Friday, December 21, 2012

نبیﷺ کا فرمان کہ ،سب سے پہلے اللہ نے اپنے نور میں سے میرا نور پیدا کیا، والی روایت قرآن اور صحیح حدیث کے خلاف ہے

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان مجھے بتا دیجیے کہ سب سے پہلے اللہ عزوجل نے کیا چیز بنائی۔ آپﷺ نے فرمایا اے جابر بے شک بالیقین اللہ تعالٰی نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ وہ نور قدرت الٰہی سے جہاں خدا نے چاہا دورہ کرتا رہا اس وقت لوح و قلم جنت دوذخ فرشتے آسمان زمین سورج چاند جن آدمی کچھ نہ تھا پھر جب اللہ تعالٰی نے چاہا کہ اور مخلوقات کو پیدا کرئے تو  اس نور کے چار حصے فرمائے پہلے سے قلم ، دوسرے سے لوح ، تیسرے سے عرش ، پھر چوتھے کے چار حصے کیے پہلے سے فرشتگان حامل عرش دوسرے سے کرسی تیسرے سے ملائکہ پھر چوتھے کے چارحصے فرمائے پہلے سے آسمان دوسرے سے زمین تیسرے سے بہشت و دوذخ بنائے پھر چوتھے کے چار حصے کئے۔ مصنف عبدالرزاق
اس روایت کو موضوع کہا گیا ہے حوالہ کے لیے مندرجہ ذیل کتابیں دیکھیں
ضعیف اور منگھڑت واقعات صفحہ نمبر 95
200 ضعیف احادیث صفحہ نمبر 58 
آثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ صفحہ نمبر 42
کشف الخفاء جلد1  صفحہ نمبر 265
سلسلۃ الاحادیث الواھیہ صفحہ نمبر 155
اس روایت کے بارے ناصرالدین البانی فرماتے ہیں کہ یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے ان کے علاوہ بھی بہت سے محدثین نے اس کو باطل کرار دیا ہے
اب بات ہوجائے اس روایت میں استعمال ہوئے الفاظ پر کہ یہ الفاظ دوسری صحیح احادیث کے ساتھ ٹکراتے ہیں اس سے پہلے عیسائیوں کا ایک عقیدہ پیش کرتا ہوں

یہ عقیدہ سنہ ۳۲۵ء میں شہنشاہ کانسٹنٹین کے دور میں مرتب کیا گیا اورآج اسے عیسائیت کا متفقہ علیہ عقیدہ مانا جاتا ہے۔ اس عقیدے کو یہاں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کے آپ خود دیکھیں کہ آج اسلام میں زبردستی شامل کر دیے گئے اس نور من نور اللہ والے خود ساختہ عقیدے کی بنیاد دراصل عیسائیت سے لی گئی ہے۔

ہم ایک خدا میں یقین رکھتے ہیں

جو قادر مطلق باپ ہے

تمام چیزوں کا خالق ہے، ظاہر اور باطن

اور ایک خدا، عیسی مسیح میں

جو خدا کا بیٹا ہے

خدا کا جنا ہوا اکلوتا

یعنی باپ کے جوہر سے

خداوند سے خدا

نور سے نور

عین خدا سے عین خدا

جنا ہو، بنایا ہوا نہیں

باپ ہی کے جوہر سے

اور جس کے ذریعے آسمانوں اور زمین میں تمام چیزوں کو وجود ملا

وہ چیزیں جو آسمانوں میں ہیں

اور وہ جو زمین میں ہیں

جو ہمارے لئے اور ہمارے نجات کے لئے بشکل انسانی اترا

تکلیف سہی

پھر تیسرے دن اٹھا

اور آسمانوں میں اٹھا لیا گیا

اور وہ واپیس آئے گا

زندہ اور مردہ کا فیصلہ کرنے

اور ہم روح القدس پر یقین رکھتے ہیں

اور آئیےاب دیکھیں ایک ایسی جُھوٹی حدیث جسے صوفی ازم یا تصوف اوراس سے جُڑے تمام فرقےاس نور من نور اللہ کے عقیدے کے ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ ایک پیرو مرشد سے دوسرے تک ایک خفیہ طاقت کی منتقلی کا ڈھکوسلا برقرار رکھا جائے۔


 اور یہ روایت قرآن اور صحیح احادیث کے خلاف بھی ہے محدثین کا کسی روایت کو پرکھنے کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ جو روایت صحیح احادیث کی مخالفت کرے یا قرآن کے احکامات کے خلاف جائے اس کو باطل کرار دیتے تھے اور مندرجہ بالا روایت اپنے اندر ایک دو نہیں بلکہ کئی ایک ایسے عقائد لیئے ہوئے ہے جو قرآن و صحیح حدیث کے خلاف ہیں مثلاً
1۔اللہ تعالٰی نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ 
اللہ کا ارشاد مبارک ہے کہ 
لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ 
 نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اخلاص آیت نمبر3
عیسائیوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں لہذا اللہ نے اس عقیدے کو کفر کا عقیدہ کہا اس لیے یہ روایت وضع کرنے والوں کو علم تھا کہ  ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا بیٹا تو نہیں کہہ سکتے لہذا انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے  نور میں سے پیدا کیا بات ایک ہی ہے کہ کوئی کہے یہ فلاں کا بیٹا ہے یا کوئی کہے کہ یہ فلاں میں سے ہے، یہ لوگ اللہ کا بیٹا تو نہ کہہ سکے کیونکہ اس عقیدہ کو کفر کا عقیدہ اللہ نے خود کہا اس لیے الفاظ کو پھیر کر استعمال کیا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے  نور میں سے پیدا کیا  جبکہ اللہ نے اس کا بھی رَد کردیا ہوا ہے کہ:::نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،:::یعنی کوئی بھی اس میں سے پیدا نہیں ہوا ہے اور جو یہ کہے کہ نہیں اللہ میں سے محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے ہیں اس کو ہم ایک مسلم کا عقیدہ کیسے کہیں گیں؟؟؟؟؟
2۔اس روایت کا صحیح حدیث کا ساتھ ٹکراؤ بھی ہے وہ یہ کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ چنانچہ اس نے قیامت تک ہونے والے واقعات کو لکھ دیا۔
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2723 
جامع ترمذی:جلد دوم:باب: سورت قلم کی تفسیر:حدیث نمبر 1269  
یہ حدیث روایت اور درایت کے اعتبار سے بالکل صحیح حدیث ہے اور جبکہ اس من گھڑت روایت میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے اپنے نور میں سے  نبی ﷺ کے نور کو پیدا کیا، جب ایک صحیح حدیث کے ساتھ ضعیف حدیث متعارض ہو تو کسی بھی محدث نے اس کو قبول نہیں کیا کجا ایک ایسی روایت جو موضوع من گھڑت ہو وہ تو کسی قیمت پر بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی، 
3۔پھر جب اللہ تعالٰی نے چاہا کہ اور مخلوقات کو پیدا کرئے تو  اس نور کے چار حصے فرمائے 
یہ روایت کہتی ہے کہ قلم، لوح، عرش، جنت حتیٰ کہ دوزخ بھی، عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور باقی سبھی فرشتے، سبھی کائناتیں، سبھی آسمان،  انسان، جنات اور باقی سبھی مخلوقات نبیﷺ کے نور سے بنائی گئیں جبکہ اللہ کا ارشاد ات ہیں کہ
وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ الرحمن آیت نمبر 15
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے۔ المؤمنون آیت نمبر 12
اب یہ روایت ان واضح قرآنی آیات کے ساتھ متصادم ہیں اب ہمیں بتایا جائے کہ ہم قرآن کی بات پر یقین کریں یاکہ اس جھوٹی من گھڑت روایت پر ایمان لاکر قرآن کا انکار کردیں؟؟؟؟
اب کوئی اس کی تاویلات پیش کرنے نہ بیٹھ جائے قرآنی آیات بھی واضح ہیں اور اس جھوٹی روایت کے الفاظ بھی واضح ہیں۔ 
محدثین کے اصول کے مطابق کسی ضعیف روایت پر عقیدہ نہیں بنایا جاسکتا مگر یہ روایت ضعیف نہیں بلکہ من گھڑت ہے جو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کی جاسکتی عقیدہ کا معاملہ تو بہت دور کی بات ہے مگر افسوس کہ آجکل کے مفاد پرستوں نے انہی من گھڑت روایات پر اپنے اور لوگوں کے عقیدے بنائے ہوئے ہیں جو روایات قرآن اور صحیح احادیث کے ساتھ متصادم ہیں، اللہ ہم سب کو ہدایت پر قائم فرمائے آمین۔

