Tuesday, March 29, 2011

نئی ویڈیو سونامی

0 تبصرہ جات
video


Monday, March 28, 2011

مسلم بنو ایک بنو::ضرور دیکھیں::

0 تبصرہ جات

ایک ہے اللہ ایک نبی اور ایک ہی قرآن
تو پھر کیوں بھٹک گیا انسان۔۔۔۔۔
آپس میں ہے بغض و عداوت امتِ مسلم کی یہ حالت
کوئی سندھی کوئی مہاجر تو کوئی ہے افغان
جبھی تو بھٹک گیا انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, March 26, 2011

جشنِ میلاد پر ایک مکالمہ

0 تبصرہ جات

جُنید: السلام علیکم۔
عبداللہ: وعلیکم اسلام ۔سنائے آج کیسے صبح صبح آگئے،دکان پرنہیں گئے؟
جُنید: آج تو عید میلادالنبی ہے ، بازار ، دکانیں سب بند ہیں۔
عبداللہ :اچھا تو آپ آج عید منارہے ہیں۔
جُنید:کیا آپ نہیں منارہے ہیں؟
عبداللہ:عیدیں تو اسلام میں صرف دوہی ہیں، (١)عید الفطر اور (٢)عیدلاضحی۔
جُنید:یہ تیسری عید بھی تو ہے جسے عید میلادالنبی کہتے ہیں۔
عبداللہ: اچھا آپ ذرا یہ بتائیں یہ جو تیسری عید ہے ، کیا اس عید والے دن عید گاہ جاکر نماز عید ادا کی جاتی ہے ؟
جُنید:عید میلادالنبی کی نماز تو ہوتی ہی نہیں ہے۔
عبداللہ:باقی دوعیدوں کی نمازیں پھر آپ کیوں پڑھتے ہیں؟
جُنید:وہ تو پڑھنی چاہیئے؟
عبداللہ:وہ کیوں پڑھنی چاہیئے۔
جُنید:اس لئے کہ ان کے پڑھنے کا حکم ہے ۔

