Sunday, November 15, 2015

ماڑے دی مار گئی ماں!!!

0 تبصرہ جات

آپ کیا سمجھتے تھے کہ ایسا صرف آپ کے
پنڈ وِچ ای ہوندا اے؟؟؟
نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کا ایسا ہی دستور ہے!!!!!
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ 175 لوگوں کا خون مہنگا ہونا چاہیے یا کہ 35 لاکھ لوگوں کا خون مہنگا ہوگا؟؟؟
عیسائی کافروں نے پچھلے صرف 14 سالوں میں افغانستان، عراق، شام، افریقہ، پاکستان، برما اور فلسطین میں 35 لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے مگر ایسا دُکھ اور افسوس ہم مسلمانوں کو بھی نہیں ہوا ہوگا جتنا آج عیسائی کافروں کے مرنے پر کر رہے ہیں۔
بقول علامہ اقبال
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلمان کی موت مر

Friday, June 19, 2015

روزہ کی حالت میں برے اعمال سے بچیں

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا مَیں آپ ہم سب نبیﷺ کے ان احکامات پر عمل کرتے ہیں؟؟؟ اگر نہیں تو آج ارادہ کریں آئندہ ہم ان احکامات پر عمل کریں گے ان شاءاللہ
روزہ دار ہر معاملے میں صبر و برداشت کا مظاہرہ کرے کیونکہ نبی ﷺ کا یہی حکم ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو نہ شور مچائے اور نہ فحش باتیں کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار آدمی ہوں۔

Wednesday, June 17, 2015

جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

0 تبصرہ جات


بسم اللہ الرحمن الرحیم
حدیث:۔3
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Narrated 'Abdullah:
The Prophet said, "Whoever carries arms against us, is not from us."

صحیح بخاری:جلد سوم:باب:خون بہا کا بیان :اللہ تعالیٰ کا قول ومن احیاھا کی تفسیر۔
تشریح:۔
بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ جس نے بھی مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا یعنی مسلمانوں کا قتل کیا، آجکل اس کی وباء کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی ہے ایک کلمہ گو اپنے کلمہ گو بھائی کو ہی قتل کر رہا ہے اس بارے نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ::: قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں، ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (قاتل تو خیر دوزخ میں ہی ہونا چاہیے) لیکن مقتول کیوں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا صحیح بخاری:جلد سوم::: اس فرمان رسول ﷺ سے واضح ہوا کہ قاتل اور مقتول جو لڑائی میں مارے جائیں دونوں جہنمی ہیں، اس لیے بھائیو کبھی کسی مسلم سے نہ لڑنا نہ ہی کبھی کسی مسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کرنا اگر کوئی مسلمان آپ کو قتل کرنے آ جائے تو بھی آپ اس کو قتل کرنے کے لیے نہ اُٹھنا کیونکہ اس طرح آپ اور وہ دونوں ایک جیسے ہو جاؤ گے بلکہ ایسی صورت میں آدم کے بیٹے کی طرح بن جانا اور کہنا کہ اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤ گے تو میں ایسا نہیں کرونگا اگر تو پھر بھی مجھے قتل کرتا ہے تو میرے سبھی گناہ بھی تیرے کھاتے جائیں گے،
موجودہ دور شدید ترین فتنوں کا دور ہے ایک عام مسلمان سمجھ ہی نہیں پا رہا کہ ہو کیا رہا ہے، اس وقت بہترین طریقہ یہی ہے کہ انسان نبیﷺ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے سبھی فرقوں سے لاتعلق ہوجائے اور اپنے آپ کو ان فتنوں سے بچالے ورنہ اگر کسی بھی فرقے میں ہوا تو کل قیامت کے دن اسی فرقے کے ساتھ اس کا حشر ہوگا۔
اور اس وقت کے مطابق جوجامع حدیث ہمیں ملتی ہے اس کو پڑھتے ہیں۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں آپ سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہیں وہ مجھے نہ پالے چنانچہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم جاہلیت اور برائی میں تھے، اللہ نے ہمارے پاس یہ خیر بھیجی تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، میں نے پوچھا کہ اس شر کے بعد بھی خیر ہوگا، آپ نے فرمایا کہ ہاں اور اس میں کچھ دھواں ہوگا میں نے پوچھا کہ اس کا دھواں کیا ہوگا آپ نے فرمایا کہ وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ میرے طریقے کے خلاف چلیں گے ان کی بعض باتیں تو تمہیں اچھی نظر آئیں گی اور بعض باتیں بری نظر آئیں گی، میں نے پوچھا کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا ہاں، کچھ لوگ جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ اس کو جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ان لوگوں کی کچھ حالت ہم سے بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا کہ وہ ہماری قوم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے میں نے عرض کیا کہ اگر میں وہ زمانہ نہ پالوں، تو آپﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہو، میں نے کہا کہ اگر جماعت اور امام نہ ہو تو فرمایا کہ ان تمام جماعتوں سے علیحدہ ہوجاؤ اگرچہ تجھے درخت کی جڑچبانی پڑے یہاں تک کہ اس حال میں تیری موت آجائے۔
صحیح بخاری:جلد سوم:باب: فتنوں کا بیان :جب جماعت نہ ہو تو کیونکر معاملہ طے ہو؟

میں سمجھتا ہوں آجکل کے فتنوں سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ بندہ قرآن اور سنت کے مطابق عمل کرتے ہوئے سبھی فرقوں سے لاتعلق ہو جائے ، خود کو کسی ایک فرقہ کے ساتھ نتھی نہ کرے بلکہ جو کوئی فرقہ بھی بات قرآن و سنت کے مطابق کرے وہ مانے باقی کا انکار کرے ، حق کی دعوت دے باطل کے آگے ڈٹ جائے۔

رجب کی بدعات و خرافات سے دور رہیں

0 تبصرہ جات
رجب کی بدعات و خرافات سے دور رہیں

====================

رجب کے مہینے میں طرح طرح کے بدعات و خرافات انجام دئے جاتے ہیں ، آپ حضرات سے گذراش ہے کہ خود بھی ان بدعات سے دور رہیں اور اپنے سماج کو بھی ان خرافات سے نجات دینے کی حتی السعی کوشش کریں۔

رجب کی چند معروف و مشہور بدعات:

1⃣بدعت: رجب کے مہینہ میں کثرت سے عمرہ کرنا: 
حقیقت :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں کبھی عمر نہیں کیا ہے (صحیح بخاری باب:٣ حدیث: ١٧٧٦)۔

2⃣بدعت :ماہ رجب میں بالخصوص روزے رکھنا:
حقیقت:اس مہینہ کے روزوں سے متعلق تمام روایات ضعیف وموضوع ہیں۔

3⃣بدعت : ستائسویں رات کو قیام کرنا،نماز شب معراج پڑھنا، محفلیں منعقد کرنااور واقعہ معراج پڑھنا کہ یہ اسراء ومعراج کی رات ہے:
حقیقت : تاریخ معراج سے متعلق مؤرخین کے چھ اقوال ہیں.(الرحیق المختوم:197)
اس لئے واقعہ معراج کیلئے ستائسویں رجب ہی کومعین کرنا بہر صورت درست نہیں،بفرض محال اگر مان بھی لیا جائے تو اس رات قیام اور دوسرے اعمال کی مشروعیت کی کوئی دلیل نہیں۔

4⃣بدعت : پہلے رجب کو ہزاری نماز پڑھنا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

5⃣بدعت :پندرہویں رجب کو ام داؤد کی نماز پڑھنا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

6⃣بدعت : رجب کے جمعہ کی پہلی رات بارہویں نماز پڑھنا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

