
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ۭاِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَاۗىِٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ 66؀ۧ

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دینگے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔
سورۃ التوبہ آیت ۶۵۔۶۶
ایک اور بات یہاں کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ آجکل موبائیل پر ایسے لطیفے پوسٹ کیے جاتے ہیں جن میں جنت،جہنم،فرشتوں،نماز،مسجد وغیرہ سے مذاق کیا جاتا ہے اگر ایسا میسج آپ کو ملے تو اس کو فورا مِٹا دیں اور بھیجنے والے کو بھی سمجھائیں کہ یہ کفریہ کام ہے۔
جھوٹی قسمیں کھانا
منافقین کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں حالانکہ دل میں اُن کے کچھ اور ہوتا ہے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَهَاۗءُ ۭ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَهَاۗءُ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ 13۝

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ ہم ایسا ایمان لائیں جیسا بیوقوف لائے ہیں، خبردار ہو جاؤ یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں ۔
وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا ښ وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ 14۝

اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان والے ہیں جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں ، تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف ان سے مذاق کرتے ہیں۔ سورۃ البقرہ آیت ۱۳،۱۴
اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ Ą۝انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راہ سے رک گئے ،بے شک برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔
سورۃ المنافقون آیت ۲
ان آیات میں جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسموں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بتایا گیا ہے۔ ایک مسلم کا ایسا رویہ نہیں ہوتا وہ دل سے ایمان لاتا ہے جیسا کہ کہا کہ ان جیسا ایمان لاؤ ظاہر ہے اشارہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف تو اس جگہ بھی منافقین نے ان کا مذاق ہی اُڑایا یہ شروع سے ہی منافقین کی خاص پہچان رہی ہے کہ جیسے بھی ہو صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کی جائے تو آج بھی آپ اُن کو پہچان سکتے ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ایسے بُرے عمل سے بچا کر رکھے۔آمین
نماز با جماعت سے پیچھے رہنا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشرعبدی، زکریا بن ابی زائدہ، عبدالملک بن عمیر، ابی احوص، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم دیکھتے تھے کہ سوائے منافق کے نماز سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہتا تھا جس کا نفاق ظاہر ہو یا وہ جوبیما رہو اگر بیمار ہوتا تو بھی دو آدمیوں کے سہارے چلتا ہوا نماز پڑھنے کے لئے آجاتا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سنن ہدی سکھایا ہے اور سنن ہدی میں یہ کہ اس مسجد میں نماز پڑھنا کہ جس میں اذان دی جاتی ہو۔ 
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1482 حدیث متواتر حدیث مرفوع 
اس بندے کا معاملہ تو واضح ہے جو ایسے علاقے میں رہتا ہے جہاں مسلم کم ہیں یا جہاں مسجد نہیں ہے وہ گھر میں ہی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ نماز پڑھ لے مگر جہاں مسجد ہو وہاں باجماعت نماز کے لیے نہ جانا نفاق کی پکی علامت ہے۔
اللہ کو بھولنا
اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ لْمَعْرُوْفِ وَيَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ ۭنَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ ۭاِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 67؀