Friday, December 7, 2012

شرائط ِخلافت

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم

شرائط ِخلافت

الحمدللہ
اللہ نے دین اسلام اس لیئے نازل کیا تاکہ اس کو پوری دنیا کے باطل ادیان پر غالب کیا جائے، اللہ کے نبی محمدﷺ نے ، اُن کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے، ان کے بعد تابعین نے، ان کے بعد اتباع تابعین نے اور ان کے بعد امت کے سلف صالحین نے اپنی طاقت سے بڑ کر اس مقصد کے لیئے کوششیں کی اور اسلام کو باطل ادیان پر غالب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر موجودہ دور میں  مسلمان شدید مغلوب ہوچکے ہیں،  کلمہ پڑھنے والے اسلام کی تعلیمات سے بےبہرہ ہیں جس کی وجہ سے جہالت عام ہوچکی ہے اور مسلمان مغلوبیت کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور جو دین اور نظامِ زندگی اللہ نے مسلمانوں کو دیا تھا یعنی خلافت کا نظام اس کو غالب کرنے کی بجائے اس کو سرے چھوڑ ہی  چکے ہیں اور اس کے مقابلے پر کافروں کے نظامِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں، ایک بات یاد رکھیں اسلام صرف نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کا ہی نام نہیں ہے بلکہ اصل اسلام کی روح اسلام کے نظامِ حیات میں ہے اگر وہ نظام ہمارے پاس نہیں تو سمجھ لیں کچھ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔
آج کا مضمون خلافت کا اہم حصہ خلیفہ کی شرائط جو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں پر پیش کر رہا ہوں۔ ایک فرمان رسولﷺ پیش کرکے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں ان شاءاللہ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ڈھال ہے اس کے پیچھے سے لڑا جاتا ہے۔ ::بخاری و مسلم::یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج ہمارے پاس وہ امام یعنی خلیفہ موجود ہے؟؟؟ اگر نہیں ہے تو اس کو قائم کرنے کے لیئے ہم کیا اقدامات اور تدبیر اختیار کر رہے ہیں؟؟؟؟

خلیفہ کے مقتدرہونے کی بناء : مومنین کی نصرت

نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ
مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُوْنَ شُرُوْ طًا لَیْسَتْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَھُوَ بَاطِلٌ وَ اِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللّٰہِ اَحَقُّ وَ شَرْطُ اللّٰہ اَوْثَقُ
 لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا اللہ کی کتاب میں پتہ نہیں۔ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرطیں بھی ہوں ۔ اللہ ہی کا حکم حق ہے اور اللہ ہی کی شرط پکی ہے ۔ ( بخاری ،کتاب البیوع۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا)
نبی ﷺ کے اس ارشاد کی بناء پر ہر معاملے میں صرف وہی شرط اختیار کی جا سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺکی طرف سے پیش کی گئی ہو، اس بنا پر کسی شخص کے خلیفہ قرار پانے کی بناء بھی اللہ کی مقرر کردہ شرائط ہوں گی نہ کہ انسانوں کی پیش کردہ شرائط۔
کسی شخص کے خلیفہ قرار پانے کے لئے کتاب وسنت سے درج ذیل شرائط ہمارے سامنے آتی ہیں۔
 ۱۔ اہل ِ ایمان میں سے ہو
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
 یٰٓاَ یُّھَاا لَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی ا لْاَ مْرِ مِنْکُمْ ج
اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ امر کی جو تم (اہل ایمان) میں سے ہوں۔
(۴:النساء ۔ ۵۹)