عبداللہ:کیا عید میلادالنبی کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے ؟
جُنید:نہیں ہوگااس لئے تو کوئی نہیں پڑھتا۔
عبداللہ:کیا عید میلادالنبی منانے کا کہیں حکم ہے ؟
جُنید:سنا تو نہیں کہیں حکم ،منع بھی تو نہیں ہے ۔
عبداللہ:کیا اس کی نماز ِعید منع ہے ؟
جُنید:منع تو وہ بھی نہیں ہے۔
عبداللہ:پھر آپ کیوں نہیں پڑھتے؟
جُنید:آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟
عبداللہ:میں بتانا چاہتاہوں کہ اسلام میں اس عید کا کوئی ثبوت نہیں ، اگر یہ عید اسلام میں ہوتی تو باقی دوعیدوں کی طرح اسکی نماز بھی ہوتی ، اس کی فضیلت حدیث میں پائی جاتی ۔ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ سلم اس کے احکام اور مسائل کو بیان فرمائے ہوتے۔
جُنید:جو لوگ یہ عید مناتے ہیں کیا وہ غلطی کرتے ہیں؟
عبداللہ:اسلام مسلمانوں کے عمل کا نام نہیں ، اسلام قرآن اور حدیث کا نام ہے ، جو بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ دین ہے ، جو ثابت نہیں وہ دین نہیں۔اگر کوئی اس کو دین بناتا ہے تو وہ دین میں اضافہ کرتا ہے جو ایک سنگین جرم ہے ، اسی کو بدعت کہتے ہیں ۔آپ     صلی اللہ علیہ سلم نے اپنی امت کو بدعت سے بہت ڈرایا ہے ۔
جُنید:کیا صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں عیدمیلاد النبی کوئی مناتا تھا؟
عبداللہ:سوال ہی پیدانہیں ہوتا، صحابہ اور تابعین کے بعد کسی امام ومحدث نے بھی یہ عید نہیں منائی ،اہل سنت کے چاروں اماموں نے تو اس عید کا نام بھی نہ سنا تھا۔یہ بدعت  ٦٢٥ھ سے شروع ہوئی ہے
جُنید:یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک مسلمان اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ سلم سے محبت بھی کرتا ہواور آپ کی پیدائش کا دن خاموشی سے گزاردے۔
عبداللہ:ایسا ہوسکتا ہے اور ہوا ہے ۔آپ کبھی کسی تاریخ میں نہیں دکھاسکتے کہ صحابہ وتابعین اور ائمہ سلف نے یہ عید منائی ہو۔نبی  صلی اللہ علیہ سلم سے محبت کتاب وسنت پر عمل کرنے سے ظاہر ہوتی ہے نہ کہ عید منانے سے ۔کیا  ٦٢٥ھ سے پہلے کے لوگوں کو نبی  صلی اللہ علیہ سلم سے محبت نہیں تھی؟ حالانکہ نبی  صلی اللہ علیہ سلم نے تو اس ز مانے کو بہترین زمانہ قرار دیا ہے ۔
جُنید:  عیسائی اپنے نبی کی پیدائش پر کرسمس (عید میلاد) مناتے ہیں ، ہمارے نبی کی شان تو سب سے اعلیٰ ہے ، ہم مسلمان اپنے نبی  صلی اللہ علیہ سلم کا یوم پیدئش کیوں نہ منائیں؟
عبداللہ:  عیسائی تو اپنے نبی کو خدا اور خدا کا بیٹا بھی کہتے ہیں ، کیا عیسائیوں کی ریس میں ہم اپنے نبی  صلی اللہ علیہ سلم کو خدایا خدا کا بیٹا بنالیں ؟میرے بھائی! عیسائیوں کو قرآن وحدیث میں اسی لئے تو گمراہ قراردیا ہے کہ وہ سب کچھ اپنے نبی کی تعلیمات کے خلاف کرتے ہیں ، کرسمس منانا عیسائیوں کا اپنا مذہب ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم نہیں ہے ۔
جُنید :  عید میلاد النبی کوئی فضول رسم ہے ؟
عبداللہ:  اگر یہ اچھا کام ہوتا توپھر رسول  صلی اللہ علیہ سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کیوں نہ کیا، کیا اس زمانے میں وسائل کی کمی تھی ، جو لوگ دودوعیدیں مناسکتے تھے ان کو تیسری عید منانے میں کیا حرج تھا؟
جُنید:  صحابہ کے زمانے میں بہت سے کام نہیں ہوتے تھے جو آج کل ہوتے ہیں ؟  آج ہم گاڑیوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں ، آپ صحابہ کرام والے اسلام پر عمل کرتے ہوئے گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کریں۔
عبداللہ:  میرے بھائی ! سائنسی ایجادات سے اسلام میں ملاوٹ نہیں ہوتی ، مذہبی ایجادات سے اسلام میں ملاوٹ ہوتی ہے نبی  صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: جس نے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی اسے رد کردیا جائے گا(صحیح بخاری ومسلم) حافظ ابن حجر اس کی تشریح میں لکھتے ہیں : ‘‘ والمردامرالدین ’’ " اس سے دین کا امر مراد ہے " یعنی جس نے دین کے اندر کوئی نئی رسم نکالی تو وہ مردود ہے (فتح الباری٣٢٢٥)
ان سے واضح ہوگیاکہ ہر احداث برا اور مردو نہیں ہے بلکہ وہ بدعت او راحداث مردود ہے جس کا تعلق دین اور دینی معاملات سے ہو، اور اسے دین کا کام اور کارِ ثواب سمجھ کر کیا جائے،لہٰذا جتنی بدعتیں لوگوں نے دین کے اندر نکالی ہیں وہ تمام کی تمام مردو ہیں۔جہاں تک دنیوی چیزیں ہیں،اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :(وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْ کَبُوْھاَ وَزِیْنَة وَیَخْلُقُ ماَلاَ تعْلَمُوْنَ)‘‘ اور اُسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیداکئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے)رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی)پیداکرے گا جن کی تمہیں خبر نہیں ’’۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ خود کہہ رہا ہے کہ وہ چیزیں بھی استعمال کرسکتے ہیں جن کا علم اس وقت کے لوگوں کو نہیں تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام مباح دنیاوی نئی (سائنسی) ایجاد کردہ چیزوں کو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔
جُنید:  تو پھر آپ بچے کی پیدائش پر خوشی کیوں مناتے ہیں ؟
عبداللہ:  خوشی منانے اور خوش ہونے میں فرق ہے ۔بچے کی پیدائش پر ہر انسا ن فطری طور پر خوش ہوتا ہے کہ مذہبی طور پر،جہاں تک خوشی منانے کا تعلق ہے تو اس کے لئے شریعت نے ساتویں دن عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے،اب آپ بتائیں کہ بارہ ربیع الاول کو عید منا نےکا حکم شریعت نے دیا ہے یا کوئی ترغیب دلائی ہے ؟  ہر گز نہیں،پھر بچے کی پیدائش پر خوشی تو صرف ایک دن منائی جاتی ہے ہر سال نہیں ۔کیا حضور  صلی اللہ علیہ سلم ہر سال بارہ ربیع الاول کو پیداہوتے ہیں؟ بچے کی پیدائش پر خوشی بھی ساتویں دن منائی جاتی ہے اس کی پیدائش کے دن نہیں،اور وہ بھی ایک مرتبہ ،ہر سال نہیں۔