7⃣صلاۃ الرغائب پڑھنا: 
حقیقت :اس نماز سے متعلق ساری روایتیں موضوع ہیں۔

8⃣بدعت : معاجن رجب،، یعنی بعض لوگوں کا ماہ رجب کی 22تاریخ کو امام جعفر صادق کی نیاز کے طور پر کھیر پکانا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

9⃣بدعت : 22رجب کو کونڈے بھرنا:
حقیقت : یہ بدعت1906ء میں ریاست رامپور میں امیر مینائی لکھنوی کے خاندان میں پیدا ہوئی ہے ۔

🔟بدعت : مردوں کی روحوں کی طرف سے صدقات وخیرات کرنا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

1⃣1⃣بدعت : بالخصوص اس ماہ قبروں کی زیارت کرنا،خاص کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

2⃣1⃣بدعت :مخصوص دعائیں پڑھنا:
حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

اللہ تعالی ہمیں بدعات وخرافات سے کوسوں دور رکھے اور سنت صحیحہ کے مطابق عمل کی توفیق بخشے ۔ آمین

Tuesday, June 16, 2015

طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ذمہ داری قبول کر لی
---------------

دنیا میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں دہشت گرد گروہ موجود ہیں جو دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ امریکہ، یورپ، افریقہ اور بھارت میں بھی ایسے حادثات پیش آتے رہتے ہیں مگررررر کبھی بھی دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے واقعہ کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی بلکہ وہاں کا میڈیا الزامی طور پر کہتا ہے کہ یہ کاروائی فلاں گروپ کی ہوسکتی ہے 
مگر افسوس صد افسوس کہ پاکستان کا میڈیا پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی کی ذمہ داری یہ کہہ کر اسلام پسندوں پر ڈال دیتا ہے کہ 
طالبان نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے!!!
مجھ نا سمجھ کو کوئی بتائے کہ طالبان اتنے جاہل و کم عقل ہیں کہ وہ جرم کر کے خود ہی کہیں ہم ہیں مجرم!!!
پاکستان کی سب سے بڑی دہشت گرد جماعت ایم-کیو-ایم ہے آپ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ الطاف کالیہ میڈیا پر آکر سرعام پاکستان آرمی کو اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو دھمکیاں دیتا ہے اور بھارت جیسے دشمن ملک سے پاکستان کے خلاف مدد مانگتا ہے مگر اس سب کے باوجود کبھی بھی کسی بھی حملہ یا دہشت گردی کی کاروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا!!! حالانکہ اس کے کارندوں نے صرف کراچی میں درجنوں یا سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بےگناہ لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے اگر ان کا کوئی دہشت گرد گرفتار بھی ہوجائے تو یہ اس سے اظہارِ لاتعلقی ظاہر کرکے جان چھوڑا لیتے ہیں مگرررر آج تک کسی بھی حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
مجھے کوئی سمجھائے یہ طالبان کیسے ہر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں بلکہ ان حملوں کی بھی جن کے شواہد کسی اور کی جانب اشارہ کر رہے ہوتے ہیں!!!؟؟؟
اپنے اصل دشمن کو پہچانیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کا بےدین، سیکولر، لبرل اور غدار میڈیا ہے، پاکستان میں بدامنی اور فحاشی پھیلانے میں اسی کافر میڈیا کا ہاتھ ہے۔
اپنے گھروں کو اس شیطان ٹی وی سے پاک کرکے اپنی نسلوں کو اس کے شر سے بچالیں۔

Friday, January 9, 2015

گستاخان رسول کے سروں پر بجلی بن کر کوندنے والوں کو سلام ہو !!

0 تبصرہ جات
یہ گلدستہ چاکِ گریباں ، یہ فدایانِ نبی اخر الزمان جو ''فداک یا رسول اللہ'' کےنعرے نہیں لگاتے، فدا ہو کر دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرانس کے ملعون کرگسوں پر جھپٹنے والے وہ دو شاہین، وہ عظیم مجاہد جنہیں کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔ مبارک اور سلام غازی علم الدین اور عامر چیمہ کے روحانی فرزندوں پر جنہوں نے آقا مدنی ﷺ کی گستاخی کرنے والے ملعونوں کو جہنم واصل کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبارک صد مبارک کہ خودآنجناب ﷺ گستاخ رسول کعب بن اشرف کو جہنم واصل کرنے والے کمانڈر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر مدینہ طیبہ میں نور الدین زنگی گستاخ یہودیوں کے سر تن سے جُدا کرتا نظر اتا ہے اور اہل مدینہ اس کے لیے سراپا دعا بنے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر صلاح الدین ایوبی کسی ریجینالڈ کو یہ کہہ کر قتل کرتے نظر آتا ہے کہ ''تم حاجیوں کو کہا کرتے تھے نا بڑے آئے محمد کے ماننے والے جاؤ اپنے نبی کو بلا کر لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔''

پھر کوئی علم الدین سنائی دیتا ہے کہ ''میں عدالت میں کیسے کہہ دوں کہ میں نے گستاخ کو قتل نہیں کیا ہے ، کل قیامت کو آقا کو کیا منہ دکھاؤں گا !!! "

پھر کوئی عامر چیمہ فانی ڈگری کو لات مار کر عشق رسول کی ڈگری کا امتحان پاس کرتا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر کوئی محمد بویری کانوں میں گونجتا ہے کہ '' اگر مجھے سو بار موقع ملے تو سو بار یہی کروں گا''۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور آج اہل ایمان کے سروں کے تاج ، ایمان و عمل کی رمز اور استقامت اور نصرت رسول اللہ کے امین یہ دو جانباز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام ہو !

نصرتِ رسول اللہ ﷺ کا حق ادا کرنے والوں کو سلام ہو !

گستاخان رسول کے سروں پر بجلی بن کر کوندنے والوں کو سلام ہو !!

اے محمد بن مسلمہ کے شہسوارو مبارک ہو،اے ایوبی و زنگی کے بیٹو سلام ہو!!!

نماز اچھی روزہ اچھا حج اچھا زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
اللہ شاہد کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

Wednesday, December 17, 2014

جہاد کے دوران کافروں کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم 

نبی ﷺ اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم جب بھی جہاد و قتال کے لیے لشکر روانہ کرتے تو ان کو یہ خاص طور پر نصیحت فرماتے کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا 
اب ایک مجاہد کیسے نبی ﷺ کی نصیحت کے خلاف عمل کرسکتا ہے؟؟؟
یہ کام مجاہدین کا نہیں بلکہ کافروں کے ایجنٹوں کا ہے جو جہاد اور مجاہدین کو  بدنام کرنے والے ہیں
عوامی مقامات پر حملے کرنے والے مسلمان نہیں ہیں را، موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ کافر ہی ہیں۔
اب احادیث پیش کرتا ہوں 
یحیی بن سیعد سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے شام کو لشکر بھیجا تو یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل چلے اور وہ حاکم تھے ایک چوتھائی لشکر کے؛ تو یزید نے ابوبکر سے کہا آپ سوار ہو جائیں نہیں تو میں اترتا ہوں، ابوبکر صدیق نے کہا نہ تم اترو اور نہ میں سوار ہوں گا ، میں ان قدموں کو اللہ کی راہ میں ثواب سمجھتا ہوں پھر کہا یزید سے کہ تم پاؤ گے کچھ لوگ ایسے جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں کو روک رکھا ہے اللہ کے واسطے سو چھوڑ دے ان کو اپنے کام میں اور کچھ لوگ ایسے پاؤ گے جو بیچ میں سے سر منڈاتے ہیں تو مار ان کے سر پر تلوار سے اور میں تجھ کو دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں عورت کو مت مار اور نہ بچوں کو نہ بڈھے پھونس کو اور نہ کاٹنا پھل دار درخت کو اور نہ اجاڑنا کسی بستی کو اور نہ کونچیں کاٹنا کسی بکری اور اونٹ کی مگر کھانے کے واسطے اور مت جلانا کھجور کے درخت کو اور مت ڈبانا اس کو اور غنیمت کے مال میں چوری نہ کرنا اور نامردی نہ کرنا ۔ امام مالک نے روایت نقل کی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں میں سے ایک عامل کو لکھا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کی یہ روایت پہنچی ہے؛ کہ جب فوج روانہ کرتے تھے تو کہتے تھے ان سے جہاد کرو اللہ کا نام لے کر، اللہ کی راہ میں تم لڑتے ہو ان لوگوں سے جہنوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ، نہ چوری کرو نہ اقرار توڑو نہ ناک کان کاٹو نہ مارو بچوں اور عورتوں کو اور کہہ دے یہ امر اپنی فوجوں اور لشکروں سے، اگر اللہ نے چاہا تو تم پر سلامتی ہوگی۔ 
موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 881 باب:بچون اور عورتوں کو مارنے کی ممانعت لڑائی میں 