۲۔ مرد ہو
نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
لَنْ یُّفْلِحَ قَومٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً
 وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے۔
 (بخاری ،کتاب المغازی ۔ابو بکرہ رضی اللہ عنہ)
 ۳۔ قریشی ہو
نبیﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
 اَلاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ
 امامت قریش میں رہے گی۔ (احمد: باقی مسند المکثرین۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
 لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنْھُمُ اثْنَان ِ
یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک ان (قریش ) میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔
 (بخاری ،کتاب الاحکام ۔عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ)
 لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ
یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک انسانوں میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔
 (مسلم:کتاب الامارۃ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ)
 اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ قُرَیْشٍ لَا یُعَادِیْھِمْ اَحَدَ اِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ عَلَی وَجْھِہٖ مَٓا اَ قَامُوْا الدِّیْنَ
یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ ( بخاری: کتاب الاحکام۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ)
حدیث بالا سے عام طور پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھیں گے تو خلافت ان سے چھن کر غیر قریشیوں کے سپرد ہو جائیگی لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات واضح ہیں کہ ’’یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی‘‘ اس بنا پر آپ کے اس ارشاد کہ ’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے‘‘ کا صاف مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو خلافت سرے ہی سے ختم ہو جائیگی نہ کہ غیر قریش کو منتقل ہو جائیگی درج بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر قریشی کی خلافت غیر شرعی ہو گی۔
 حبشی غلام کی خلافت کا مسئلہ
نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌ کَانَ رَأَسُہ‘ زَبِیْبَۃٌ
 حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک تم پر ایک حبشی غلام مقرر کیا جائے جس کا سر منقے کی طرح ہو۔
(بخاری:کتاب الاحکام۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌحَسِبْتُھَا قَالَتْ اَسْوَدُ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔
اگر تمہارے اوپر ہاتھ پاؤں کٹا کالا غلام بھی امیر بنایا جائے اور وہ تمہیں کتاب اللہ کے ساتھ چلائے تو اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ( مسلم: کتاب الامارۃ ۔جدت یحیٰ بن حصین رضی اللہ عنہا)
بعض لوگ نبیﷺ کے درج بالا ارشاد ات کی بنا پرغیر قریشی کے علاوہ کسی غلام کو بھی خلیفہ بنانا جائز سمجھتے ہیں ۔جبکہ آپﷺ کے ارشادات کو غور سے پڑھنے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے اسْتَعْمِلَ(استعمال کیا جائے) اور اُمِّرَ( امیرمقرر کیا جائے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس استعمال کیے جانے والے یا مقرر کیے جانے والے امیرکے پس منظر میں اس سے بھی بڑی کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہے جو اس کو استعمال کر رہی ہے یا امیرمقرر کر رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ کتاب و سنت میں امت کے اندر اللہ کے بعد سب سے بڑی اتھارٹی نبی کی ہوتی ہے اور اُس کے بعد خلیفہ کی جو امیر مقرر کرتی ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔
بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ وَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہٗ وَ یُطِیْعُوْ ہُ
رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقررکیا اور لوگوں کو اس کا حکم سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ۔ (مسلم :کتاب الامارۃ۔علی رضی اللہ عنہ)
درج بالا احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقرر کیا جانے والا امیرخلیفہ نہیں بلکہ خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جانے والا کوئی ذیلی حاکم (سپہ سالار یا کسی صوبے یا محکمے کا امیر) ہے جو غیر قریشی بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی لیکن وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔
 ۴۔ عاقل و بالغ ہوـــــــــ
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ﴿﴾ وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوْا النِّکَاحَ ج فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْآ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ ج
 اور نہ دو کم عقلوں کو اپنے مال جس کو بنایا اللہ نے تمہارے لیے ذریعہ گزران اور کھلاؤ انہیں اس میں سے اور پہناؤ بھی اور سمجھاؤ انہیں اچھی بات۔ اور جانتے پرکھتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں نکاح کی عمر کو ، پھر اگر تم پاؤ ان میں عقل کی پختگی تو دے دو ان کو مال ان کے۔ (۴:النساء۔۵،۶)
درج بالا آیات میں یتیموں کوان کے مال صرف اس وقت حوالے کرنے کا حکم نکلتا ہے جب وہ عاقل و بالغ ہو جائیں۔ جب کسی کو اس کا مال اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ عاقل و بالغ نہ ہو جائے تو اہل ِ ایمان کی سیاست کی ذمہ داری کسی ایسے فردکو کیونکر دی جا سکتی ہے جو عاقل و بالغ نہ ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلیفہ صرف اسی کو بنایا جائے گا جو عاقل و بالغ ہو ۔
 ۵۔ خلافت کی خواہش سے بے نیاز ہو
  جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
تَجِدُوْنَ النَّاسِ مَعَادِنَ فَخِیَارُھُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوْا وَ تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ فِی ھٰذَا الْاَمْرِ اَکْرَھُھُمْ لَہ‘ قَبْلُ اَنْ یَّقَعَ فِیْہِ
تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص خلیفہ بنا دیا جائے۔
 (مسلم: کتاب فضائل الصحابۃؓ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہا)
 لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُّ کِلْتَ اَلِیْھَا وَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسّْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلِیْھَا
حکومت مت مانگوکیونکہ اگر یہ تجھے مانگنے پرملی تو تم (بے یارومددگار) اسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائیگی۔ (مسلم:کتاب الامارۃ۔عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ)
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ‘ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ اَنَا وَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ عَمِّیْ فَقَالَ اَحَدُ الرَّجُلَیْنِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَمَّرَنَا عَلَی بَعْضِ مَا وَلَّاکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَ قَالَ الْاَخَرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ اِنَّا وَ اللّٰہِ لَا نُوَلِّیْ عَلٰی ھٰذَا الْعَمَلِ اَحَدًا سَأَلَہ‘ وَلَآ اَحَدًا حَرَصَ عَلَیْہِ
ابو موسٰی ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے ساتھ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا ان میں سے ایک بولا اے اللہ کے رسول ﷺہمیں کسی ملک کی حکومت دے دیجئے ان ملکوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیے ہیں اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم نہیں دیتے اس شخص کو جو اس کو مانگے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے۔ (مسلم،کتاب الامارۃ۔ابی موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ)
 ۶۔ پہلی بیعت
پہلی بیعت، عہدہِ خلافت خالی ہونے پر گواہوں کی موجودگی میں شرائط ِخلافت کے حامل کسی شخص ‘‘کے ہاتھ پرایک مومن کی طرف سے ہونے والی وہ بیعت ہے جو نیا خلیفہ بنانے کے حوالے سے امت میں سب سے پہلی بیعت ثابت ہو جائے ۔پہلی بیعت کا حامل اگردیگر شرائط خلافت پوری کرتا ہے تو اس پہلی بیعت کے منعقد ہونے کے وقت سے پوری اُمت کے لئے خلیفہ قرار پا جا تا ہے۔
 ٭ دیگرشرائطِ خلافت کا حامل ’’پہلی بیعت ‘‘کی فیصلہ کن شرط کا حامل ہو کر ’’سیاستِ اُمّہ کا ذمہ دار
 و عہدہ دار قرارپاجاتا ہے اوراس حوالے سے نام ِ عہدہ ’’خلیفہ‘‘ کا حامل ہو کر خلیفہ کہلاتا ہے ۔
 ٭ دیگرشرائطِ خلافت کا حامل ’’پہلی بیعت ‘‘کا حامل ہو کر سیاستِ اُمّہ کی ذمہ داری کے حوالے
 سے نبی ﷺ کانائب و جانشین قرار پا جاتا ہے اوراس حوالے سے خلیفہ کہلاتاہے ۔
٭ دیگرشرائطِ خلافت کا حامل پہلی بیعت کا حامل ہو کر تمام مسلمین کی سلطنت کا اُصولاًخلیفہ::وارث::
 قرار پا جاتا ہے پھر مسلمین کی طرف سے اپنی سلطنت کے اس اصولاً خلیفہ کواپنی بیعت ،اطاعت
 ونصرت کے ذریعے اپنی سلطنت سپرد کر دینے سے یہ’’عملاً خلیفہ ‘‘ بن جاتا ہے۔
 خلیفہ مومنین کی نصرت میسرآنے سے سلطنت و اقتدار کا حامل ہوتا ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حامل ہوئے تھے
 نبیﷺ اللہ کے مقرر کردہ نشانیوں کی بناء پر اللہ کے نبی تھے اور اس بنا پراصولاً تمام جن و انس کے حکمران اور تمام روئے زمین کے اقتدار کے حقدار تھے مگر اپنی بعثت کے ساڑھے تیرہ سال بعد تک روئے زمین کے کسی حصے پر اقتدار کے ’’عملاً حامل ‘‘ نہ ہو سکے تھے۔ آخر کار اللہ کی طرف سے آپ کو مومنین کی نصرت میسر آئی جس کے ذریعے سے شروع میں آپ مدینہ کی چھوٹی سی ریاست پرعملاًمقتدر ہوئے پھر مومنین کی نصرت ہی کی بنا پر قتال کے قابل ہوئے اور اس نصرت کے ذریعے سے اس چھوٹی سی ریاست کو وسعت دینے کے قابل ہوئے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
 فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوْالَّذِیْ ٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ﴿﴾
تو یقینا کافی ہے تمہارے لیے اللہ ۔ وہی تو ہے جس نے قوت بہم پہنچائی تمھیں اپنی نصرت سے اور مومنین کے ذریعہ سے۔
(۸:الانفال۔ ۶۲)
جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ پہلی بیعت کا حامل ہو جانے والا ’’اس پہلی بیعت سے ‘‘ خلیفہ قرار پاجا تا ہے اور تمام اہلِ ایمان پر لازم ہو جاتا ہے کہ اس کے ساتھ وفاداری نبھائیں اور اسے اس کے حقوق (بیعت ، اطاعت و نصرت) دیں۔ یوں وہ ’’ صرف ایک شخص‘‘یعنی پہلی بیعت کرنے والے پر مقتدر ہونے کی انتہائی کمزور حالت سے دیگر مومنین کی طرف سے بیعت کرتے چلے جانے ،ان کی طرف سے اپنے اوپراس خلیفہ کا اختیار و اقتدار تسلیم کرتے چلے جانے، اس کی اطاعت اختیار کرتے چلے جانے اور اس کی نصرت پر کاربند ہوتے چلے جانے سے یہ خلیفہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
پہلی بیعت کا حامل ہونے والا نبی ﷺ کی طرح اصولاً تو تمام اہل ِ ایمان کے لیے خلیفہ ، امیر، امام اور سلطان مقرر ہوتا ہے لیکن عملاً اس کا اقتدار وہاں تک قائم ہوتاہے جہاں تک کے لوگ اس کی بیعت و اطاعت اختیار کرتے ہیں جیسے نبیﷺ اصولاً تو تمام روئے زمین کے لیے مقتدر مقرر کیے گئے تھے لیکن عملاً آپؐ کااقتدار وہاں تک قائم ہوا تھا جہاں تک کے لوگ آپؐ پر ایمان لائے یا ایمان نہ لانے کے باوجود اہل ِ ایمان کی نصرت کے نتیجے میں آپ کے مطیع (ذمی) ہوئے۔
جوں جوں لوگ خلیفہ کی بیعت، اطاعت و نصرت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں اس کی امامت ، امارت اور سلطنت و اقتدارکا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اقتدار
 تمام مومنین کی بیعت ، اطاعت و نصرت میسر
آ جانے کی بنا پر تمام بلادِ اسلامیہ پر با آسانی قائم ہو گیا
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ پر پہلی بیعت کے انعقاد سے پہلے اگرچہ دیگر شرائط پوری کرتے تھے لیکن آپ ابھی ’’خلیفہ ‘‘نہیں تھے ورنہ صحابہ، عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے پہلے ہی آپ ؓ پر مجتمع ہو جاتے جبکہ ایسا نہ ہو سکا مگر جونہی آپ کے ہاتھ پر عمرؓ کے بیعت کرنے سے پہلی بیعت منعقد ہو گئی ا ٓپ خلیفہ قرار پا گئے مگر بیعت ہوتے ہی سب سے پہلے آپؓ کا اقتدار اس شخص پر قائم ہوا جس نے آپؓ کی بیعت کر کے اپنے اوپر آپؓ کا اقتدار تسلیم کیا یعنی عمر رضی اللہ عنہ ،پھر آپ کا اقتدار ثقیفہ بنی ساعدہ میں موجود بقیہ، بیعت کر کے آپکا اقتدار تسلیم کرنے والوں پر قائم ہوا پھر بقیہ افرادِ امت کے بیعت کرتے چلے جانے اور آپ کی اطاعت و نصرت اختیار کرتے چلے جانے سے آپ کے اقتدار کا دائرہ وسیع تر ہوتا گیا مگر یہ وسیع ہوتا ہوا دائرہ وہاں رک گیا جہاں مرتدین و منکرین زکوٰۃ کی حدیں شروع ہو گئیں۔ وہاں اہل ِ ایمان کی نصرت ہی سے ان کی سرکوبی ممکن ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں ان تمام بلادِ اسلامیہ پر آپ کا اقتدار قائم ہو گیا جو نبیﷺ چھوڑ کر گئے تھے پھر اہل ِایمان کی نصرت ہی سے آپ کے اقتدارکا دائرہ کار پہلے سے زیرِ خلافت علاقوں سے بھی آگے بڑھنا شروع ہو گیا۔
علی رضی اللہ عنہ کا اقتدار شام کے
 مومنین کی بیعت ، اطاعت اور نصرت
میسر نہ آ نے کی بنا پر بلاِ دِ شام پر قائم نہ ہو سکا
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد آنے والے دو خلفاء کا اقتدار بھی تمام اہلِ ایمان کی وفاداری فوراً میسر آ جانے پر پورے بلادِ اسلامیہ پر باآسانی قائم ہو گیا مگر علی رضی اللہ عنہ کو اہلِ شام کی بیعت، اطاعت و نصرت میسر نہ آ سکنے پر آپؓ کا اقتدار بلادِ شام پر قائم نہ ہو سکا۔
خلیفہ مقرر کرنے سے پہلے مجوزہ شخص پر اتفاق ِاُمت کی شرط
بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ مقرر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ساری اُمت خلیفہ کے لیے مجوزہ شخص پر متفق ہو چکی ہو۔
یہ شرط رکھنے والوں سے سوال ہے کہ اللہ کی شریعت میں اگریہ چیز شرط ہے تو لمبا عرصہ گزر چکاتھاخلافت کو ختم ہوئے آپ لوگ کسی ایک شخص پر متفق کیوں نہیں ہو گئے؟ جواب میں عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو ایک بہترین لیڈر پیش کیا تھا ( پارٹیوں والے اپنے اپنے لیڈر کا نام لیتے ہیں ) لوگ اس پر متفق نہیں ہوئے تو یہ لوگوں کا قصور ہے۔
’’ بعض لوگوں کے پسندیدہ لیڈر‘‘ پر تمام لوگ متفق نہیں ہوئے تو یہ لوگوں کا قصور نہیں بلکہ یہ فطرت کا تقاضہ ہے کیونکہ!
۱۔ اختلاف انسانوں کی فطرت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ﴿﴾ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ ط وَ لِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ط
اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے سوائے ان کے جن پر رحمت ہو تیرے رب کی اور اسی (امتحان) کے
لیے اس نے پیدا کیا ہے انہیں۔
(۱۱:ھود۔ ۱۱۸،۱۱۹)
۲۔ اہل ِ ایمان اگر کسی چیز پرمتفق رہ سکتے ہیں تو وہ صرف اللہ اور اسکے رسولﷺ کی بات ہے، اسی سے نکلنے کی بنا پر وہ تنازعے میں مبتلاء ہوتے ہیں، اور اگر وہ تنازعے میں مبتلا ہوجائیں تو جس بات پہ وہ دوبارہ متفق ہو سکتے ہیں وہ بھی صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات ہے کیونکہ اسی کا انہیں حکم دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَاتَفَرَّقُوْاص
اور تم سب مل کر حبل ِاللہ(کتاب اللہ) کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو کرو۔
(۳۔آلِ عمران۔۱۰۳)
وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوُلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا
اوراطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تنازعہ مت کرو(۸:انفال۔۴۶)
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴿﴾
 اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں تنازعہ پیدا ہو جائے تو اسے لوٹا دو فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی چیز اچھی ہے اور انجام کے اعتبار سے بہترین بھی ۔ ( ۴: النساء۔۵۹)
۳۔ اہل ِ ایمان از خود یا کسی کی دعوت دینے پر بھی کسی ایسی چیز یا شخص پرمتفق نہیں ہو سکتے جس پرمتفق ہونے کے لیے کوئی شرعی دلیل نہ ہو جبکہ اندھا دھند(اندھی تقلید میں) کسی کے جھنڈے تلے لڑتے ہوئے قتل ہو جانے کو جاہلیت کا قتل بھی کہا گیا ہے۔نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ
مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَاْیَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَِغْضَبُ لِعَصَبَۃٍ اَوْ یَدْعُوْا اِلٰی عَصَبَۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبَۃً فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ
جو شخص اندھا دھند(اندھی تقلید میں)کسی کے جھنڈے تلے لڑتا ہوا مارا جائے جوگروہ کے لئے غضب ناک ہو ،گروہ کی طرف دعوت دے اورگروہ کی نصرت کرے اور قتل ہوجائے تو ا س کا قتل جاہلیت کا قتل ہے۔
مسلم: باب الامارہ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبیﷺ کی وفات کے فوراً بعد، انبیاء کے بعد سب سے بہترین لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ازخودکسی شخص پر متفق نہیں ہو پا رہے تھے اور اس سلسلے میں ان کے تین گروہ بن گئے تھے۔ مہاجرین کی اکثریت نے ابو بکرؓ پر اتفاق کر لیا تھامگر علیؓ اور زبیرؓ اور ان کے ساتھ والوں نے اختلاف کیا تھااور انصار اپنے میں سے خلیفہ بنانا چاہتے۔
 ابو بکررضی اللہ عنہ بیعت سے پہلے امت میں بہت محترم اور دیگر شرائط ِ خلافت کے حامل تو تھے مگر اطاعت کے لیے ابھی فیصلہ کن شرعی دلیل کے حامل نہ تھے اس بنا پر صحابہؓ ان کے موجود ہونے کے باوجود ان پر مجتمع نہیں ہو پا رہے تھے مگر ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ پر عمررضی اللہ عنہ کے بیعت کرنے کے ساتھ ہی ’’ پہلی بیعت‘‘ کی فیصلہ کن شرعی دلیل کے حامل ہو گئے اس کے ساتھ ہی اُمت کے خلیفہ و امام قرار پا گئے اب ان سے اختلاف رکھنے والوں کے لیے بھی کوئی چارہ اس کے سوا نہ رہا تھا کہ شرعی دلیل کے حامل اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کی اطاعت اختیار کر لیں۔ صحا بہ رضی اللہ عنہم اندھی تقلید میں ابو بکر ؓ جیسی عظیم المرتبت شخصیت پر بھی متفق نہ ہو سکے لیکن جونہی آپ شرعی دلیل کے حامل ہو گئے صحابہ رضی اللہ عنہم ان پر باآسانی متفق ہو گئے۔
اس ساری تفصیل سے تقررِ خلیفہ کے حوالے سے جو اصول واضح ہوتا ہے وہ ’’ تقررِخلیفہ سے پہلے اتفاقِ امت‘‘ کی بجائے شرعی دلیل کی بنا پر خلیفہ قرار پا جانے والی شخصیت پر اتفاقِ امت ہے‘‘ اور نبیﷺ بھی ہر امتی کو’’پہلی بیعت ‘‘ کے حامل سے وفاداری کرنے اور اسے اس کا حق دینے کا حکم دے رہے ہیں نہ کہ پوری اُمت کو متفق ہو کے پہلی بیعت کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ
فُوْابِبَیْعَۃِ الْاَوَّلِ فَالْاَ وَّلِ اَعْطُوْ ھُمْ حَقَّھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ سَآئِلُھُمْ عَنْ مَّا اسْتَرْعَا ھُمْ۔
پہلی بیعت کے (حامل کے) ساتھ وفاداری کرو پھر پہلی کے ساتھ تم انہیں ان کا حق دو، ان سے انکی رعیت کے بارے میں اللہ پوچھے گا۔ (بخاری :ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)
اگر کسی کے خلیفہ قرار پانے کے لئے اتفاق ِ اُمت شرط ہوتا تو پھراُمت پر صرف بارہ خلفاء کا وجود مانا جانا چاہیے کیونکہ اُمت پر صرف بارہ خلفاء ایسے گذریں گے جن پرپوری اُمت متفق ہو سکے گی جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ
لَا یَزَالُ ھٰذَالدِّیْنُ قَائِمًا حَتّٰی یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً کُلُّھُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ لْاُمَّۃُ فَسَمِعْت کَلَامًا مِنَ النَّبِیِّ ﷺ لَمْ اَفْھَمْہُ قُلْتُ لِاَبِی مَا یَقُوْلُ قَالَ کُلُّھُمْ مِنْ قُرَیْشٍ
 یہ دین قائم رہے گا جب تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ایسے نہ گذر جائیں جن پر اُمت مجتمع ہوگی،(راوی کہتے ہیں) پھر میں نے نبی ﷺ سے ایسی بات سُنی جسے میں سمجھ نہ سکا، میں نے اپنے باپ سے پوچھا، اُنہوں نے کہا کہ’’ تمام قریش میں سے ہوں گے۔
ابی داود: کتاب المہدی۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ
 خلیفہ کے لئے لوگوں کی پیش کردہ شرط’’اتفاق ِ اُمت ‘‘ کو صحیح مان لیا جائے تو پھر علی رضی اللہ عنہ اور حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہیں مانا جانا چاہیے کیونکہ دونوں جب تک خلیفہ رہے ان پر پوری اُمت مجتمع نہیں ہوسکی تھی ۔
آخر میں اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کلمہ پڑھنے والوں کو قرآن اور نبی ﷺ کے فرمان پر مجتمع فرمادے تاکہ پھر سب مسلمان مل کر اللہ کا نازل کردہ نظامِ حکومت یعنی خلافت دینا میں قائم کرسکیں آمین ثم آمین یارب العالمین