جُنید:  کہتے ہیں کہ ابولہب نے آپ  صلی اللہ علیہ سلم کی پیدائش پر لونڈی کو آزاد کیا تھا۔
عبداللہ :  وہ ا س لئے کہ ابولہب کو اپنے بھتیجے کی پیدائش پر خوشی ہوئی تھی،اس نے لونڈی اس لئے آزاد نہیں تھی کہ ایک رسول دنیا میں تشریف لائے ہیں،یہ بات اتنی پسندیدہ تھی تو کیا آپ  صلی اللہ علیہ سلم نے نبوت کے اعلان کے بعد کبھی بھی ابولہب کی اس سنت کو زندہ کرنے کا حکم دیا؟  ابولہب نے تو دنیا کے عام رواج کے مطابق خوشی منائی،بچہ تو کسی گھرمیں پیداہوخوشی ضرور ہوتی ہے،ابولہب کا لونڈی آزاد کرنا اس لئے نہیں تھا کہ اس دن کو عید تصور کیا تھا ۔اگر ابولہب کو اپنے بھتیجے کی نبوت سے محبت ہوتی تو وہ آپ کے ساتھ بدترین عداوت کا مظاہرہ نہ کرتا اور نہ اس کی اور اس کی بیوی کی مذمت میں قرآن کی پوری سورت نازل ہوتی، پھر اگر ابولہب کے عمل کو عید میلا دالنبی کی دلیل شمار کیا جائے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ عید میلادالنبی سنت نبی تو نہیں البہ ابولہبی ضرور ہے۔
جُنید:  سنا ہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ سلم کی صحیح تاریخ پیدائش میں مؤرخین کا اختلاف ہے،آخر حقیقت کیا ہے ؟
عبداللہ :  اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر انہیں ایک دن پر متفق نہیں کیا تاکہ اسلام کے خالص ہونے کی دلیل قائم رہے،لوگ اس بدعت سے بچے رہیں،یہی ہم اب تک کہتے ہیں کہ یہ دن پہلے زمانوں میں نہیں منایا جاتا تھا بعد میں ایجاد ہوا ہے،اگر بارہ ربیع الاول کا دن کسی بھی حیثیت سے آپ  صلی اللہ علیہ سلم یا بعد میں کسی زمانے میں منایا جاتا رہا ہوتا تو سارے مسلمان آپ   صلی اللہ علیہ سلم کی تاریخ پیدائش پر متفق ہوتے۔
جُنید:  چلئے مان لیا کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ سلم کی پیدائش شروع سے نہیں منائی جاتی تھی لیکن اب جدید سائنسی دور میں بھی تحقیق نہیں ہو سکی کہ آپ کی صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے ؟
عبداللہ:  دیکھئے تاریخ وفات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ بارہ ربیع الاول ہی ہے،لیکن آ پ کی صحیح تاریخ پیدائش کے بارے میں جدید تحقیق تو یہی کہتی ہے کہ وہ نو ربیع الاول ہے ۔قاضی سلیمان کی رحمت للعالمین اور مولانا شبلی نعمانی کی سیرت النبی میں ساری تحقیق موجود ہے ۔
جُنید:  آخر یہ عید میلا النبی آئی پھر کہاں سے؟
عبداللہ:  آپ ایک چیز ایجاد کرتے ہیں اور اس کا ثبوت ہم سے مانگتے ہیں ،بہرحال یہ بات تو مُسلّم ہے کہ عہدِ رسالت سے آئمہ ومحدثین کے زمانے تک اس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔یہ رسم  ٦٢٥ھ سے شروع ہوئی کچھ نادان لوگوں نے اسے ایجاد کیا۔
جُنید:  یہ تو واقعی ہم زیادتی کرتے ہیں،جبکہ ان بزرگوں نے یہ عید نہیں منائی تو پھر ہم کیوں منائیں۔
عبداللہ:  جزاک اللہ خیر۔اب آپ کی سمجھ میں میری بات آئی۔
جُنید:  بات تو آپ کی سمجھ گیا ہوں،اچھا یہ بھی وضاحت فرمادیجئے کہ جو لوگ عید میلا دمناتے ہیں ان میں جذبہ اور نیت تو نیک ہی ہوتی ہے اور صحیح حدیث میں ہے :" اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے "
عبداللہ :  میرے بھائی جب آپ کو صحیح حدیث بتائی جاتی ہے اگر وہ آپ کے عمل کے خلاف ہوتو آپ لوگ یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمارے مولوی صاحب نے اس طرح کہا ہے،اور ہمارے بڑوں نے اس طرح کیا ہے،ہم بھی وہی طریقہ اختیار کریں گے۔
اب آپ کو صحیح حدیث یاد آگئی بہرحال بدعت تو کہتے ہی اس عمل کو ہیں جو نیک نیتی سے کی جائے،مگر عمل بذات ِ خود غلط ہو تو وہ قبول نہیں ہوتا۔اللہ کے ہاں عمل کی قبولیت کے لئے نیک نیتی کے ساتھ ساتھ عمل کا سنت کے مطابق ہونا بھی شرط ہے ورنہ وہ عمل برباد ہے ۔قرآن وحدیث میں جگہ جگہ اس کی صراحت موجود ہے ۔
جُنید:  کیا عید میلاالنبی کا بالکل کوئی ثواب ہی نہیں؟
عبداللہ:  بھائی! جب ا س کا وجود ہی اسلام میں نہیں تو یہ کارِ ثواب کیسے ہوسکتا ہے ہ؟ یہ تو بدعت ہے،دین میں اضافہ کوئی معمولی جرم نہیں،آپ تو ثواب کی بات پوچھتے ہیں،قیامت کے دن تو ایسے لوگوں کو حوضِ کوثر سے پانی بھی نصیب نہ ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ان لوگوں کو قریب نہیں آنے دیں گے ۔ سُنئے ! حدیث میں آتا ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں " قیامت کے روز، میں حوضِ کوثر سے اپنے اُمتیوں کو پانی پلارہا ہوں گا، میری اُمت کے کچھ لوگوں پر فرشے لاٹھی چارج کرہے ہوں گے،(حالانکہ ان کے ہاتھ پاوں وضوکی وجہ سے چمک رہے ہوں گے)میں پوچھوں گا ان کا کیا قصور ہے ؟ انہیں میری طرف آنے دو، یہ میرے اُمتی ہیں،جواب ملے گا:اے محمد  صلی اللہ علیہ سلم ! آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں تبدیلیاں کردی تھیں، یہ سن کر حضور خود فرمائیں گے: انہیں لے جاو،انہیں دور لے جاو، اس لئے کہ ان لوگوں نے میرے بعد میرے دین میں رسم ورواج اور تبدیلیاں کیں"
جُنید:  واقعی معاملہ تو بڑا خطرناک ہے،آپ نے مجھے یہ حدیث سنا کر بہت زیادہ ڈرادیا ہے،آپ کی بڑی نوازش کہ آپ نے مجھے راہِ حق کی رہنمائی فرمائی ۔ان شاء اللہ میں اپنے دوست واحباب کی بھی صحیح رہنمائی کروں گا تاکہ وہ تمام بدعات وخرافات سے تائب ہوکر کتاب وسنت پر گامزن رہیں۔
عبداللہ:  اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق بخشے۔آمین۔
تحریرمکالمہ
مولانا عبدالقدوس /محمد سلیم ساجد مدنی
اسلامک دعوہ سنٹر۔ الدیرة، الریاض