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 50 
 عبداللہ   رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کسی غزوہ میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے کو ناپسند فرمایا۔
________________________________
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 51 
 ابن عمر   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ کسی غزوہ میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
________________________________
سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 902 
 عبداللہ بن عمر   رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک جنگ میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا جو قتل کردی گئی تھی تو آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت فرما دی

Friday, October 3, 2014

خبردار یہودیو امت تیار ہے !!!

0 تبصرہ جات
خبردار یہودیو امت تیار ہے !!!

اور وہ قوموں کے لیے دور سے جھنڈا کھڑا کرے گا

اور ان کو زمین کی انتہا سے للکار کر بلائے گا

اور دیکھ وہ دوڑے چلے آئیں گے

نہ کوئی ان میں تھکے گا نہ پھسلے گا

نہ کوئی اونگھے گا نہ سوئے گا

نہ ان کا کمر بند کھلے گا اور نہ ان کی جوتیوں کا تسمہ ٹوٹے گا

ان کے تیر تیز ہیں اور ان کی سب کمانیں کشیدہ ہوں گی

ان کے گھوڑوں کے سُم چقماق

اور ان کی گاڑیاں گردباد کی مانند ہوں گی

وہ شیرنی کی مانند گرجیں گے

ہاں وہ جوان شیروں کی طرح دھاڑیں گے

وہ غرا کر شکار پکڑیں گے

اور اسے بے روک ٹوک لے جائیں گے

اور کوئی بچانے والا نہ ہوگا

اور اس روز وہ ن پر ایسا شور مچائیں گے

جیسا سمندر کا شور ہوتا ہے

اور اگر اس ملک(اسرائیل) پر نظر کرے تو بس اندھیرا اور تنگ حالی ہے

اور روشنی اس کے بادلوں سے تاریک ہو جاتی ہے

(یسعیاہ 5: 26۔ 30 )

ابھی نشانی کا پہلا حصہ مکمل ہوا کہ قوم یہود کو ایکدم ہوش آگیا بلاشبہ شیطان صدیوں کی پلاننگ پہلے ہی کرچکا ہوتا ہے شام میں شیر غرانے لگے اور اثر مسجد اقصی میں محسوس ہونے لگا یہود کو علم ہوگیا کہ وقت قریب آن پہنچا ہے مسیح الدجال کو آواز دینے کا وقت جو کے ان شیروں کے مقابلے پر انکا آخری سہارا ہے گولان کی پہاڑیوں سے شام میں ہوتے ہوئے معرکوں کی خبر انکے دلوں کو دہلائے دے رہی ہے ! یہودی مسجد اقصی کی پائمالی پر ایک بار پھر تل گئے ہیں تاکہ اس جگہ پر اپنا ہیکل سیلمانی قائم کرلیں جو کے ان کے نزدیک مسیح الدجال کے ظہور سے پہلے ہونا ضروری ہے لیکن اے دجال کے پیروکاروں پھر سن لو تمہارے اپنے صحفیے پکار رہے ہیں 

ایک بڑی اور زبردست امت

جس کی مانند نہ کبھی ہوئی

اور نہ سالہائے دراز تک اس کے بعد ہوگی

پہاڑوں پر صبح صادق کی طرح پھیل جائے گی

گویا ان کے آگے آگے آگ بھسم کرتی جاتی ہے

اور ان کے پیچھے پیچھے شعلہ جلاتا جاتا ہے

ان کے آگے زمین باغِ عدن کی مانند ہے

اور ان کے پیچھے ویران بیابان ہے

ہاں ان سے کچھ نہیں بچتا

ان کی نمود گھوڑوں کی سی ہے

اور سواروں کی مانند دوڑتے ہیں

پہاڑوں کی چوٹیوں رتھوں کے کھڑکھڑانے

اور بھوسے کو بھسم کرنے والے شعلہِ آتش کے شور کی مانند

بلند ہوتے ہیں۔وہ جنگ کیلئے صف بستہ زبردست قوم کی مانند ہیں

ان کے روبرو لوگ تھرتھراتے ہیں

سب چہروں کا رنگ فق ہو جاتا ہے

وہ پہلوانوں کی طرح دوڑتے

اور جنگی مردوں کی طرح دیواروں پر چڑھ جاتے ہیں

سب اپنی اپنی راہ پر چلتے ہیں

اور صف نہیں توڑتے

وہ ایک دوسرے کو نہیں دھکیلتے

ہر ایک اپنی راہ پر جلا جاتا ہے

وہ جنگی ہتھیاروں سے گزر جاتے ہیں

اور بے ترتیب نہیں ہوتے

وہ شہر میں کود پڑتے اور دیواروں اور گھروں پر چڑھ کر چوروں کی طرح

کھڑکیوں سے گھس جاتے ہیں

(یو ایل 2: 2۔9 )

خبردار امت چڑھ آنے کے ليے تیار ہے !!

Thursday, September 18, 2014

جو شخص ذوالحج کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ھو'

0 تبصرہ جات
نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو شخص ذوالحج کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ھو'
اسے چاہیے قربانی کرنے تک نہ اپنے بال کٹواۓ اور نہ اپنے ناخن تراشے.
حوالہ حدیث:
(سنن نسائی
کتاب الضحایا)