Wednesday, November 28, 2012

اپنے علاقہ سے بالکل صحیح قبلہ کی سمت معلوم کریں

0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس کا استعمال بہت آسان ہے 
نقشہ کے اوپر جہاں لکھا ہے
 entar a location
 وہاں اپنے شہر، گاؤں کا نام لکھیں اور انٹر کا بٹن پریس کر دیں
تو آپ کے شہر سے ایک سرخ رنگ کی لکیر نکلتی نظر آئے گی وہی قبلہ کی سمت ہے
اس کو مزید واضح دیکھنے کے لیے آپ اس نقشہ کو زوم کرسکتے ہیں۔ 
نقشہ میں بائیں طرف اوپر جمع اور نفی کا نشان نظر آ رہا ہے جمع والے بٹن پر کلک کریں تو نقشہ زوم ہوتا جائے گا۔

      
     

     
      
     

Sunday, November 25, 2012

اذکار اور دعائیں مسنونہ سلسلہ نمبر 3

2 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
اذکار اور  دعائیں مسنونہ سلسلہ نمبر 3

نور حاصل کرنے کی دعا
 1صبح اور شام کے اذکار
 صبح اور شام کے اذکار2
 صبح اور شام کے اذکار3
 صبح اور شام کے اذکار4
بےبسی کی دعا
 مسافر کی مقیم کو اور مقیم کی مسافر کو دعا
 مسافر کی دعا جب صبح کرئے
 بلندی پر چڑھتے اور نیچے اترتے وقت کے اذکار
 جو کہے میں تم سے اللہ کے لیئے محبت کرتا ہوں اس کےلیے دعا
 قرض کی ادائیگی اور مال پیش کرتے وقت کی دعائیں
 جنت کے خزانوں سے ایک خزانہ
 تعجب اور خوش کن کام کے وقت کے اذکار 
 دشمن کے خلاف بدعا
 رات کو پہلو بدلتے وقت ذکر
 ظالم حکمرانوں اور دشمن کے متعلق دعائیں
 مشکلات کے حل کی دعا
 روزہ کھولنے کی مسنون دعا
 روزہ دار کو کوئی گالی دے تو کیا کہے؟
 افطار کروانے والے کو دعا 
 ایکسیڈنٹ یا کوئی بھی حادثہ کے وقت کی دعا 
 حج یا عمرہ کرتے وقت کی دعا::تلبیہ
 زندگی سے مایوس مریض کیلیے دعائیں

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سے کو ان دعاؤں کو وقت پر پڑھنے کی توفیق دے آمین

Thursday, November 22, 2012

مقلدين کا اختلاف قرآن و سنت سے

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحيم 

مقلدين کا اختلاف قرآن و سنت سے

















Posted by Picasa

Friday, March 2, 2012

خشکی اور پانی میں فساد کی وجہ اور حل قرآن و سنت کی روشنی میں

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر طرح کی تعریفیں اللہ رب العالمین کو ہی سزاوار ہیں جس نےیہ سب کائناتیں صرف چھ۶دن میں بنائیں اوراس عظیم ذات کوزرہ سی بھی تھکن نہ ہوئی،تیری حمد ہو اتنی جتنے درختوں کے پتے ہیں،تیری حمد ہو اتنی جتنے دن اور راتیں ہیں،تیری حمد ہو اتنی جتنے سب کائناتوں میں موجود ذرات ہیں
اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں محمد علیہ السلام پرآپ کی آل رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر۔
حمد و ثنا کے بعد موضوع کی طرف آتے ہیں۔ آپ بھائی لوگ اس میں کوئی غلط بات جو قرآن و سنت کے خلاف ہو اس کی نشان دہی فرمائیں قرآن و سنت کی دلیل کے ساتھ اور اگر صحیح سمجھتے ہیں تو پھر ایسی کوشش کی جائے کہ جس سے اللہ کے خالص دین قرآن و سنت کو قائم کیا جاسکےاور اس طرح اس شرک سے بچ جائیں جو اللہ کے حکم، قانون، نظام کو پسِ پشت ڈال کر ہم لوگ غیراللہ کے نظام اپنائے ہوئے ہیں اور غیراللہ کے حکم و قوانین لوگوں پر نافذ کرکے اس شرک کے مرتکب بن چکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 41؀
خشکی اورپانی میں فساد برپا ہوگیا ہے بسبب اس کے جو انسانوں کے ہاتھوں نے کمایا ہے تاکہ ہم انہیں ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائیں،شاید کہ وہ رجوع کریں۔
( سورۃالروم۔ آیت نمبر۴۱)


اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ۣ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ 62؀قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ 63؀قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ 64؀قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ۭ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُوْنَ 65؀

خبردار ! حکم کااختیارصرف اسی (اللہ) کے لئے خاص ہے اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ ان سے پوچھو خشکی اورپانی کی تاریکیوں میں کون ہے جس سے تم گِڑگِڑا ، گِڑگِڑا کر چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگرتُونے اس( مصیبت )سے ہمیں بچا لیا تو ہم شکر گزار ہوں گے,کہواللہ تمہیں اس سے اور ہرمصیبت سے نجات دیتا ہے پھر تم اُس کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ کہو وہ اس پر قادر ہے کہ کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے بپا کر دے یاتمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کودوسرے کی طاقت کا مزا چکھا دے ۔ دیکھو ہم بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید یہ حقیقت کو سمجھ لیں۔( سورۃالانعام۔۶۲..۶۵)


اس وقت پوری دنیاعموماً اورکلمہ پڑھنے والے خصوصاًاُس انجام میں مبتلا نظر آتے ہیں جو درج بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس تحریر میں پاکستان کی صورت ِحال کا جائزہ پیش کیا جائے گا، یہاں کے کلمہ پڑھنے والے اپنے اوپر سے تباہ کن بارشوں کے عذاب ، قدموں کے نیچے سے ہولناک سیلابوں اور زلزلوں کے عذاب سے بھی دوچار ہیں اور گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کو اپنی اپنی طاقت کا مزا چکھا نے کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں۔ہم جن پر بات کریں گے وہ ان کی بڑی گروہ بندی حکومت ، عدلیہ اور طالبان میں تقسیم ہے۔ حکومت کی طرف سے عدلیہ کوپارلیمنٹ کی قوت کا اور طالبان کو فوجی طاقت کا مزا چکھایا جا رہا ہے، جبکہ عدلیہ کی طرف سے حکومت کوفیصلہ سازی کی طاقت کا اور طالبان کی طرف سے حکومت کو گوریلہ جنگ اور خود کش حملوں کی طاقت کا مزا چکھا یاجارہا ہے ۔ اوپردرج آیات سے واضح ہوتاہے کہ یہ سارے عذاب’’انسانوں کی طرف سے اللہ کے ساتھ شرک کرنے ‘‘ کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ کلمہ طیبہ سے جو تین نکاتی اُصولِ بندگی سامنے آتا ہے اُس میں سب سے پہلا نکتہ’’شرک سے یعنی غیراللہ کی عبادت سے انکار کرناہے‘‘ کہ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
کوئی الٰہ نہیں ہے سوائے اللہ کے ، محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں
چنانچہ
غیراللہ کی عبادت ہرگز نہ کی جائے ، اللہ کی عبادت لازماً کی جائے
اور
اللہ کی عبادت صرف ویسے کی جائے جیسے محمدﷺ نے بتایا ہے
چونکہ کلمہ طیبہ سب سے پہلے شرک ہی سے انکارکا کلمہ ہے اس لئے اس کلمے پر ایمان رکھنے والوں کی طرف سے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی بات عموماًعجیب سمجھی جاتی ہے اور اس کے لئے رسول اللہﷺ کایہ ارشادبھی پیش کیا جاتا ہے کہ
وَ اِ نِّی وَاللّٰہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ وَلٰکِنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنَا فَسُوْا فِیْھَا
اور یقیناً میں،اللہ کی قسم، تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتاکہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لئے حرص کرنے لگو گے۔
(بخاری: کتاب المغازی۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ)
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کاارشاد اُن لوگوں ہی پر پورا اُترسکتا ہے جواُس وقت آپ کے اوّلین مخاطبین تھے یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کہ آپﷺ کے بعد صحابہ لازماً شرک سے بچے رہیں گے جبکہ دیگر احادیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ اُمت پرسے اللہ کے قوانین کے مطابق حکومت ختم ہو جائے گی (اس کے نتیجے میں لامحالہ مخلوق کے قوانین کے مطابق حکومت شروع ہوجائے گی) اور اُمت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور بعض قبائل اوثان (بتوں، قبروں، پرچموں وغیرہ)کی عبادت شروع کردیں گے ، یہ سب شرک کی واضح صورتیں ہیں۔ نبیﷺ کے ارشادات ہیں کہ
لَیُنْقَضَنَّ عُرَی الْاِسْلَامِ عُرْوَۃً عُرْوَۃً فَکُلَّمَا انْتَقَضَتْ
عُرْوَۃٌ تَشَبَّثَ النَّاسَ بِالَّتِیْ تَلِیْھَا وَ اَوَّلُھُنَّ نَقْضًا الْحُکْمُوَ آ خِرُھُنَّ الصَّلَاۃُ
اسلام کی رسی گِرہ گِرہ کرکے کھل جائے گی ،جب کبھی ایک گِرہ کھلے گی تو لوگ اُس کے ساتھ چمٹ جائیں گے جو بندھی ہو گی اور سب سے پہلے جو گرہ کھلے گی وہ ’’حکم‘‘ کی ہوگی اورسب سے آخر ی صلوٰۃ کی ہوگی۔
(احمد : باقی مسندالانصار۔ ابی امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ)


وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِی بِالْمُشْرِکِیْنَ وَحَتَّی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِی الْاَوْثَانَ وَ اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّبُوْنَ ثلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ میری اُمت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور حتیٰ کہ بعض قبائل اوثان کی عبادت شروع کردیں گے اورمیری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں گے، ہرکوئی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے جبکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔
(احمد : باقی مسندالانصار۔ ثوبان رضی اللہ عنہ)
چونکہ احادیث سے بھی اُمت کے بعض قبائل کے شرک میں مبتلا ہونے کی خبر ملتی ہے اور پاکستان کے لوگ بھی پے درپے جن عذابوں سے دوچارہورہے ہیں قرآنی آیات سے وہ تمام عذاب بھی شرک کے انجام کے طور پر سامنے آتے ہیں چنانچہ یہ عذاب ہمیں اپنا جائزہ لینے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم دیکھیں کہ کہیں ہم بھی اُمت کے اُن قبائل میں شامل تو نہیں ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کے گناہ ِ عظیم میں مبتلا ہو جائیں گے جبکہ شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَن یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُمَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُج


بے شک اللہ تعالیٰ شرک ہی کو معاف نہیں کرتا اس کے سوا ہر گناہ معاف کر سکتا ہے جس کے لیے چاہے۔ (۴: النساء۔۴۸)

وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ١٠٧؁

اور ان میں سے اکثر اللہ پہ ایمان نہیں رکھتے مگر یوں کہ وہ شرک بھی کرتے ہیں، تو کیا یہ بے خوف ہیں اس بات سے کہ آ پڑے ان پر کوئی آفت اللہ کے عذاب کی یا آپڑے قیامت کی گھڑی اچانک جبکہ انہیں خبر ہی نہ ہو۔(۱۲: یوسف ۔۱۰۶،۱۰۷)
اس تحریر کے آغاز میں درج سورۃالانعام کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اَ لَالَہُ الْحُکْم (خبردار! حکم کااختیارصرف اسی (اللہ) کے لئے خاص ہے ) ،آگے فرمایا ہے کہ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ( پھر تم اُس کے ساتھ شرک کرتے ہو)۔اللہ کے حکم کے مقابل شرک کی ایک صورت یہ ہے کہ ’’بلاواسطہ صرف اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق قرآن وسنت کی دلیل کے ساتھ حکم،قانون و فیصلے جاری کرنے کااُصول وطریقہ(سنت) اپنانے کی بجائے مخلوق کی خواہشات، اس کے فلسفوں،اِزم و نظریات، آئین و قوانین ، فیصلوں؍ فتووں اورفہم وفقہہ وغیرہ کی دلیل کے ساتھ حکم ،قانون و فیصلے جاری کرنے کااُصول اپنایا جائے جبکہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے کہ
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا فیصلہ کر دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(سورۃ ا لشوریٰ۔ ۲۱)
آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایسادین یعنی ایسااُصول وقانون اختیار کرناجس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نہ ملتی ہو؍اللہ کے نازل کردہ ’’حق ‘‘ سے دلیل نہ ملتی ہوتواُس اُصول و قانون بنانے والے کی اتباع و اطاعت کرکے اس کو اللہ کا شریک بنانا ہے۔
انصاف پرمبنی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کے بارے میں حقیقی حکم ،قانون اور فیصلہ مخلوق کا خالق ہی جاری کر سکتا ہے نہ کہ خودمخلوق، کیونکہ مخلوق کا خالق اور اُن کا ربِّ حقیقی ہونے کی بنا پر و ہی بہتر جان سکتا ہے کہ مخلوق کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا :
اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ 
کیا وہ ہی نہ جانے گا جس نے تخلیق کیا ہے؟ حالانکہ باریک بین اور باخبر تو وہ ہی ہے۔(سورۃ الملک۔ ۱۴)
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط یَقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ
حکم کا اختیار تو صرف اللہ کے لئے خاص ہے، وہ ہی حق بات بیان کرتا ہے اور وہ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والاہے۔

(سورۃ الانعام۔ ۵۷)
اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۭوَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ١١٤؁وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ١١٥؁وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁(کہیے ) تو کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں حالانکہ وہی ہے جس نے تم لوگوں کی طرف یہ ’’کتاب ‘‘پوری تفصیل کے ساتھ نازل کی ہے اور جن کو ہم نے یہ کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا ۔ کامل ہے آپ کے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے،کو ئی اس کی بات کو تبدیل کرنے والا نہیں اور سب کچھ سننے اور جاننے والا وہی ہے۔اگر آپ لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلیں گے جو زمین میں بستے ہیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض ظن کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
(۶: الانعام ۔۱۱۴․․۱۱۶)
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 50۝ۧ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔(اگر یہ اللہ کے فیصلے سے منہ موڑتے ہیں ) تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
(سورۃ المائد ہ ۔۴۹،۵۰)

مخلوق کے لئے اس کے خالق کانازل کردہ مکمل ومفصّل حکم حق کتابُ اللہ (قرآن مجید)اور سنت ِمحمد رسول اللہﷺ‘ہے ،ا س کی اتباع کاایک ح یہ ہے کہ مخلوق کے معاملات و اختلافات میں مخلوق کے کسی آئین وقانون اور فہم وفقہ کو اختیار کئے بغیر بلاواسطہ صرف’’قرآن وسنت‘‘ کی دلیل کے ساتھ حکم و فیصلے جاری کئے جائیں، اسی کا اللہ نے حکم دیا ہے ، یہی مومنین کے لئے مقرر کردہ راستہ( سبیل المؤمنین) ہے ، یہی نبی ﷺاور خلفائے راشدین کی سنت رہی ہے اور اسی سنت کواپنانے کا حکم نبی ﷺنے بھی دیا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ اورنبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59؀ۧاَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ ۭ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا 60؀اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ امر کی جو تم (اہل ایمان) میں سے ہوں۔ اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے لوٹا دو فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہوتو ۔ یہی چیز اچھی ہے اور انجام کے اعتبار سے بہترین بھی یہی ہے۔آپ ﷺنے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس پر جوآپ پر نازل ہوا ہے اور اس پر جوآپ سے پہلے نازل ہوا ہے مگرفیصلہ کروانے کے لیے طاغوت کے پاس جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں اس سے کفر کا حکم دیاگیا ہے۔ شیطان انہیں راہ راست سے بھٹکا کر دور کی گمراہی میں لے جانا چاہتا ہے۔
( ۴: النساء۔۵۹․․․۶۰)

مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمبِسُنَّتِی وَ سُنَّتِ خُلْفَاءِ الْمَھْدِیِیْنَ الرَّاشِدِیْنَ تَمَسَّکُوْبِھَا وَعَضُّوْاعَلَیْھَا بِاالنَّوَاجِذِ وَاِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٍ وَّ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ
تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت سے اختلاف دیکھے گا پس تمہارے اوپرلازم ہے میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت ،اس کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہو جاؤ اور اسے داڑھوں سے پکڑو اور نئی باتو ں سے بچو بے شک ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (ابودا وٗد: کتاب السنہ۔ العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ)
قرآن وسنت‘‘کی دلیل کے خلاف اوراس کی دلیل کے بغیر اُصول وقانون بنانے والااورحکم وفیصلہ جاری کرنے والا اللہ کے ہاں طاغوت کہلاتاہے اور ایسا اُصول وقانون،حکم وفیصلہ طاغوتی وغیراسلامی کہلاتا ہے۔ آج ہم کلمہ پڑھنے والوں کے ممالک کو دیکھیں تواکثر میں حکومت طاغوتی و غیراسلامی آئین و قوانین کے مطابق ہی ہورہی ہے، اگر کہیں ’’قرآن وسنت‘‘ کے مطابق حکومت ہے بھی تو اس کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے چارٹروقوانین کی اطاعت کے شرک نے قرآن وسنت کے مطابق حکومت کی نیکی پر پانی پھیر دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ اگر تم نے شرک کیا توتمہارا عمل ضائع ہو جائے گا۔ ( سورۃ الزمر۔۶۵)