Tuesday, March 15, 2011

میلہ کی شرعی حیثیت

2 تبصرہ جات


بسم اللہ الرحمن الرحیم
جب تک مسلمان دینِ اسلام کی  اصل::قرآن و حدیث::پر رہے متحد اور مجتمع رہے جیسے ہی لوگوں کے فہم و فلسفہ کو اپنایا تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے اور دینِ محمدیﷺ میں اپنی من مانی جب بھی کی جائے گی اس اُمت میں انتشار کا ہی باعث بنے گی، اللہ اور نبیﷺ نے ہمیں قرآن و سنت کو تھامنے اور ان پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور یہی دین ہے اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہوگا وہ کسی کا فہم و فلسفہ تو ہوسکتا ہے پر دین نہیں۔
ایک لمبے عرصہ تک ہم لوگ ہندؤوں کے ساتھ رہےہیں جس کی وجہ سے  ہندؤوں کے مذہب کی کافی باتیں اور رسم و رواج کو  اسلام سمجھ چکے ہیں اور ان پر بہت سختی کے ساتھ کاربند بھی ہیں اور جو ایسے رسم و رواج کے خلاف بات کرئے اس پر فتوے لگ جاتے ہیں جہاں اور بھی بہت سی جاہلانہ رسمیں ہیں ان میں ایک رسم ہے درگاہوں، درباروں  آستانوں پر میلوں کا انقاد، ہمارے مولوی لوگ اس کو اسلام کا نام دیتے ہیں مگر جب ان سے کہا جاے کہ مولوی صاحب یہ کہاں کا اسلام ہے کہ جہاں گانے باجے بجتے ہوں، کھسرے تو کھسرے عورتیں اور مرد بھی ڈانس کرتے ہوں؟ جہاں اذان و اقامت اور نماز کے اوقات میں بھی گانے، قوالیاں بجتی رہتی ہیں؟


 تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں غلط کرتے ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف کام ہیں میلہ کا مقصد یہ نہیں ہے جو یہ لوگ کام کرتے ہیں، پھر ان سے کہا کہ آپ جو عالم دین ہیں آپ لوگ ان جاہلوں کو سمجھاتے کیوں نہیں ہیں کہ یہ کام اسلام کے خلاف ہیں؟ تو کہتے ہیں کہ بھائی ہم تو سمجھاتے ہیں مگر یہ لوگ مانتے ہی نہیں ہیں، حالانکہ یہی مولوی صاحب اپنے خطبوں میں عرسوں اور میلہ کی فصیلت بیان کر رہے ہوتے ہیں، ایک لفظ بھی ایسا نہیں بولتےجس سے لوگ اس جہلانہ اور کافرانہ رسم کو کرنے سے باز آ جائیں۔
پاکستان میں ہی صرف دیکھا جائے تو سال کے جتنے دن ہیں ان سے زیادہ پاکستان میں میلے لگتے ہیں یعنی ہر روز کہیں نا کہیں میلہ ضرور لگا ہوتا ہے مگر اس سب کے باوجود کوئی بھی مولوی صاحب اس غلط اور باطل رسم کے خلاف نہیں  بولتا ،الا ماشاءاللہ، کیونکہ اس طرح کرنے سے ان کی روزی روٹی بند ہوتی ہے جو ہزاروں لاکھوں وہاں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں وہ ہاتھ سے جاتے رہیں گے اور اس کے علاوہ لوگ ایک خطاب بھی دیں گے جو خطاب شاید ان کو موت سے بھی برُا لگتا ہے اور وہ ہے ::وہابی::کا خطاب کیونکہ جو بھی اللہ اور رسولﷺ کے احکامات بتائے اور لوگوں کو غلط برُی رسموں و رواج سے روکے اس کو ہمارا معاشرہ وہابی کے لقب سے یاد کرتا ہے اور جو ہر طرح کی بدعات، ہر طرح کی رسومات، ہر طرح کی جہالت کا عَلم بلند کرئے وہ عاشقِ رسول ﷺ کا لقب پاتا ہے۔
یہاں میں ایک اپنی آپ بیتی ضرور بتانا چاہونگا کہ آج سے کافی عرصہ پہلے جب میری عمر بمشکل ۸۔۹ سال ہوگی ہمارے محلے میں ایک دو گھروں میں ہی ٹی بی::ٹی وی::ہوا کرتا تھا میں بھی ان کے گھر اتوار کے دن انڈین فلم دیکھنے جاتا تھا اُس دن جو فلم دیکھی  اس میں ہندو  ہیرو اور ہیرؤئین کو ایک میلے میں دیکھا بالکل ایسا ہی میلہ تھا جیسا ہمارے پاکستان میں درباروں پر میلہ لگتا ہے ایسے ہی  گانے چل رہے تھے، عورتیں، مرد ڈانس کر رہے تھے، جوئے کے اڈوں پر جوا لگ رہا تھا وغیرہ وغیرہ جب فلم ختم ہوئی اور میں واپس گھر کی طرف جا رہا تھا تو رستے میں ہی میرے دل کو ایک بات پریشان کیئے جارہی تھی کہ اگر ہندؤ لوگ بھی میلے لگاتے ہیں جیسے ہم لوگ لگاتے ہیں تو ہم میں اور ہندؤوں میں کون صحیح ہے؟؟؟یعنی یا تو ہم اپنے دین کے خلاف کام کر رہے ہیں اور یا پھر ہندو اپنے مذہب کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اور یہاں ایک بات اور بھی بتادوں کہ میں ۱۵ سال تک میلوں میں شرکت کرتا رہا ہوں اس کے بعد اللہ نے ہدایت عطاء فرمائی الحمدللہ۔
اور جب بڑا ہوا تو اس معاملے میں تحقیق کی تو الحمدللہ، اللہ نے حق بات کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ یہ میلے اسلام میں سے بالکل بھی نہیں ہیں بلکہ یہ اصل میں کفار ہندؤوں کی دیکھا دیکھی بعض جاہل قسم کے لوگوں نے اسلام میں داخل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے صرف اپنے پیٹ کی دوزخ بھرنے کے لیئے۔ اللہ ان کو بھی ہدایت دے کہ وہ اصل دین قرآن و سنت کی طرف آ جائیں آمین۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ میلہ  وغیرہ کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟
نبی ﷺ کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں 
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَرَأْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَکُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ کُنْتُمْ
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں اور میری قبر کو عید ::خوشی کا دن، جمع ہونے کا دن::مت بنانا بلکہ مجھ پر درود بھیجنا تم جہاں بھی ہو گے وہیں سے تمھارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔
سنن ابودائود:جلد۲:حدیث نمبر۲۰۲۴
اس میں نبیﷺ کا واضح ارشاد مبارک ہے کہ میری قبر کو میلہ گاہ یعنی جمع ہونے والی جگہ نہ بنانا، اگر ایسا عمل نبیوں کے امام محمدﷺ کی قبر مبارک پر منع فرما دیا گیا ہے تو کسی غیر نبی کی قبر پر تو کسی قیمت پر جائز نہیں ہوسکتا ہے مگر ہمارے ہاں بہت سے لوگ اس ممنوع عمل کو بڑی باقاعدگی سے بجالاتے ہیں اور نام بھی اس کو اسلام کا دیتے ہیں مگر وہ اس پر کوئی ایک بھی قرآن و صحیح حدیث سے دلیل نہیں دے سکتے ہیں، میلہ کے متعلق ایک اور حدیث بھی ہے کہ
 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاکِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ کَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ قَالُوا لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّهُ لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ۔
حضرت ثابت بن ضحاک  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرے گا۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میں نے بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ کیا بوانہ میں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی وہاں پوجا کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں پھر آپﷺ نے پوچھا کیا وہاں کفار کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ عرض کیا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تو اپنی نذر پوری کر کیونکہ گناہ میں نذر کا پورا کرنا جائز نہیں ہے اور اس چیز میں نذر لازم نہیں آتی جس میں انسان کا کوئی اختیار نہ ہو۔
سنن ابودائود:جلد۲:موضوع کتاب:قسم کھانے اور نذر (منت ) ماننے کا بیان: اس کا بیان کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہے
اس حدیث شریف سے واضح ہوا کہ یہ میلہ لگانا کفار اور مشرکین کا عمل ہے  اور دوسرا ایک اور بات بھی معلوم ہوئی کہ کسی ایسی جگہ جہاں غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہو وہاں اللہ کی عبادت کرنا بھی منع ہے کیونکہ نبیﷺ نے اس حدشے کو واضح ارشاد فرما کر پوچھا کہ کبھی وہاں کسی بت کی پوجا پاٹ تو نہیں ہوتی تھی؟جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جوان نفی میں دیا تو آپﷺ نے نذر پوری کرنے کی اجازت مرہمت فرمائی اور اگر جواب اثبات میں ملتا تو یقیناً آپﷺ نے نذر پوری کرنے کی اجازت نہیں دینی تھی کیونکہ کوئی یہ غلط فہمی سے سمجھ سکتا تھا کہ دیکھو جی فلاں بت کی یاد تازہ کی جارہی ہے۔
اب ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں جس میں قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
   حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ فَلَوْلَا ذَاکَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَلَوْلَا ذَاکَ لَمْ يَذْکُرْ قَالَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے (یعنی دوبارہ تندرست نہیں ہوئے) اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر آپ کو اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر مبارک کو ظاہر کر دیتے سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔
صحیح مسلم:جلد۱:باب:قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
ہمارے پیارے نبی محمدﷺ کا رُتبہ تمام انبیاء علیہم السلام سے زیادہ بلند و بالا ہے امتیوں کی تو بات ہی نہ کی جائے مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے معاشرے میں قبروں پر سجدے کیئے جا رہے ہیں اور کوئی بھی ان کو روکنے والا نہیں ہے اگر ان کو روکا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تعظیمی سجدہ کرتے ہیں اور جب کہ اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی حرام ہے اس پر حدیث پیش کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيکٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَقُلْتُ رَسُولُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَائَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ الْحَقِّ
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حیرہ میں آیا (حیرہ کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہاں کے لوگ اپنے سردار کو (تعظیم کے طور پر) سجدہ کرتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ ان کے مقا بلہ میں تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (تعظیما) سجدہ کیا جائے۔ پھر جب میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے کہا۔ میں حیرہ گیا تھا اور میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکے مقابلہ میں اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا بھلا کیا تو جب میری قبر پر آئے گا تو سجدہ کرے گا؟ میں نے کہا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ (تو پھر زندگی میں بھی کسی کو سجدہ نہ کرو) (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا) اگر میں کسی کے لیے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالی نے ان پر مقرر کیا ہے۔
سنن ابودائود:جلد:۲:موضوع کتاب:نکاح کا بیان:باب:عورت پر شوہر کا حق کیا ہے
اس حدیث سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں کہ ایک تو کسی کو بھی تعظیمی سجدہ نہیں کیا جاسکتا یہ حرام قطعی ہے اور دوسرا کسی قبر پر بھی سجدہ نہیں کیا جاسکتا بےشک وہ قبر نبیﷺ کی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس سے ہمیں نبیﷺ نے منع کیا ہے اگر ہم واقعی اللہ اور نبیﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اللہ اور نبیﷺ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے اور جو ایسا کرئے گا اس کا انجام اللہ کی ناراضگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ  
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسولﷺ کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالٰی سننے والا، جاننے والا ہے۔ الحجرات:۱
اللہ اور رسولﷺ سے آگے بڑھنا یہی ہے کہ ان کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور اپنی من مانی کی جائے یا کسی غیر نبی کی بات کو اللہ اور نبیﷺ کی بات کے مقابلے پر قبول کیا جائے۔
اللہ ہمیں صرف قرآن و سنت کی ہی پیروی کرنے کی توفیق دے آمین۔
اب یہ دیکھتے ہیں کہ ان میلوں میں کیا کچھ ہوتا ہے؟
میوزک، گانے، قوالیاں میوزک کے ساتھ،بچوں، مردوں، عورتوں اور کھسروں کا ڈانس، جوئے کے اڈے، زنا کے اڈے، بےپردگی، غیراللہ کی پکاریں، غیراللہ کے نام کی نذر و نیاز اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ حرافات میلوں میں سرانجام دی جاتی ہیں جو کہ مکمل طور پر قرآن و سنت کے خلاف امور ہیں