Sunday, August 24, 2014

اے جان اگر تم ساتھ نہ دو تو تنہا ہم سے کیا ہو گا؟؟؟

0 تبصرہ جات

اے جان اگر تم ساتھ نہ دو تو تنہا ہم سے کیا ہو گا
تم آؤ فرض بلاتا ہے دنیا میں تغیر آتا ہے
اک طوفاں جوش دکھاتا ہے اک فتنہ شور مچاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ ابھی آزاد نہیں ذہنوں کی غلامی باقی ہے
تقدیر کی شفقت سے حاصل تدبیر کی خامی باقی ہے
سینوں کے حرم سونے ہیں ابھی امیدوں سے آباد نہیں
چہروں کی چمک اک دھوکا ہے کوئی بھی جوانی شاد نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مغرب کے اصولوں بندھن افسوس نہ اب تک ٹوٹ سکے
ہم کہنہ مشق بھکاری ہیں مشکل ہے کہ عادت چھوٹ سکے
کب بویا اپنا بیج کوئی جو نم پائے اور پھوٹ سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقلید کے ایسے خوگر ہیں آزاد روی سے ڈرتے ہیں
اغیار لکیریں کھینچ گئے ہم لوگ فقیری کرتے ہیں
محنت سے کمائی کی نہ کبھی خیرات سے جھولی بھرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دور غلامی بیت گیا ملت کی خودی کو پیس گیا
ہم جیت کے بازی ہار گئے اور دشمن ہار کر جیت گیا
ایسے میں گو مایوس نہیں بڑھنے کی ہمت کرتے ہیں
پر آپ سے بھید چھپائیں کیا دل بیٹھ نہ جائے ڈرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زنداں جو فرنگی حکمت کا دو صدیوں میں تعمیر ہوا
اب اس پہ سنگيں پہرے ہیں یہ ایک اٹل تقدیر ہوا
ہم اسکے نگہباں ہیں خود ہی ہم آپ ہی پہرے دار اسکے
ہم اسکے پجاری ہیں اب تک وہ جا بھی چکے معمار اسکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرنگ نے جانے سے پہلے یاں انڈے بچے دے ہی دئیے
باطل نے وراثت بھی چھوڑی اور ساتھ ہی وارث چھوڑ دئیے
باہر کے فرنگی بھاگ چکے اب گھر کے فرنگی باقی ہیں
قرآن کے تھے جو لوگ امیں وہ کفر کی مے کے ساقی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس دین پہ اپنا ایماں ہے اس دین کی یہ تذلیل کریں
قرآں کے حقائق کو ظالم تاویلوں سے تبدیل کریں
کیا ہم یہ سہہ بھی سکتے ہیں؟ کیا ہم چپ رہ بھی سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ملت احمد مرےل کو ان باطل کے معماروں کی
تعمیلوں سے ٹکرانا ہے طوفانوں سے لڑ جانا ہے
اے ملت احمد مرسل تم اک قوت تھے کیا بھول گئے؟
تم طاقت تھے تم جرات تھے، تم اک پرجوش شجاعت تھے
تم عظمت، شوکت، رفعت تھے، تم رحمت، راحت، شفقت تھے
تم اک بارعب شجاعت تھے، تم عظمت انسانیت تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اتنی بات بتاؤ تم کیا عذر تراشو گے اس دن
جب حشر میں پوچھا جائے گا کیا اپنے قوی سے کام لیا؟
جب کفر سے دیں کی ٹکر تھی تو تم نے کسکا ساتھ دیا؟
تھا پاس خزانہ قوت کا وہ کس مقصد پہ صرف کیا؟
اس وقت کہو گے کیا بولو؟ آنکھیں تو اٹھاؤ لب کھولو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے جان اگر تم ساتھ نہ دو تو تنہا ہم سے کیا ہو گا
اے جان اگر تم ساتھ نہ دو تو تنہا ہم سے کیا ہو گا

Sunday, August 3, 2014

شھید تم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا

0 تبصرہ جات
شھید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

لہو ہمارا بھلا نہ دینا
قسم ہے تم کو اے سرفروشو !
عدو ہمارا بھلا نہ دینا !

وہ اجڑا گلشن ویران گلیاں

وہ جلتے باغ اور اداس کلیاں
ہماری ماؤں کے بہتے آنسو
قسم ہے تم کو بھلا نہ دینا !

جنہوں نے گلشن کے پھول مسلے

حسین چمن کی ہیں کلیاں روندی
وہ ہاتھ پاؤں ہی کاٹ ڈالو
یہ فرض اپنا بھلا نہ دینا

شھید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

لہو ہمارا بھلا نہ دینا


وضو ہم اپنے لہو سے کرکے

خدا کے ہاں سرخرو ہیں ٹھہرے
ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں
تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

شھید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

لہو ہمارا بھلا نہ دینا
قسم ہے تم کو اے سرفروشو !
عدو ہمارا بھلا نہ دینا

لبیک یا اللہ ! لبیک یا ربی !

اللھم انصرالمجاہدین فی کل مکان آمین یا رب العالمین

Tuesday, July 29, 2014

عیدالفطر میں نماز سے پہلے اور بقر عید میں نماز کے بعد کھانا پینا چاہیے

0 تبصرہ جات

بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ 
عید کے دن بغیر کچھ کھائے پئے عید گاہ تشریف نہیں لے جاتے تھے ۔ اور بقر عید کے دن بغیر نماز پڑھے کچھ نہیں کھاتے پیتے تھے۔" (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ، دارمی)
مشکوۃ شریف:جلد اول:باب:عیدالفطر میں نماز سے پہلے اور بقر عید میں نماز کے بعد کھانا پینا چاہیے

تقبل اللہ منا ومنکم

0 تبصرہ جات
سب اہلِ ایمان کو السلام علیکم ورحمۃ 

تقبل اللہ منا ومنکم
میری طرف سے سبھی مسلمانوں کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں،
یااللہ جو مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں ان سب کو ظلم و ستم سے نجات دے آمین
یااللہ جو مسلمان ظالموں کی قید میں ہیں ان کو قید سے رہائی عطاء فرما، آمین
یااللہ جو مسلمان کسی بیماری کمزوری کا شکار ہیں ان سب کو شفاء کاملہ عطاء فرما، آمین
یااللہ جو مسلمان کسی پریشانی، دُکھ و مصیبت میں ہیں ان سب کو ان مصیبتوں سے نجات دے آمین
یااللہ جو مسلمان قرض میں مبتلا ہیں ان کو قرض سے نجات عطا فرما، آمین
یااللہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو قرآن و صحیح حدیث کے مطابق حل کروانے میں مدد فرما، آمین
یااللہ مجاہدین اسلام کی مدد فرما ، آمین
یااللہ مجاہدین میں اتحاد اور اتفاق پیدا فرما دے ،آمین
یااللہ مجاہدین اسلام کو قوت و طاقت عطا فرما کہ وہ ظالم کافروں کے ہاتھ کاٹ سکیں، آمین یا رب العالمین

Wednesday, July 23, 2014

کاش کے ان ننھے شہدا کے پہلو میں میری بھی قبر ہو

0 تبصرہ جات
میرے بچوں اور بچیوں !

میں عید بھیجوں گا 
کھلونے بھی اور گڑیاں بھی 
کاریں بھی اور ریلیں بھی 
پانی والی پستولیں بھی 
ریموٹ کنٹرول ربورٹ بھی 
سپر مین کا پتلا بھی ، بیٹ مین کا لباس بھی 
میں سب کچھ بھیجوں گا ان شاءاللہ 
مگر تم نہ ہوگئے !! غزہ کے کسی میدان میں 
دمشق کے کسی نخلستان میں ،
عراق کے ریگستان میں 
برما کے دریا میں 
وزیرستان کے کسی پربت میں 
تم نے قبریں سجا لیں ہیں !! تم نے سوچا بھی نہیں 
تم نہ ہوگئے تو عید کیسے ہوگی ؟؟
میں کس کو گلے لگاوں گا ؟؟؟
عیدی کون مانگے گا؟؟ 
مجھ پر پانی کون پھینکے گا ؟؟
عید کے میدان میں میرے پہلو میں کون کھڑا ہوگا ؟؟
کون ریل ، کار ، روبوٹ کے سیل مانگے گا ؟؟
سپر مین بن کر کون آئے گا ؟
لیکن میں پھر بھی بھیجوں گا ، تمہاری قبروں پر کھڑا ہوکر 
سر جھکا کر ، کھلونوں کو انکو اوپر رکھ کر 
میں دعاکروں گا ، کاش کے ان ننھے شہدا کے پہلو میں میری بھی قبر ہو