پاکستان کے حوالے سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کاآئین ا ور قوانین تو اسلامی ہیں، اور پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہے تو بتایا جائے کہ ان میں سے آخر کون سے قوانین خلاف ِاسلام ہیں؟
قابل ِ غور بات یہ ہے پاکستان کے آئینی قوانین اوردیگرقوانین اگراسلامی ہیں تو کیاوہ سب’’قرآن وسنت‘‘ کی دلیل کے ساتھ ہیں؟ یقیناً نہیں ہیں ! بلکہ فرعونوں اور طاغوتوں(امریکہ ،برطانیہ وغیرہ) کے بنائے ہوئے قانون ِ سیاست ’’جمہوریت‘‘ سمیت بہت سے بنیادی قوانین ایسے ہیں کہ جن کے خلاف ’’قرآن وسنت‘‘ میں واضح احکامات موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگرپاکستان کے آئینی قوانین و دیگر قوانین اسلامی تھے تو پھرآئین میں قراردادِ مقاصد کے ذریعے اللہ کے ’’حاکم مطلق ‘‘ ہونے کی بات اوریہ بات شامل کرنے کی ضرورت کیوں درپیش آئی تھی کہ’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا (شق۲۲۷(۱) )۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کاآئین و قوانین شروع ہی سے طاغوتی و غیراسلامی تھے اسی لئے تو مذکورہ بالا دونوں چیزیں آئین میں شامل کی گئی تھیں ورنہ انہیں شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی مگر پھر بھی عرصہ ِ دراز گذرنے کے باوجود غیراسلامی آئین و قوانین’’قرآن وسنت‘‘کے مطابق تبدیل نہیں کئے گئے ہیں۔ سوال یہ ہیں کہ ’’ اللہ کے حاکم ِمُطلق ہونے کی بات‘‘ اور ’’ قوانین کو ’’قرآن وسنت‘‘ کے مطابق بنانے کا وعدہ‘‘غیراسلامی آئین میں شامل کرلینے سے کیا غیراسلامی آئین و قوانین ’’اسلامی‘‘ ہوجاتے ہیں؟ اوراُن کانفاذ و اطاعت جائز ہو جاتی ہے؟ حرام گوشت میں چند بوٹیاں حلال گوشت کی ڈال دینے سے کیاحرام گوشت حلال ہوجاتاہے ؟ کسی بت کے ماتھے پرکلمہ طیبہ لکھ دینے سے کیا اس بت کو سجدہ جائز ہو جاتا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ کلمہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کہ جس کی شہادت دے کر انسان اللہ کے دین میں داخل ہوتا ہے یہ کلمہ غیراللہ کی اطاعت (جوکہ بنیادی فعل ِعبادت ہے) اوراللہ کی اطاعت کے حوالے سے معاملہ بالکل واضح کر دیتا ہے۔ اس میں لَآاِلٰہَ کااِلَّا اللّٰہ سے پہلے آنا اس بات کاپابند کرتا ہے کہ صرف اﷲ کو الٰہ ماننے اورصرف اس کی اطاعت پر عمل پیر اہونے سے پہلے لازم ہے کہ طاغوت کی اطاعت سے انکار کر دیا جائے ،یوں لَا ٓاِ لٰہَ کے زیرِاطاعت لازم تھا کہ پہلے پاکستان کے پورے طاغوتی آئین اورہرفہرست ِ قوانین کو اُٹھا کر پرے پھینک دیا جاتا پھر اِلَّا اللّٰہُ اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کے زیر اطاعت صرف اﷲکے نازل کردہ حق’’کتاب اللہ (قرآن مجید)اور سنت ِ محمدرسول اللہﷺ‘‘‘کو واحدآئین وقانون کے طور پر اختیار کر لیا جاتا، یوں باطل مکمل طور پر چلا جاتااور حق مکمل طور پر آ جاتا جیسا کہ نبی ﷺاور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا۔
پاکستان میں کلمے کا مذکورہ بالاحق ادا کئے بغیرطاغوتی آئین ہی میں اللہ کے حاکم ِمطلق ہونے کی بات شامل کر کے اس طاغوتی آئین ہی کو اسلامی قرار دے لیا گیا ، انصاف کی علمبردار عدالتوں نے بھی آئین میں خالق کو حاکمِ مطلق مانے جانے کے باوجود خالق کے نازل کردہ حق’’قرآن وسنت‘‘سے مخلوق کے مقدمات کے فیصلے شروع کرنے کی بجائے مخلوق کے تیار کردہ آئین وقانون ہی سے مخلوق کے فیصلے جاری رکھے جبکہ انصاف پر مبنی یہ حقیقت عیاں ہے کہ مخلوق کے لئے حقیقی قانون اُس کے خالق ہی کاہوسکتاہے نہ کہ خود مخلوق کا۔
علما ء نے بھی حکمرانوں سے’’ نبیﷺ اور خلفائے راشدین کی سنت یعنی ’’بلاواسطہ صرف ’’قرآن وسنت‘‘ کی دلیل کے ساتھ فیصلے کرنے کی سنت‘‘ کواختیار کرنے کامطالبہ کرنے کی بجائے سلف کے فہم وفقہہ(فقہ حنفی،فقہ جعفری وغیرہ) کے نفاذ کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان میں ’’قرآن وسنت‘‘کے ساتھ طاغوتی آئین اور سلف کے فہم وفقہ کو جمع کردینے سے اللہ کے دین ِخالص ’’قرآن وسنت‘‘ کے نفاذکی حقیقت خرافات میں کھو کر رہ گئی اور لوگ خالصتاً ’’قرآن وسنت‘‘کے نفاذو اطاعت کی نعمت سے محروم رہ گئے جبکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ
اِنَّآاَنْزَلْنَآاِلَیْ کَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِاللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَاَ لَالِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ط
یقینا ہم نے اس کتاب کو آپﷺ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ ﷺاللہ ہی کی عبادت کریں دین کو اس کیلئے خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ کیلئے (قابلِ قبول) صرف دین ِ خالص ہے۔
(سورۃ الزمر۔۲،۳)
پاکستان کا آئین اسلامی سمجھا جاتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ آئین اسلامی ہونے کی بجائے اللہ کے ساتھ شرک کی عجیب مثال بناہوا ہے کیونکہ کہ یہ آئین حاکم ِ مطلق اللہ کو مانتا ہے مگر اپنے متن میں طاغوتی قوانین رکھتا ہے اور وفاقی وصوبائی قوانین کی اُن فہرستوں کی سرپرستی بھی کرتا ہے جو طاغوتی قوانین سے بھری ہوئی ہیں۔

حیرت ہے کہ جو عوام اسلام کی خاطر ملک حاصل کرنے کے لئے پاکستان کا مطلب کیا لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا نعرہ لگا کر لاکھوں جانوں کی قربانی دے سکتے تھے اورزبردست جدوجہد کے ساتھ قراردادمقاصد کوطاغوتی آئین میں شامل کروا سکتے تھے وہی عوام صحیح راہنمائی ملنے پر لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پرایمان کے اوّلین تقاضوں کے طورپرتمام طاغوتی آئین وقوانین کو ردّ کرکے صرف’’قرآن وسنت‘‘ کو واحدآئین وقانون کے طورپرکیوں نہیں منواسکتے تھے مگر وقت کے فکری راہنماؤں نے ان کی صحیح راہنمائی نہیں کی اورانہیں طاغوتی آئین وقوانین کی اطاعت (طاغوت کی عبادت )میں مبتلا کرکے مصیبتوں کی راہ پر لگادیا جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36؀ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ تو ان میں سے کسی کواللہ نے ہدایت عطا فرمادی اور کسی پر گمراہی چسپاں ہو گئی ، تو زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔(سورۃ النحل۔ ۳۶)

اللہ تعالیٰ تو ہر اُمت میں اس لئے رسول بھیجتا رہاہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا جائے مگرصحیح فکری راہنمائی نہ ملنے پرآج حکمران بھی ’’قرآن وسنت‘‘ کی بجائے پولیس اور فوج کی طاقت سے طاغوتی آئین وقانون ہی نافذ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، عدالتیں بھی’’قرآن وسنت‘‘کی بجائے طاغوتی آئین وقوانین سے فیصلے کررہی ہیں ، عام سیاسی پارٹیاں تو اسلام سے ہیں ہی بیزار ، مذہبی سیاسی پارٹیاں بھی اسمبلیوں میں پہنچ کر اسی آئین کی پاسداری کا حلف اُٹھاتی ہیں جو حاکم ِ مطلق تواللہ کو مانتا ہے مگر اپنے متن میں بھی طاغوتی قوانین رکھتا ہے اور طاغوتی قوانین سے بھری ہوئی فہرستوں کی سرپرستی بھی کرتا ہے ۔ طالبان وغیرہ بھی خالصتاً ’’قرآن وسنت‘‘کونافذکرنے کی بجائے ساتھ سلف کے فہم وفقہہ کو بھی نافذکرنا چاہتے ہیں۔
حکمرانوں اور طالبان کی جنگ میں ہرکوئی اپنے مقتول کوشہید قرار دے رہا ہے :::یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے کہ شہادت ایک رتبہ ہے جو اللہ جس کو چاہے دے اور آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ دوزخ میں سب سے پہلے جانے والا بھی بظاہر شہید ہی ہوگا مگر اللہ نے اس کی شہادت کو قبول نہیں کیا،اس لیے ہم کسی کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ شہید ہے بلکہ اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ کے رستے میں قتل ہوگیا ہے :::جبکہ صرف وہ مقتول شہید ہوسکتا ہے جو ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ میں قتل ہوجائے اور ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ صرف وہ ہے جو ’’اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لئے کیا جائے جبکہ نہ پاکستان کا آئین وقانون اور نہ ہی سلف کا فہم وفقہ اللہ کانازل کردہ کلمہ ہے،اللہ کانازل کردہ کلمہ توصرف قرآن وسنت ہے یوں جو صرف اسی کلمے کے اُصولوں کی روشنی میں صرف اسی کلمے کے نفاذکے لئے قتال کرے صرف اُس کا قتال فی سبیل اللہ ہوسکتا ہے۔ نبیﷺ کاارشاد ہے کہ
مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ العُلْیَا فَھُوَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ
جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ غالب ہوتو اُس کا قتال فی سبیل اللہ ہے۔
(بخاری: کتاب الجہاد والسیر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ)