 اگر میں ان حرافات پر تفصیل سے بات لکھنے بیٹھ جاؤں تو مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اس لیے مختصر بات کر رہا ہوں۔اگر کسی بھائی ، بہن کو ان حرافات کے خلاف دلائل چاہیے ہوئے تو وہ مانگ سکتا ہے۔ اور بعض لو گ کہتے ہیں کہ ہم وہاں ان گناہ والے کاموں کے لیئے نہیں جاتے بلکہ ہم تو فاتحہ خوانی کے لیئے جاتے ہیں،اس کا حل یہ ہے کہ اگر فاتحہ خوانی ہی کرنی ہے تو میلہ کے دن سے پہلے یا بعد میں بھی جاکر کی جاسکتی ہے لازمی اس دن جاکر ایک برُائی کے کام کی رونق بڑھانی ہے اگراس  وقت اللہ کا عذاب نازل ہوجائے تو وہ بھی انہی میں شمار نہیں ہوگا کیا؟
اب ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکینِ  مکہ کی عبادت کیسی ہوا کرتی تھی۔ 
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً   ۭ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ  35؀
اور خود ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجانے، اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی، سو اب چکھو تم لوگ عذاب اپنے اس کفر کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے، الانفال:۳۵
اس آیت مبارکہ میں تالیاں بجاناں اور سیٹیاں مارنا عبادت بتایا گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے آجکل لوگ قوالی کو ثواب کا کام سمجھ کر سنتے ہیں اور میلوں میں ایسے ایسے بیہودہ کام کیئے جاتے ہیں کہ ایسے کام مشرکینِ مکہ نے بھی نہیں کیئے ہوں گے اس لیے بھائیو اور بہنوں اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ایسی سبھی رسومات و رواجوں کا بائیکاٹ کریں اور لوگوں کو بھی ان برُی رسومات سے روک کر اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔ جزاکم اللہ خیرا

Sunday, March 13, 2011

کیا بسم اللہ کی جگہ 786 استعمال کیا جا سکتا ہے؟

1 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام علیکم 
سوال۔
کیا بسم اللہ کی جگہ 786 استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جواب۔ 
   پہلی بات یہ کہ یہ  طریقہ ہم کو قرآن و سنت سے کہیں بھی نہیں ملتا بلکہ اس کی کڑیاں کہیں اور جاکر ملتی ہیں مثلا ہندو مت مجوسی اور یہودیت میں اسلام کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہےاور ہم لوگ ہیں کہ بلا سوچے سمجھے جس نے جو بات کر دی اُس کی تقلید شروع کر دی اور میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں کی بھی تحقیق کیجیئے گا۔اور اگر میں غلط ہوا تو ان شاء اللہ اپنی اصلاح کروں گا۔
بعض لوگ کہتے ہیں ہم اس لیے ایسا لکھتے ہیں کہ کہیں بسم اللہ کی بے ادبی نہ ہو جائے۔
میرا ان لوگوں سے پہلا سوال یہ ہے کہ بسم اللہ کے ادب کا لحاض نبی ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سےزیادہ کوئی کر سکتا ہے؟
بلکل نہیں کر سکتا تو آپ علیہ السلام نے جب غیر مسلموں کو دعوتی خط لکھے تو آپ علیہ السلام نے پوری بسم اللہ ہی لکھی تھی نہ کہ آدہی اور نہ ہی اس کی جگہ کوئی اور الفاظ استعمال کیےتو ہمارے لیے سب سے بہترین طریقہ نبی علیہ السلام کی زندگی ہے نہ آج کے کسی بندے کا فہم یا بات، تو آج بھی ہم جب بھی کوئی تحریر لکھیں گے تو وہ بسم اللہ لکھ کر ہی شروع کریں گے نہ کہ۷۸۶ لکھ کر، کیوں نہ وہ تحریر ہم کسی کافر کی طرف بھیج رہے ہوں۔ سنت سے ہم کو یہی ملتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہیں
قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ        29؀  
وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ      30۝ۙ
جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے۔ سورۃ النمل آیت نمبر ۲۹،۳۰
اس آیت سے بھی یہی ہم کو درس ملتا ہے کہ چاہے وہ خط کسی کافر کو بھی کیوں نہ لکھنا ہو  پوری بسم اللہ لکھ کر ہی شروع کرنا چاہیے۔جو آجکل بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھا جا رہا ہے یہ غلط ہے۔ بعض لوگ بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ تو لکھتے ہیں تو کیا کبھی انہوں نے اسلام علیکم کی جگہ اس کے اعداد لکھے ہیں؟ جو کہ یہ بنتے ہیں ۳۲۲ یقینا کبھی کسی نے ایسا نہیں لکھا تو بسم اللہ کے ساتھ ہی یہ معاملہ کیوں کیا جاتا ہے؟دوسرا اس کا نقصان بھی بہت ہوتا ہے مثلا اگر ہم بسم اللہ لکھیں تو کیونکہ یہ قرآن کی آیت ہے اس لیے ہر لفظ پر ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں ٹوٹل اس میں ۱۹ حروف بنتے ہیں تو نیکیاں ۱۹۰ ملتی ہیں اور اگر ہم ۷۸۶ لکھیں تو ایک تو ہم ۱۹۰ نیکیوں سے محروم ہو گے اور دوسرا ایک ایسا عمل کر کے جو کہ قرآن و سنت کے خلاف ہے بدعت کے مرتکب بھی بن گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایک عقل مند انسان اپنا اتنا نقصان نہیں کرنا چاہے گا۔
اب آتے ہیں علم الاعداد کی طرف وہاں ہم کو خطرناک سورتِ حال نظر آتی ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے ۷۸۶ نہیں بلکہ ۷۸۷ اعداد ہوتے ہیں اور   ہرے کشنا   کے ۷۸۶ اعداد بنتے ہیں تفصیلات حسبِ ذیل ہیں۔   