یہودی بزدل ترین قوم ہے

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہودی بزدل ترین قوم ہے

جن کی بزدلی کی گواہی اللہ دے وہ بہادر کبھی بھی نہیں بن سکتے بےشک دنیا جہاں کی مالی و جنگی وسائل اُن کے ہاتھ آ جائیں۔
قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ     Č
کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا   تم موت کی تمنا کرو  اگر تم سچے ہو ۔ سورہ  الجمعہ آیت نمبر6

یہودی اور ہندؤ مشرک دونوں بزدل قومیں ہیں یہ زندگی سے حددرجہ محبت کرتے ہیں اور موت سے نفرت،
مجھے کشمیر میں لڑی ایک لڑائی کا واقعہ یاد آ رہا ہے کہ 
جب ہم لوگوں نے انڈین آرمی پر حملہ کیا اور ان کو قتل کرنا شروع کیا جس جس فوجی کو گولی لگتی وہ ایسے روتا جیسے اس کے دونوں جہاں برباد ہوگے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وہ کفر پر مرے اور دونوں جہاں برباد کر بیٹھے 
اس کے مقابلے پر مجاہدین میں سے کسی کو گولی لگتی تو کسی صرف اُف کی آواز آتی  مجھے یاد ہے میرے دائیں طرف ایک مجاہد تھا اس کے سر پر گولی لگی کان سے کچھ اوپر جس سے ان کے سر کی ہڈی بُری طرح کریک ہوگئی مگر کمال صبر کا مظاہرہ کرتے صرف مجھے اتنا کہا کہ بھائی مجھے گولی لگ گئی ہے میں نے جب ان کی طرف دیکھا تو زخم بہت گہرا تھا میں نے کہا آپ پیچھے ہٹ جائیں مگر وہ بھائی 2 گھنٹے بعد اللہ کو پیارے ہوگے مگر آخری وقت تک ان کو روتے نہیں دیکھا، اس کاروائی میں 100 انڈین فوجی زخمی اور مردار کیئے جو کہ بی بی سی کی رپورٹ ہے اور 7 مجاہدین نے اللہ کے حضور شہادت پیش کی اور سات ہی زخمی ہوئے۔
ان کے رونے کی وجہ ایک یہ بھی ہے، 
اللہ کا ارشاد مبارک ہے کہ 
اور اگر تم دیکھے جس وقت جان قبض کرتے ہیں کافروں کی فرشتے مارتے ہیں ان کے منہ پر اور ان کے پیچھے، اور کہتے ہیں چکھو عذاب جلنے کا، سورہ الانفال آیت نمبر 50

اے اہلِ ایمان یہود اور نصاریٰ اور مشرکین کی جنگی طاقتوں سے مغلوب نہ ہونا کیونکہ یہ جنگیں جنگی وسائل سے نہیں بلکہ ایمانی جذبہ سے لڑی جاتی ہیں اور فتح مند وہی ہوتے ہیں جن کی مدد و نصرت اللہ کریں اگر اس دنیا میں غلبہ ابھی نہ بھی ملے مگر آخرت کی بھلائیاں اللہ تعالیٰ اپنے مجاہد فی سبیل اللہ کو ضرور عطاء فرمائے گا ان شاءاللہ۔

Monday, July 21, 2014

جس مسلم کو لیلۃ القدر مل گئی اس کے سبھی گناہ معاف

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
جس مسلم کو لیلۃ القدر  مل گئی اس کے سبھی گناہ معاف

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے شب قدر کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے اسے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو کہ وہ اس کی طاق راتوں ٢١،٢٣،٣٥،٢٧،٢٩ ویں یا آخری رات میں ہوتی ہے اور جو شخص اس رات کو حاصل کرنے کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اور اسے یہ رات مل بھی جائے تو اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوگئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا فِي وَتْرٍ فِي إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ فَمَنْ قَامَهَا ابْتِغَاءَهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ثُمَّ وُفِّقَتْ لَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2728:باب:حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مرویات 
اس فرمان رسول ﷺ کے مطابق ہر مسلم کو یہ سعادت ملے گی جو بھی ایمان و یقین کے ساتھ ثواب کی امید کے ساتھ شبِ قدر میں اللہ کی عبادت کرئے تو اس کے اگلے پچھلے گناہ اللہ معاف فرما دے گا سبحان اللہ۔
تو بھائیو، بہنو آنے والی باقی سبھی طاق راتوں میں قیام کریں اور اللہ کو راضی کرنے کی سعی کریں اور ایک اور کام ضرور کریں وہ یہ کہ اپنے مظلوم مسلمانوں کو اپنی دُعاؤں میں خاص یاد رکھیں۔
یااللہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے یااللہ تو مسلمانوں کو ظلم سے بچا لے
یااللہ کافروں کے مقابلے پر اہلِ ایمان کی مدد فرما
یااللہ مظلوم مسلمانوں کی خاص مدد فرما
یااللہ مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے جلد از جلد نجات عطا فرما
یااللہ ظالم کافر قوموں کو تباہ و برباد کردے
یااللہ ظالم کافر قوموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں پکڑ لے
یااللہ ظالم کافر قوموں کے ظالم و قاتل ہاتھ مجاہدین کے ہاتھوں کٹوا دے
یااللہ اہلِ ایمان کو آپس میں متحد فرما دے
ان کے باہمی جھگڑے، باہمی رنجشیں، باہمی عداوتیں محبت و الفت میں بدل دے
یااللہ ہم سب کو مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کی توفیق دے
آمین یا رب العالمین۔

Sunday, July 20, 2014

فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر کچھ دیر لیٹنا

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر کچھ دیر لیٹنا
==================

اماں  عائشہ رضی اللہ عنہا   فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو فجر ظاہر ہو جاتی اور مؤذن آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ ﷺ دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔
'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), said that between the time when the Messenger of Allah (may peace be upon him) finished the 'Isha' prayer which is called 'Atama by the people, he used to pray eleven rak'ahs, uttering the salutation at the end of every two rak'ahs, and observing the Witr with a single one. And when the Mu'adhdhin had finished the call (for the) dawn prayer and he saw the dawn clearly and the Mu'adhdhin had come to him, he stood up and prayed two short rak'ahs. Then he lay down on his right side till the Mu'adhdhin came to him for lqama.

صحیح مسلم:جلد اول:باب:رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں 

اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی اذان دے کر سکوت اختیار کرتا تو رسول اللہ ﷺ نہایت ہلکی سی دو رکعات ادا فرماتے پھر آپ ﷺ دائیں کروٹ پر لیٹ جایا کرتے۔
سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1767 :باب:فجر کی سنتیں ادا کرنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹنا 

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھ لے تو دائیں کروٹ پر لیٹ جائے۔
 اس باب میں حضرت عائشہ ؓ بھی روایت ہے امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث ابوہریرہ اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے حضرت عائشہ ؓ  سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب صبح کی سنتیں گھر میں پڑھتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مستحب جانتے ہوئے ایسا کرنا چاہئے 
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “When one of you has offered the two raka’at of fajr, let him lie down on his right side.”