پاکستان میں جہاں طاغوت کے آئین وقانون کے نفاذ،اوران کی اطاعت اور ان کے مطابق معاملات و مقدمات کے فیصلے کرنے اور کروانے کا شرک سامنے آتا ہے وہیں اوثان کی عبادت کا شرک بھی سامنے آتا ہے کہ بہت سے لوگ قبروں کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور غیراللہ سے حاجات بھی مانگتے ہیں۔ جب شرک کی یہ تمام صورتیں واضح طور پر موجود ہیں تو پھر طوفانی بارشوں، سیلابوں اور زلزلوں کا عذاب اور ایک ہی کلمہ پڑھنے والے پاکستانی حکمرانوں، عدلیہ اور طالبان وغیرہ کاگروہوں میں تقسیم ہوکرایک دوسرے کو اپنی طاقت کامزہ چکھانے کا عذاب اسی شرک کے نتیجے کے طور پر سامنے آتاہے،جیسا کہ ا س تحریر کے شروع میں درج سورۃ الانعام کی آیات سے واضح ہوتا ہے ۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے یا عذاب ؟اور آزمائش کہنے سے وہ آزمائش مرادلے رہے ہیں جو انبیاء علیہم السلام اورصالحین پر اُن کے درجات کی بلندی کے لئے آتی رہی ہے۔
اگر تو قوم اور اُس کے لیڈروں کا کردار انبیاء اورصالحین جیسا ہے تو پھر سوچا جا سکتا ہے کہ قوم پر آنے والی آزمائش اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہے لیکن جب قوم میں دھڑلے سے بھی اور حیلے بہانے سے بھی اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہو حتیٰ کہ اپنے خالق، مالک اور رازق سے شرک تک کاظلم ِ عظیم موجود ہو تو پھر اگر آزمائش بھی ہو تو وہ درجات کی بلندی والی آزمائش نہیں بلکہ بالکل مٹا دینے والے فیصلہ کن عذاب سے پہلے راہ راست پر لانے والے عذاب کی صورت میں ہوتی ہے کہ شائد کہ وہ رجوع(توبہ) کریں جیساکہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ

وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘاِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ كَذٰلِكَ ڔ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ١٦٣؁وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨا اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ ١٦٤؁فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ١٦٥؁فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ١٦٥؁اور پوچھو ان سے حال اس بستی کا جو سمندر کے کنارے واقع تھی ، جب وہ ہفتے کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کیاکرتے تھے ، جبکہ مچھلیاں بھی ہفتے ہی کے دن اُبھر اُبھر کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتے کا دن نہیں ہوتا تھا تو نہیں آ تی تھیں، اس طرح سے ہم ان کوآزما رہے تھے کیونکہ وہ نافرمان تھے،اور جب کہا ایک گروہ نے اُ ن میں سے (اُن لوگوں سے جو نصیحت کرتے تھے )کہ کیوں نصیحت کرتے ہو تم اُن لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا سخت ترین عذاب دینے والا ہے تو اُن (نصیحت کرنے والوں )نے کہا کہ( ہم اس لئے نصیحت کرتے ہیں )تا کہ ہم معذرت پیش کر سکیں تمہارے رب کے ہاں اور اس لئے بھی کہ شائد وہ (نافرمانی سے ) پرہیز کرنے لگ جائیں ۔ پھر جب وہ (بستی والے)بھول گئے ان ہدایات کو جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو نجات دی ہم نے اُن کو جو منع کرتے تھے برے کام سے اور پکڑ لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ظالم تھے بدترین عذاب میں بسبب ان نافرمانیوں کے جو وہ کرتے تھے، پھر جب انہوں نے سرکشی کی ان کاموں میں جن سے انہیں منع کیا گیا تھاتو ہم نے ان سے کہا کہ بن جاؤ بندر ذلیل و خوار۔(سورۃ اَلاعْراف۱۶۳۔۔۔۱۶۶)
مِنْھُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ وَ بَلَوْنٰھُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ
اور کچھ اُن میں سے نیک ہیں اورکچھ اُن میں سے مختلف ہیں اس سے اور آزمایا ہم نے اُن کو آسائشوں اور تکلیفوں سے شائد کہ وہ پلٹ آئیں ۔ (سورۃ اَلاعْراف ۱۶۸)

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ ا لْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِ یْقَھُمْبَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿﴾ قُلْ سِیْرُوْا فِیْ الْاَرْضِ فَانْظُرُ وْا
کَیْفَ کَا نَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ ط کَانَ اَکْثَرُ ھُمْ مُّشْرِکِیْنَ
خشکی اورپانی میں فساد برپا ہوگیا ہے بسبب اس کے جو انسانوں کے ہاتھوں نے کمایا ہے تاکہ ہم انہیں ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائیں،شاید کہ وہ رجوع کریں۔ کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو ان لوگوں کا انجام جو تم سے پہلے گذرے ہیں ان میں سے بھی اکثر مشرک ہی تھے۔
(سورۃالروم۔ آیت نمبر۴۱،۴۲)
یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان میں طاغوت کے آئین وقوانین کے نفاذکااور اوثان کی عبادت (قبرپرستی وغیرہ)کا شرک غالب ہے ، جب یہ شرک غالب ہے تو پھر یہی خشکی اور تری میں فساد کی غالب وجہ ہے چنانچہ اس فسادسے بچنے کی صورت بھی اس کے سوا کوئی اور نہیں ہے کہ پاکستان کے کلمہ گوفکری وسیاسی راہنما، علماء ، حکمران ،جج،طالبان اور عوام ذرا دیرکئے بغیر اللہ تعالیٰ کے حضو ر توبہ کریں، طاغوت کے آئین وقوانین اور اوثان کی عبادت کوفوراًچھوڑدیں اورکسی کے فہم وفقہ کو بھی فوراً ترک کردیں، سب مل کرصرف اﷲ کی رسی ’’ کتابُ اللہ (قرآن)اور سنت ِ رسول اللہ علیہ السلام کو مضبوطی سے تھام لیں کہ صرف یہی ان کی نجات و وحدت کی رسی ہے، صرف اس کو ’’ واحدآئین وقانون‘‘ ماننے کا اعلان کریں، اس کاصرف وہ فہم لیں جو اسی کے دلائل سے سامنے آتا ہے پھر اس کے دیئے ہوئے اُصولوں کی روشنی میں ایک ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
یٰٓاَ یُّہَاالَّّذِیْنَ اٰمَنُوْااتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ 
وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَاتَفَرَّقُوْاص
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔اور تم سب مل کر اللہ کی رسی(قرآن وسنت) کو مضبوطی سے تھامے رکھو اورتفرقے میں مت پڑو۔ (سورۃآلِ عمران۔۱۰۳،۱۰۴)

تمام کلمہ پڑھنے والوں پر لازم ہے کہ خود اللہ کی رسی کو تھامنے کے بعد تمام اقوام ِ عالم کو بھی انصاف پرمبنی یہ حقیقت بتائیں کہ مخلوق کے مسائل کا حقیقی حل تمام مخلوق اوراُس کی اسمبلیاں مل کر بھی نہیں نکال سکتی ہیں بلکہ مخلوق کے مسائل کا حقیقی حل صرف وہی جانتا ہے جس نے اسے تخلیق کیا ہے چنانچہ تمام اقوام مخلوق کے بنائے ہوئے چارٹرز،آئین وقوانین کو چھوڑ کرصرف اپنے خالق کے حکم ’’قرآن وسنت‘‘کو’’واحدا ٓئین وقانون ‘‘ کے طورپراختیار کریں کہ یہی دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے اوراگروہ ساتھ ایمان بھی لے آئیں تو آخرت میں بھی کامیاب ہوں گے اِن شاء اللہ۔