ب س م ا ل ل ہ (بسم اللہ)
٢ ٦٠ ٤٠ ١ ٣٠ ٣٠ ٥ (١٦٨)
ا ل ر ح م ا ن (الرحمٰن)
١ ٣٠ ٢٠٠ ٨ ٤٠ ١ ٥٠ (٣٣٠)
ا ل ر ح ی م (الرحیم)
١ ٣٠ ٢٠٠ ٨ ١٠ ٤٠ (٢٨٩)
مجموعی نمبر٧٨٧ ہوتا ہے جبکہ ''ہرے کرشنا'' اور روی شنکرکا مجموعی نمبر٧٨٦ ہوتا ہے تفصیلات حسب ذیل ہیں:
ہ ر ی ک ر ش ن ا (ہرے کرشنا)
٥ ٢٠٠ ١٠ ٢٠ ٢٠٠ ٣٠٠ ٥٠ ١ (٧٨٦)
ر و ی ش ن ک ر (روی شنکر)
٢٠٠ ٦ ١٠ ٣٠٠ ٥٠ ٢٠ ٢٠٠ (٧٨٦)
بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اعداد ٧٨٦ ہی ہیں جیساکہ بہت سارے لوگوں کا اس پر اصرار ہے تو اب ٧٨٦ نمبر لکھ کر ہندو ''ہرے کرشنا''پڑھ لیں گے اور مسلمان بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیں گے،اس طرح اور بھی کئی الفاظ بنتے ہوں گے جبکہ بسم اللہ کا اور کوئی بھی معنی نہیں بنتا تو اس سے معلوم ہوا کہ ۷۸۶ لکھنے سے بہت سی کباحتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔اصل میں علم الاعداد بنانے کے کئی ایک مقاصد تھے جو جاہل لوگ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کی تفصیل میں ابھی نہیں جاونگا بات بہت لمبی ہو جائے گی مختصر یہ کہ ان لوگوں نے پورے قرآن پاک کو اعداد میں لکھ رکھا ہے جس کو یہ اپنے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 
میرے بھائی! بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اعداد میں تبدیل کرنا اور یہ باور کرانا کہ٧٨٦ اس کے اعداد ہیں ایک گمراہ کن بات ہے۔
ذرا سوچئے کہ کیا قرآن کریم علم ہندسہ اور جیومیٹری کی کتاب ہے ؟؟؟
کیا اس کا نزول اسی لئے ہوا تھا کہ اسے اعداد میں تبدیل کیا جائے ؟نہیں، ہرگز نہیں۔
بلکہ یہ عمل کی کتاب ہے۔ 

اللہ ہم سب کو ایسی گمراہیوں سے بچائے آمین یارب العالمین

Friday, March 11, 2011

اللہ کا عذاب

0 تبصرہ جات

Thursday, March 10, 2011

اپریل فول کفار کا دن اس سے بچیں

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام علیکم  
اپریل کا مہینہ آنے والا ہےاور یکم اپریل کو اپریل فول کے نام سے ایک دن منایا جاتا ہے اور بعض جاہل سمجھتے ہیں کہ اس دن جھوٹ بولنے سے گناہ نہیں ہوتا کہ جس طرح عیسائی لوگ سمجھتے ہیں بلکہ یہ دن منانا بھی عیسائیوں کا ہی طریقہ ہے::ہوا کچھ یوں تھا کہ جب عیسائیوں نے سپین پر قبضہ کیا تو عیسائی فوج کے جنرل نے مسلمانوں سے کہا کہ ہم آپ کو بحری جہازوں میں بیٹھا کر مراکش خیریت سے پہنچا دیتے ہیں جب مسلمان گہرے سمندر میں پہنچ گے تو جہازوں کو آگ لگادی گئی اور اس طرح ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا عیسائی اس دن کو یادگار کے طور پر مناتے ہیں::اور ہم لوگ ہیں کہ آنکھیں بند کر کے اُن کی تقلید کرتے چلے جا رہے ہیں اور اس دن جھوٹ بول کر ایک تو اللہ کی لعنت کے مستحق بنتے ہیں اور دوسرا اپنے مسلم بھائی کو پریشان کر کے خوش بھی ہوتے ہیں۔ اللہ کے لیے اس برُے کام سے خود بھی بچیں اور اپنے مسلم بہن بھائیوں کو بھی بچائیں کہ ایسا کرنے سے سوائے اللہ کی لعنت کے اور کچھ نہیں ملے گا۔
جھوٹوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 
جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔ سورۃ آل عمران آیت نمبر61
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار باتیں جس کسی میں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار کی ایک بات ہو اس میں ایک بات نفاق کی ہے، تاوقتیکہ اس کو چھوڑ نہ دے (وہ چار باتیں یہ ہیں) جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے اور جب بات کرے توجھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب لڑے تو بے ہودگی کرے۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 33 
یعنی منافق کی نشانی ہے جھوٹ بولنا اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلم اپنے آپ کو منافقین کی لسٹ میں شامل کرنا پسند کرے۔
ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ۔۔۔۔۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
صحیح بخاری حدیث نمبر ۱۷۸۵
یعنی جھوٹے انسان کا اللہ تعالیٰ روزہ بھی قبول نہیں کرتے کیا میں اور آپ یہ گوارہ کریں گے کہ اللہ ہماری عبادت کو قبول نہ کرے یقیناً نہیں پسند کریں گے تو اس لیے آئیں آج وعدہ کریں کہ جھوٹ نہیں بولیں گے اور اپریل فول جیسے گٹیا اور غلط رسم کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے خود بھی جھوٹ بول کر نہ اپنے کسی دوست اور عزیز رشتہ دار کو پریشان کریں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے ان شاءاللہ۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم کو برُے اعمال سے بچائے یہود اور نصاریٰ کی تقلید سے بچائے قرآن و سنت پر ثابت قدمی سے چلائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