جامع ترمذی:جلد اول:باب:فجر کی سنتیں ادا کرنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹنا 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّی اَحَدُکُمْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَلْیَضْطَجِعْ عَلَی یَمِیْنِہٖ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤدٌ)

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا ۔ جب تم میں سے کوئی آدمی فجر کی سنت کی دو رکعتیں پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ جماعت شروع ہونے تک اپنی دائیں کروٹ پر لیٹا رہے۔" (جامع ترمذی و ابوداؤد)
مشکوۃ شریف:جلد اول:باب:فجر کی سنتیں پڑھ کی دائیں کروٹ پر لیٹنا چاہیے 

دائیں کروٹ لیٹنا سنت رسول ﷺ ہے بعض علماء نے اس کو لازمی امر  قرار  دیا ہے وہ اسی حدیث کو دلیل کی صورت پیش کرتے ہیں جس میں حکماً فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی فجر کی سنت کی دو رکعتیں پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ جماعت شروع ہونے تک اپنی دائیں کروٹ پر لیٹا رہے۔
اکثر علماء نے اس کو مستحب عمل کہا ہے مگر اس سنت کو ادا کرتے محتاط رہنا بھی ضروری ہے یہ نہ ہوکہ سنت ادا کرتے کرتے سو جائے اور فرض سے بھی جاتا رہے۔
اللہ ہم سب کو قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے اور ہر طرح کے کفر و شرک سے بچا کر رکھے آمین یا رب العالمین۔

مسلم ٹیرورسٹ

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسلم ٹیرورسٹ

پوری دنیا میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے 
صرف کافروں کے تسلط والے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ جہاں نامنہاد مسلمان حکمران ہیں وہاں بھی مسلمانوں پر فوج کشی کی جارہی ہے اور اس سارے ظلم کا جواز صرف یہی ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں لہذا ان کو قتل کرو جہاں پاؤ۔
مسلم ٹیرورسٹ
یہ نعرہ  2001ء میں عیسائی کافروں نے یہودیوں کے کہنے پر لگایا اور آج تیراں سال تک پوری دنیا میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کردیا گیا ہوا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک  رُکا نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے،
کافروں کا کہنا ہے کہ مسلمان شدت پسند ہیں جو کہ صرف ایک جھوٹا الزام ہے مسلمانوں نے جان بوجھ کر  کبھی کسی سولین کو قتل نہیں کیا  مگر کافر قومیں، ہندؤ، سکھ ، عیسائی، یہودی، بدھ مت، شیعہ یہ سب کافر مسلمانوں کی عوام کا قتل عام کرتے ہیں، ان کے بچوں تک کو قتل کر رہے ہیں، مسلمانوں کی عورتوں کو درندگی کا نشانہ بناتے ہیں، مسلمانوں کے بزرگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہیں، مسلمانوں کے نوجوانوں کو قید و بند میں رکھتے ہیں ان کا قتل عام کرتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق 13 سالوں میں پوری دنیا میں 350000سے 450000 مسلمان قتل ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد عراقی مسلمانوں کی ہے جہاں پہلے عیسائیوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اس کے بعد اپنے خاص ایجنٹوں یعنی شیعہ کافروں کے ہاتھوں مسلمانوں کو قتل کروا رہا ہے، اور پچھلے تین سالوں میں شیعہ نے شام میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انٹر نیٹ پر ان  مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں۔
اصل میں یہ کافر قومیں دہشت گرد ہیں جو عام سولین عوام کا قتل عام کرکے مسلمانوں  کو دہشت زدہ کرتے ہیں۔
یااللہ کافروں کے مقابلے پر اہلِ ایمان کی مدد فرما
یااللہ مظلوم مسلمانوں کی خاص مدد فرما
یااللہ مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے جلد از جلد نجات عطا فرما
یااللہ ظالم کافر قوموں کو تباہ و برباد کردے
یااللہ ظالم کافر قوموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں پکڑ لے
یااللہ ظالم کافر قوموں کے ظالم و قاتل ہاتھ مجاہدین کے ہاتھوں کٹوا دے
یااللہ اہلِ ایمان کو آپس میں متحد فرما دے
ان کے باہمی جھگڑے، باہمی رنجشیں، باہمی عداوتیں محبت و الفت میں بدل دے
یااللہ ہم سب کو مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کی توفیق دے
آمین یا رب العالمین

Thursday, July 3, 2014

روزہ رکھتے وقت 5 منٹ جلدی اور کھولنے میں 5 منٹ تاخیر کیوں؟

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
روزہ رکھتے وقت 5 منٹ جلدی اور  کھولنے میں 5 منٹ تاخیر کیوں؟
=======================================

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ أَنْتَ يَا بِلَالُ تُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِالصُّبْحِ إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا ثُمَّ دَعَا بِسَحُورِهِ فَتَسَحَّرَ وَكَانَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا أَخَّرُوا السَّحُورَ وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلال ! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہو جاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم ﷺ نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا: اور فرماتے تھے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں جلدی کرتی رہے گی۔
مسند احمد:جلد نہم:باب:حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
اس واضح حکم کے ہوتے ہمارے ہاں اس کے خلاف کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ جو صبح صادق کا وقت مقررہ ہے اس سے 5 منٹ پہلے ہی کھانا پینا چھوڑا دیا جاتا ہے حالانکہ ایک اور فرمانِ رسول ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ اگر آذان بھی شروع ہوجاے تو جو کھانا کھا رہا ہو وہ برتن میں سے اپنی ضرورت پوری کرلے آئیں وہ حدیث پڑھتے ہیں

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے  روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی صبح کی اذان سنے اور کھانے پینے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس کو فورا ہی نہ رکھ دے بلکہ اپنی ضرورت پوری کرے۔
سنن ابوداؤد:جلد دوم:باب:جب صبح کی اذان ہو اور کھانے پینے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو
اسی متن کی حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔
مگر پاکستان میں اس کے خلاف عمل ہورہا ہے اسی طرح افطاری کے وقت بھی جو وقت سورج کے غروب کا ہے اس سے 5 منٹ تاخیر سے روزہ افطار کروایا جاتا ہے اور اس عمل کو احتیاط کا نام دیا جاتا ہے کہ کہیں ہمارا روزہ فاصد نہ چلا جائے  مگر فرمانِ رسول ﷺ اس عمل کے خلاف ہے کہ جیسے ہی وقت ہو تو روزہ کھولنے میں جلدی کرو، اب اس جلدی کوئی یہ مراد نہ لے لے کہ ابھی سورج مکمل غروب ہی نہ ہوا ہو تو افطاری کردی جائے بلکہ اس جلدی کا جو حکم ہے وہ غروبِ شمس کے فوراً بعد کا ہے اس میں 5 منٹ تاخیر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ فرمانِ رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔
اللہ ہم سب کو اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے آمین

مقصد صيام ( روزه )

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقصدِ رمضان

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ   ١٨٣ۙ
اے ایمان والو  تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو ۔

انسان گناہوں کا پتلا ہے اگر اس کو نصیحت نہ کی جائے اس کو گناہوں سے نہ روکا جائے تو یہ شیطانوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے، اللہ نے انسانوں کو گناہوں سے بچنے کا حکم دیا ہے مگر شیطان انسان کو گناہوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے اب ایک مسلم بندہ شیطان کے حملوں سے اگر بچنا چاہتا ہے تو اس کے لیئے لازم ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کی پیروی کرئے، نماز، روزہ کی پابندی کرئے تو اس میں پرہیزگاری کی صفت پیدا ہو جائے گی  جیسا نماز کے بارے اللہ کا حکم ہے کہ یہ گناہوں سے بچاتی ہے،اور جب  ایک مسلم جب روزہ رکھ لیتا ہے تو اس کے بعد وہ ایک وقتِ مقررہ تک حلال چیزوں سے بھی پرہیز کرتا ہے صرف اس لیئے کہ یہ اس کے اللہ رب العالمین کا حکم ہے، تو جب ایک مسلم حلال چیزوں سے بچنا شروع کردیتا ہے تو اس طرح اس میں حرام کاموں سے بچنے کی قوتِ مدافعت بھی  بڑھ جاتی ہے جس سے ایک مسلم بندہ پرہیزگار بن جاتا ہے۔
جیسا کہ احادیث مبارکہ میں بھی مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ صرف بھوکا پیاسہ رہنا روزہ کا مقصد نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اصل مقصد ہے کہ انسان جھوٹ بولنے سے بھی روک جائے، دھوکہ دہی سے رُک جائے، ملاوٹ کرنے سے بھی رُک جائے، گالیاں دینے سے بھی رُک جائے، یعنی ہر ایسے اعمال سے رُکے جس سے اللہ کی ناراضگی ملتی ہو اور جب بندہِ مومن ان سب احکامات پر عمل کرتا ہے تو وہ ایک صالح مسلم بن جاتا ہے اور اصل میں صرف وہی اس عبادت یعنی  روزے کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔
اللہ ہم سب کو روزے کے سبھی تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں پرہیزگاروں میں شامل فرمائے آمین ثم آمین