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں، یہ لوگ برائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے روکتے ہیں، اور یہ بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو (ہر کار خیر سے) یہ بھول گئے اللہ کو، جس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو بھلادیا بلاشبہ یہ منافق پکے بدکار ہیں
سورۃ التوبہ آیت ۶۷
اس ایک آیت میں اللہ نے نفاق کی ۴ نشانیاں بتائیں ہیں۔
۱۔بُرائی کا حکم دیتے ہیں،
آجکل میوزک ساز کو جائز اور حلال بتانے والوں کی آپ کو کمی محسوس نہیں ہو گی یعنی کہا جاتا ہے کہ قوالی میوزک کے ساتھ سُننا جائز ہے بلکہ میں نے کئی بار لوگوں کو منع کیا کہ بھائی میوزک اسلام میں حرام ہے تو جواب ملتا ہے کہ یہ قوالی میوزک کے ساتھ سُننا جائز ہے فلاں فلاں مولوی صاحب اس کو جائز کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ دینِ اسلام میں حرام پلید کام ہے مگر جاہل لوگ اس کو دین بنا کر پیش کر رہے ہیں یعنی بُرائی کا حکم دیتے ہیں وہ بھی دین بنا کر یہ اس سے بھی بڑی گمراہی پھلا رہے ہیں۔ 
" حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، راگ وگانا دل میں نفاق کو اس طرح اگاتاہے جس طرح پانی کھیتی کواگاتاہے۔ (بہیقی)
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 741 
ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ میوزک کے جتنے بھی اوزار ہیں وہ سب شیطان کے ہتھیار ہیں جن سے وہ مسلمانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس حدیث کا حوالہ مجھے ابھی یاد نہیں ہے اگر کسی بھائی کو معلوم ہو تو پلیز بتا دے جزاک اللہ۔
اس احادیث کو پڑھنے کے بعد سمجھ آتی ہے کہ میوزک کو کیوں یہ لوگ عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دلوں میں نفاق پیدا ہو جائے۔ اے اللہ تو ہم کو ان ظالموں کی چالوں سے بچا کر رکھنا آمین۔
۲۔بھلائی سے روکتے ہیں،
جب کوئی بُرائی کی دعوت عام کر رہا ہوتا ہے تو اصل میں وہ لوگوں کو بھلائی سے روک کر بُرائی میں لے جارہا ہوتا ہے۔
۳۔خیر کے کاموں سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں،
یعنی اگر کسی غریب کی مدد کا معاملہ آجائے تو کہیں گے کہ ہمارا آجکل گزارہ مشکل سے ہو رہا ہے مگر جب فضولیات کا معاملہ آتا ہے مثلا بسنت،کوئی میلہ ٹھیلہ،کسی دوست کی مہندی کی ہندوانہ رسم،اس طرح کے اور بہت سے کام تو پتا نہیں کہاں کہاں سے پیسے نکل آتے ہیں ہزاروں لاکھوں روپے اسی عیاشی کی نظر کر دیتے ہیں مگر کسی غریب مسکین کی مدد ان سے نہیں ہوتی۔
۴۔اللہ کو بھول گئے۔
جب ایک انسان اپنے مالک خالق کو بھول جاتا ہے تبھی وہ ایسے بُرے کام کرتا ہے اگر ان کو اللہ یاد ہوتا تو ایسے عمل کرنے سے اللہ سے ڈر نہ جاتے۔
اہلِ ایمان کی مشکل میں خوش ہونا۔
اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۚ وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ 50؀

اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آئے تو ان کو یہ امر برا لگتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پڑجائے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا، اور یہ لوٹتے ہیں خوشیاں کرتے ہوئے، سورۃ التوبہ آیت ۵۰
جہاد نہ کرنا یا اس کی تمنا نہ ہونا نفاق کی ایک قسم ہے۔
عبدہ بن سلیمان، ابن مبارک، وہیب، عمر بن محمد بن منکدر، سمی ابوصالح، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اس حال میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ ہی اس کے دل میں جذبہ جہاد پیدا ہوا تو گویا وہ ایک طرح کے نفاق سے مرا۔
کتاب سنن ابوداؤد جلد 2 حدیث نمبر 730 
فحش گوئی اور فضول گپ شپ
حضرت ابوامامہ نبی سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا شرم وحیا اورزبان کو قابو میں رکھنا ایمان کی دوشاخیں ہیں جب کہ فحش گوئی اور لاحاصل بکواس نفاق کی دوشاخیں ہیں۔ (ترمذی)
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 729
منافق بزدل ہوتا ہے۔
وَاِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ۭ وَاِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۭ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ۭ يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۭ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ۭ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ۡ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ Ć۝

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بے خوف نہ رہنا۔ اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ۔سورۃ المنافقون آیت ۴
اس آیت مبارکہ میں منافق کی ۳ نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
نمبر ۱۔ ان کے جسم ظاہر میں بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔
ظاہر میں ان کے جسم تو بہت خوبصورت ہیں مگر دل کی حالت بنجر زمین سے بھی بدتر ہوتی ہے دل کی صفائی ستھرائی کی طرف بلکل ہی توجہ نہیں۔
نمبر ۲۔ جب بات کرتے ہیں تو چرب زبانی اور متکبرانہ انداز۔
نمبر۳۔ بزدل ایسے کہ ہر زور کی آواز سے ڈر جائیں۔