Wednesday, March 2, 2011

کیا بے وضو قرآن کو چھواجاسکتا ہے؟؟؟

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بچپن میں ہمیں ایک بات کی نصحت کی جاتی تھی کہ قرآن مجید کو بغیر وضو ہاتھ نہ لگانا اس سے بہت گناہ ہوتا ہے مگر جب میں نے قدرے بڑے ہوکر اس بات کی تحقیق کی کہ کیا واقعی بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے
::یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایسا حکم نہ ملا ہو اگر کسی بھائی کے علم میں ہوتو وہ رہنمائی فرمائے جزاک اللہ::اس کی تحقیق پیش کرنے سے پہلے یہ بتانا چاہوں کہ ایسی اور بھی بہت سی باتیں اور عقائد ہیں جو بنادی گئیں ہیں مگر ان کی اصل قرآن اور صحیح حدیث میں بالکل بھی نہیں ہے، ان عقائد میں نمازوں کی رکات بھی شامل ہیں مگر آج میں آپ کے سامنے اس بات کی تحقیق پیش کرونگا کہ کیا قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ لگانا منع ہے کہ نہیں؟؟؟

اس پر جو سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77۝ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78۝
ۙلَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ 79۝ۭ

بیشک یہ قرآن ہے بڑا ہی عزت (و عظمت) والا، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے
،جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ سورۃ الواقعہ:۷۷۔۷۸۔۷۹

تفسیر تیسیر القرآن
مطہرون سے مراد کون؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یا چھونا چاہئے۔ مشرک اور ناپاک لوگوں کو ہاتھ نہ لگانا چاہئے۔ اسی آیت سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بے وضو لوگوں کو قرآن کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے۔ لیکن راجح تر بات یہی ہے کہ بے وضو بھی قرآن کو چھو سکتا اور اس سے تلاوت کرسکتا ہے۔ صرف جنبی اور حیض و نفاس والی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتے۔ جب تک پاک نہ ہوں۔ البتہ حیض و نفاس والی عورت زبانی قرآن پڑھ بھی سکتی ہے اور پڑھا بھی سکتی ہے۔

اب اس آیت کے کئی مطالب سامنے آئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ کوئی انسان اس کتاب کو ہاتھ نہ لگائے مگر جو پاک ہو، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بغیر وضو انسان پلید، ناپاک ہوجاتا ہے؟ اگر تو ایسا ہی ہے پھر تو وضو لازم ہوا اور اگر ایسا نہیں ہے تو وضو کی شرط لگانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ دین میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے مثلاً دیکھنے میں اکثر یہ آیا ہے کہ لوگ اکثر اس وجہ سے قرآن کی تلاوت کرنے سے رُک جاتے ہیں کہ وہ بے وضو ہیں اور اس طرح وہ قرآن سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ قرآن سے دور ہوچکے ہیں، میرے ساتھ خود کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم کسی مسئلے پر بات چیت کر رہے ہوتے تو قرآن مجید کے حوالے کے لیے قرآن کی ضرورت پیش آئی اور ہم صرف اسی وجہ سے قرآن کو ہاتھ میں نہیں پکڑ رہے تھے کہ ہمارا وضو نہیں تھا اور وہ موقعہ محل بھی ایسا تھا کہ فوراً وضو بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اب اس مسئلے میں دین میں اضافہ کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا اس کا مجھے علم نہیں مگر اس کی وجہ سے لوگ قرآن سے ضرور دور ہو چکے ہیں، وضو بعض لوگوں پر اتنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نماز نہیں پڑھتے کہ وضو کرنا پڑتا ہے ۔اور سردیوں میں تو بڑے بڑوں کی نماز رہ جاتی ہے صرف سردی میں وضو کی تکلیف سے بچنے کے لیے۔ شاید وہ جہنم کی گرمی کی شدت کو نہیں جانتے۔
اصل میں ناپاک وہ انسان ہوتا ہے جو مرد یا عورت جنبی ہو یا عورت حیض و نفاس سے ہو مگر بے وضو کو بھی ناپاک سمجھنا کسی بھی طور ٹھیک نہیں ہے۔
اب عمر رضی اللہ عنہ کا اثر پیش کرتا ہوں۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَی وُضُوئٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ أَفْتَاکَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ

محمد بن سيرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے پس گئے حاجت کو اور پھر آکر قرآن پڑھنے لگے ایک شخص نے کہا آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضوکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے کیا مسیلمہ نے کہا؟
موطاامام مالک:جلد نمبر 1:باب:کلا م اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یعنی ایسا حکم تو قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے کہیں مسیلمہ کذاب نے تو ایسا حکم نہیں دے دیا؟؟؟اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ مسیلمہ کذاب وہ شخص ہے جس نے نبیﷺ کی وفات کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

لمحہ فکریہ

0 تبصرہ جات
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس قوم کا عمل خراب ہو جائے وہ مسجدوں کو مزین کرنا شروع کر دیتی ہے ۔

سنن ابن ماجہ جلد ۱:باب: مسجد کو آراستہ اور بلند کرنا
آج کل کچھ ایسی ہی دوڑ لگی ہوئی ہے۔