Wednesday, July 2, 2014

کھجور سے روزه کھولنا سنت رسول ﷺ ہے

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھجور سے روزه  کھولنا سنت رسول ﷺ ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَمِّهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَی التَّمْرِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ التَّمْرَ فَعَلَی الْمَائِ فَإِنَّ الْمَائَ طَهُورٌ

سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص روزہ دار ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کھجور سے افطار کرے اگر کھجور نہ مل پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔
Narrated Salman ibn Amir:
The Prophet (peace_be_upon_him) said: When one of you is fasting, he should break his fast with dates; but if he cannot get any, then (he should break his fast) with water, for water is purifying.

سنن ابوداؤد:جلد دوم:باب:روزہ کس چیز سے افطار کرنا چاہئے؟

جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس فرمانِ رسول ﷺ کو ہر مسلمان اپنے آپ پر پرکھے اور دیکھے کہ وہ کہاں تک اس وعید سے بچنے کی کوشش کرتا ہے؟؟؟
اللہ کی قسم اگر ہم لوگ جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، ملاوٹ کرنا نہیں چھوڑتے تو یہ بھوکا پیاسہ رہنا ہمارے کسی کام نہیں آئے گا،
ہمارے معاشرے میں پھیلی بُرائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہم لوگ نام کے مسلمان رہ گے ہیں جو صرف کلمہ پڑھتے ہیں مگر اس کلمہ کے مطابق عمل نہیں کرتے، یاد رکھیں ہمارا کلمہ تبھی ہمیں فائدہ دے گا جب ہم اس کے مطابق عمل بھی کریں گیں۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ 
Narrated Abu Huraira: 
The Prophet said, "Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (i.e. Allah will not accept his fasting.)"
صحیح بخاری:جلد اول:باب:اس شخص کا بیان جس نے روزے میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا۔

طاق یعنی 3۔5۔7۔9 عدد کھجوریں کھانا سنتِ رسول ﷺ

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طاق یعنی 3۔5۔7۔9 عدد کھجوریں کھانا سنتِ رسول ﷺ
ــ========================
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّی يَأْکُلَ تَمَرَاتٍ وَقَالَ مُرَجَّأُ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأْکُلُهُنَّ وِتْرًا

انس بن مالک  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن جب تک چند کھجوریں  نہ کھا لیتے، عیدگاہ کی طرف نہ جاتے اور مرجی بن رجاء نے عبیداللہ بن ابی بکر سے اور انہوں نے انس سے اور انس نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ کھجوریں  طاق عدد میں کھاتے تھے۔ 
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle never proceeded (for the prayer) on the Day of 'Id-ul-Fitr unless he had eaten some dates. Anas also narrated: The Prophet used to eat odd number of dates.
حوالہ
صحیح بخاری:جلد اول:باب:عیدگاہ جانے سے پہلے عیدالفطر کے دن کھانے کا بیان

Friday, May 23, 2014

22 رجب کے کونڈوں کی حیقیت

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے دن کو خوشی کے دن کے طور پر منانا شیعہ کا کام ہے مگر بریلوی لوگ جہالت و لاعلمی کی وجہ سے شیعہ کے ساتھ مل کر اس دن کونڈے بناکر تقسیم کرتے ہیں اور اس کو نذر امام جعفر صادق    ؒ کا نام دیتے ہیں مگر اصل میں یہ شیعہ کے تقیہ کی بدترین مثال ہے کیونکہ ان لوگوں کو علم ہے کہ اس دن یہ لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی مناتے ہیں کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن سباء کی باطل تحریک کو بہت نقصان پہنچایا تھا   اور یہود و نصاریٰ کے علاوہ ایرانی مجوسیوں کو بھی ان کے علاقوں سے بےدخل کیا تھا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ کے 19 سالہ دورِ خلافت میں خلافت کا رقبہ 64 لاکھ 65 ہزار مربع میل تھا جس پر آجکل درجنوں ملک بنادیے گے ہیں، تو یہ شیعہ اپنے آباؤاجداد کا بدلہ لے رہے ہیں اور کچھ تو کر نہیں سکتے تو آپ کی وفات کے دن خوشیاں مناکر ہی اپنا غصہ نکال لیتے ہیں۔
میرا  ایک جاننے والا شیعہ ہے میں نے اس سے پوچھا تھا کہ آپ لوگ اس دن خوشیاں کیوں مناتے ہیں ؟؟؟ وہ میرے ساتھ کافی فری تھا اس نے حقیقت پیش کردی کہ ہاں ہم واقعی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا جشن مناتے ہیں۔
اس لیئے بہنو اور بھائیو 22 رجب کو اس  کونڈوں والی رسمِ باطلہ کا بائی کاٹ کریں اور لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کریں اور شیعہ کافروں کی مکاری کو سب پر آشکار کریں تاکہ کوئی بھی مسلم اس گناہ کا شکار نہ ہوسکے۔
اللہ ہم سب کو صحیح معنوں میں ایک صالح مسلم بنائے اور فرقوں کے باہمی تعصب سے بچائے آمین

Wednesday, February 5, 2014

انتہائی جاہلانہ سوچ!!!

1 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم


انتہائی جاہلانہ سوچ
اکثر لوگوں کی سوچ ہے کہ اگر کوئی شخص خوبصورت(نورانی) ہو تو یہ اس بندے کی حق پر ہونے کی دلیل ہوتی ہے!!!
یہ لوگ جب اپنے کسی پیر یا مولوی کی تعریف کرتے ہیں تو پہلی بات ان کی یہی ہوتی ہے کہ دیکھا جی ان کے چہرے پر کیسا نور برس رہا ہے!!!
یعنی خوبصورت (نورانی) ہونا ان کے نزدیک حق پر ہونے کی دلیل ہے، اور کوئی بدصورت ہو اور ہو بھی مخالف عقیدے کا تو ان کا قول ہوتا ہے دیکھا کیسی لعنت برس رہی ہے اس کے چہرے پر!!!
یعنی خوبصورتی ایمان کی نشانی بنادی گئی ہے اور بدصورتی کفر کی علامت!!!
اب ان پڑھے لکھے جاہلوں کے اقوال و واقعات لکھتا ہوں۔
1۔ میرے ایک رشتہ دار بزرگ کہنے لگے کہ ایک دفعہ میرا ایک دوست جو میرے مخالف عقیدے کا تھا مجھے اپنی مسجد میں لے گیا وہاں میں نے جتنے لوگ دیکھے بدصورت ان کے چہروں پر عجیب لعنت برس رہی تھی میرا وہاں(مسجد) میں دم گٹنے لگا!!! اور وہاں سے بھاگنے کی کی!
اب ان کو کون سمجھائے یہ جو گِن  آپ کو آئی اور آپ کا دم گٹنے لگا، یہ آپ کے دل میں  بسی اس  نفرت، کدورت اور تعصب کی ہے جو آپ نے ان لوگوں کے بارے اپنے دل میں بسا رکھی ہے!اس میں کسی کے عقیدے کا کوئی قصور نہیں ہے۔