منافق بزدل ہوتا ہے اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے مگر جو ظالم صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو اس صف میں کھڑا کرتے ہیں وہ ظالم غزوہ بدر، غزوہ اُحد، غزوہ حنین، غزوہ خندق اور نبی علیہ السلام کی زندگی میں جتنے بھی غزوے اور سریہ ہوئے اور آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی جتنی جنگیں ہوئیں اُن سب میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی بہادری، شجاعت بھول گئے ہیں؟ کہاں ۳۱۳ اور کہاں ۱۰۰۰،کہاں ۳۰۰۰ مسلمین اور کہاں کفار ۱۰ ہزار، ایرانی آتش پرستوں اور رومیوں کے ساتھ جنگوں میں بھی ایک مسلم کا مقابلہ ۱۰۔۱۰ مشرکوں سے تھا پھر بھی الحمد للہ مسلمین کو فتح نصیب ہوئی اور ایرانی آتش پرستوں اور رومی عیسائیوں کو شکستِ فاش ہوئی یہ سب کچھ اللہ کی نصرت اور مدد سے ہی ممکن ہوا تھا اور اللہ کی مدد مومنین مسلمین کے ساتھ ہوتی ہے نہ کے منافقین کے ساتھ۔اصل میں جب انسان کی عقل پر تعصب کا پردہ پڑ جاتا ہے تو وہ خوبیاں نہیں بلکہ خامیاں تلاش کرتا ہے،
بیعتِ رضوان کے دن اللہ نے یہ خوشخبری نازل کی۔۔۔۔۔۔۔
لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا 18؀ۙ
بے شک الله مسلمانوں سے راضی ہوا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے پھر اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلو ں میں تھا پس اس نے ان پر اطمینان نازل کر دیا اور انہیں جلد ہی فتح دے دی
سورۃ الفتح آیت نمبر ۱۸
علی بن عبداللہ مدینی، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: آج تم تمام زمین والوں سے افضل ہو۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اس دن چودہ سو آدمی تھے۔ اگر آج میں بینا ہوتا تو تم کو درخت کی جگہ بتاتا اس حدیث کو سفیان کے ساتھی اعمش بھی بیان کرتے ہیں انہوں نے سالم بن ابی جعد سے سنا اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ چودہ سو آدمی تھے۔ 
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1323 حدیث مرفوع 

قتیبہ بن سعید، حاتم، یزید بن ابی عبید سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع سے کہا کہ تم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کس اقرار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی تھی وہ کہنے لگے ہم نے موت پر بیعت کی تھی۔ 
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1335 حدیث مرفوع 
آیت اور احادیث سے اس بات کی وضاحت ہوئی کہ اللہ ان ۱۴۰۰ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے دلوں میں ایمان کو جان لیا اور ان سے راضی ہوا اور آپ سب بھائی بہنیں جانتے ہونگے کہ عبداللہ بن ابی جس کو منافقوں کا سردار کہہ لیں وہ اپنے سب منافق ساتھیوں کو ساتھ لے کر واپس مدینہ چلا گیا تھا بیعت رضوان کے وقت ایک بھی منافق نبی علیہ السلام کے ساتھ نہیں تھا اللہ نے خود ہی حکمت سے ان کو مومنین سے علیحدہ کروا دیا تھا۔
۱۴۰۰ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے موت پر بیعت کی کیا کوئی بزدل ایسا قدم اُٹھا سکتا ہے؟ یقینا ڈرپھوک منافق ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے علاوہ اور بہت سی قرآن کی آیات اور احادیث مبارکہ ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی فضیلت بیان ہوئی ہے شانِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم تھریڈ میں سب داخل کروں گا ان شاءاللہ۔
انصار (صحابہ کرام) سے دشمنی نفاق کی نشانی۔
ابوالو لید، شعبہ، عبد اللہ بن جبیر، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (نقل کرتے ہیں) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انصار سے محبت کرنا ایماندار ہونے کی نشانی ہے اور انصار سے دشمنی رکھنا منافق ہونے کی علامت ہے۔
کتاب صحیح بخاری جلد 1

محمد بن مثنی، عبدالرحمن، ابن مہدی، شعبہ، عبد اللہ بن عبد اللہ بن جبیر حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا منافق کی علامت انصار سے بغض ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے۔
کتاب صحیح مسلم جلد 1 حدیث نمبر 237
نبی علیہ السلام کے ان ارشادات پر کوئی تشریح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
نفاق سے بچنے کی دعا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السُّلَيْکِ عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو يَقُولُاللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوئِ الْأَخْلَاقِ 


عمرو بن عثمان، ضبارہ بن عبد اللہ بن ابی سلیک، دوید بن نافع، ابوصالح سمان، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عداوت سے، نفاق سے، اور بد اخلاقی سے۔
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1533 حدیث مرفوع

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے چلائے اور کفار اور منافقین کی چالوں سے،ان کی گمراہیوں سے ہم کو بچا کر رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Thursday, April 7, 2011

Saturday, April 2, 2011

مظلوم بہن کی پکار

0 تبصرہ جات