2۔ ایک دوست کہتا ہے میرے پیر صاحب اتنے پُر نور چہرہ رکھتے ہیں کہ میں ان کے چہرے کو چند سیکنڈ سے زیادہ دیکھ ہی نہیں سکتا۔
اب اس کو کون سمجھائے کہ چہرہ نہ دیکھ سکنا نور کی وجہ سے نہیں بلکہ دل میں بسائی اندھی عقیدت کا کمال ہے، اگر خوبصورتی کو دیکھنے کو دل نہیں کرتا یا دیکھ نہیں سکتا تو یہ پاگل پن ہے کیونکہ خوبصورت چہرہ دیکھیں تو اک سکون آتا ہے نہ کہ دیکھا ہی نہ جائے!!!

3۔ ایک دفعہ میرے چچا جان مجھے دعوت دے رہے تھے کہ میں دوبارہ ان کے عقیدے میں آ جاؤں تو وہ دلیل کس چیز کو بناتے ہیں پڑھیں۔
کہنے لگے دیکھو بیٹا  ہمارے فلاں پیر صاحب اور فلاں پیر صاحب کتنے پُر نور چہرہ رکھتے ہیں ایسا چہرہ کسی مومن کا ہی ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
میں نے  چچا جان سے کہا کہ چچا جی اگر آپ کسی بھی مزدور کو جو دھوپ میں کام کر کر کے کالا ہو گیا ہو  اس کو ایک کمرے میں بٹھا دیں جہاں ائیرکنڈیشن لگا ہو اور اس  مزدور کو وہی کھانا دیں جو آپ کے پیر صاحب کھاتے ہیں  تو آپ دیکھیں گے صرف ایک  دو مہینوں میں ہی وہ پُر نور چہرے کا مالک بن جائے گا، پھر کہا چچا جان حق کا معیار یہ نہیں ہے جو آپ پیش کر رہے ہیں بلکہ حق کا معیار قرآن اور صحیح حدیث ہے جو بھی ان کے مطابق ایمان و عمل بنائے وہ حق راہ پر ہے۔
یہاں اپنا ایک واقعہ بیان نہ کرنا زیادتی ہو گی آپ بھی پڑھیں
میرا ایک بچپن کا دوست ہے وہ ایک دفعہ میرے ساتھ مظفرآباد گیا میری عمر اس وقت بمشکل 16 سال ہوگی اور وہاں ہم جس تنظیم کے ساتھ تھے وہ وہابیوں کی تھی میں بھی صرف جہاد کے لیے ان کے ساتھ وابستہ تھا ورنہ تو میں بھی بریلوی ہی تھا،
جس دن ہم وہاں پہنچے غالباً  اسی رات دوست مجھے کہنے لگا کہ مجھے یہ قاری صاحب سنی (بریلوی) لگتے ہیں میں نے کہا یار خاموش رہو یہاں کوئی بھی سنی نہیں ہے سبھی وہابی ہیں، وہ کہنے لگا نہیں یار یہ سنی  (بریلوی )ہی ہے دیکھو اس کے چہرے پر کتنا نور ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی وہابی کے چہرے پر اتنا نور ہو میں نے پھر اس کو منع کیا کہ وہ خاموش رہے کہنے لگا تم اس سے پوچھو کہ کیا  یہ سُنی ہے؟؟؟ میں نے کہا میں پاگل نہیں ہوں میں ان کے ساتھ ایک سال سے ہوں یہ سب وہابی لوگ ہیں اس لیے تم رہنے دو مگر وہ باز نہ آیا اور خود ہی ان قاری صاحب کے پاس چلا گیا جو کہ ہم سے چند قدم پر بیٹھے تھے دوست نے جا کر سلام کیا اور پوچھا قاری صاحب آپ سنی ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سنی کیا ہوتا ہے؟ دوست بولا قاری صاحب سنی ، سنی ہوتا ہے، وہ قاری صاحب کشمیری تھے وہ اس کی بات کو نہ سمجھ پا رہے تھے تو میں نے کہا قاری صاحب  یہ پوچھ رہا ہے کہ کیا آپ سنی یعنی بریلوی ہیں؟ جیسے ہی انہوں نے بریلوی سنا تو "لا حول ولا قوۃ الا باللہ"  پڑھا اور کہا نہیں میں بریلوی بدعتی اور۔۔۔۔۔ہرگز نہیں ہوں الحمد للہ، اور  میرا دوست اپنا سا منہ لے کر آپس میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔
ان قاری صاحب کا تعارف بھی کرواتا چلوں ان کا نام قاری عبد اللطيف  تھا اور یہ مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر کے  رہنے والے تھے اور آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ کشمیری کتنے خوبصورت ہوتے ہیں مگر اللہ نے ان کو حسن کمال کا دیا ہوا تھا چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی اس حسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔

بھائیو اگر ان لوگوں کی یہ منطق مان لی جائے کہ خوبصورتی ایمان کی نشانی ہے اور بدصورتی بدعقیدتی کی علامت ہے تو اس طرح ہر خوبصورت چہرے کا مالک انسان مومن و مسلم ہے چاہے وہ عیسائی، یہودی، ہندو، شیعہ، قادیانی ہی کیوں نہ ہو اور ہر بدصورت چہرے کا مالک انسان بدعقیدہ اور کافر ہے تو اس طرح ایک مسلم و مومن بندہ کافر قرار پا جائے گا، یہ سوچ بالکل جاہلانہ سوچ ہے جو ایک صحیح العقیدہ مسلمان اپنا ہی نہیں سکتا اس لیے بھائیو کسی کے ایمان کا معیار خوبصوتی نہ بناؤ اور نہ ہی کسی کی بدصورتی کو اس کے بدعقیدہ کی دلیل بناؤ۔
ایک بدصورت انسان ایک اچھا اور سچا مسلم ہوسکتا ہے اور ہیں بھی، اور ایک خوبصورت پُر نور چہرے والا کافر اور مشرک بھی ہوسکتا ہے بلکہ ہیں۔

اب کچھ ان آیات پر بھی تبصرہ ہوجائے جس کو یہ  لوگ دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ   12ۚ
(قیامت کے) دن تو دیکھے گا کہ ایماندار مردوں اور عورتوں کا نور انکے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا  آج تمہیں ان جنتوں کی خوشخبری ہے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ الحدید آیت نمبر 12

يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ    Ď
جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما  اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہرچیز پر قادر ہے۔ التحریم آیت نمبر 142

 ان آیات میں  بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے ایمان اور  نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا (ابن جریر)
 حضرت قتادہ  فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا۔
حضرت ضحاک فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گذر جائیں ۔ 
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن  جو نور یعنی روشنی ایک مومن کو ملے گی وہ بھی چہرے کی خوبصورتی نہیں ہوگی  بلکہ وہ روشنی ہوگی جس کی وجہ سے ایک مومن جنت تک کا سفر آسانی سے کرسکے، اگر پھر بھی کوئی بضد ہے کہ نہیں چہرے کا نور مراد ہے تو پھر منافق کو بھی وہی نور دیا جا رہا ہے مگر وہ عارضی ہوگا پل صراط پر وہ ختم ہوجائے گا۔