Sunday, July 3, 2011

پندرہویں شعبان اور اس کی بدعات

3 تبصرہ جات

پندرہویں شعبان اور اس کی بدعات



بسم اللہ الرحمن الرحیم


اسلام ایک مکمل دین ہے، اس میں ذرہ برابر بھی کمی وبیشی کی گنجائش نہیں ہے ۔


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ


اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا


ترجمہ : آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ،، سورہ المائدہ:٣


نیز اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے



اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀


ترجمہ : کیا ان لوگوں نے ایسے(اللہ کے)شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فر مائے ہوئے نہیں ہیں ،اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا،یقینا(ان)ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے ،،

سورہ شوری:٢١



یعنی کہ جتنے دین کے احکامات ہمیں قرآن و صحیح حدیث سے ملیں گے صرف وہی دین  اسلام ہے اب اگر کوئی ان احکامات کو بدلتا ہے یا کہتا ہے کہ ایسی ایسی عبادت کرنا بھی ثواب کا کام ہے اور وہ اپنے اس دعویٰ کے ساتھ کوئی بھی دلیل قرآن یا صحیح حدیث سے پیش نہیں کرتا تو وہ اصل میں دین میں اضافہ کر رہا ہے یعنی شریعت سازی جو کہ صرف اللہ کا حق ہے۔ اس لیئے بہنو اور بھائیو دین کے معاملے میں غلو، اضافہ نہ کریں بلکہ جو طریقہ عبادت ہمیں اللہ اور نبیﷺ نے سیکھایا ہے بس اُس طریقہ کے مطابق ہی عبادت کریں۔


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا


من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد


ترجمہ : جس نے کار خیر سمجھ کر کوئی کام کیا اور اس کا م کامیں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ،،.


صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب :٨ حدیث نمبر :١٧١٨


ایک مسلمان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے ،


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا


فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین ، تمسکوا بہا وعضوا علیہا بالنواجذ ویاکم ومحدثات الامور ، فن کل محدثة بدعة ، وکل بدعة ضلالة ،،

وفی روایة النسائی وکل ضلالة فی النار


ترجمہ : مسلمانو! تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچاکررکھنا اس لئے کہ دین میں نیا کام ( چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے ۔


ابو داود کتاب السنۃ باب :٥حدیث : ٤٦٠٧ اور نسائی کتاب الخطبۃ باب :٢٢حدیث :١٥٧٦


اس معنی کی بیشمار آیات واحادیث ہیں جو صریح طور پر دلالت کر تی ہیں کہ اللہ تعالی نے اس امت( محمدیہ ﷺ)پر اپنے دین کی تکمیل فرمادی ہے .اللہ کے مشروع کردہ جملہ اقوال وافعال کو امت کے سامنے بیان کرنے کے بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی قول وعمل ایجاد کر کے دین کی طرف منسوب کیا جائے گا وہ بد عت ہوگا اور ہر بدعت بدعتی کے منہ پر دے ماری جائیگی۔


بعض لوگوں کی ایجاد کردہ بدعات میں سے بعض بدعتیں شعبان کی پندرہویں رات کی ہیں، مگر جمہور علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پندرہویں شعبان اور اس کی رات کی فضیلت میں وارد ہونے والی روایتیں ضعیف اور بعض موضوع

::من گھڑت::اور بے اصل ہیں ۔


اگر کسی رات کو عبادت کے لئے خاص کرنا جائز ہوتا تو جمعہ کی رات دیگر راتوں کی بہ نسبت عبادت کیلئے زیادہ موزوں اور مناسب تھی ، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن سے متعلق فرمایا

:


خیر یوم طلعت علیہ الشمس،یوم الجمعة


ترجمہ : سب سے اچھا دن کہ جس دن سورج طلوع ہوا، وہ جمعہ کا دن ہے

( مسلم کتاب الجمعہ باب:٥حدیث:١٧)


لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی رات کو اس دن کی بے شمار فضیلتوں کے باوجودعبادت کیلئے خاص کرنے سے منع فرمادیا


لاتختصوا لیلة الجمعة بقیام من بین اللیال


جمعہ کی رات کو عبادت کیلئے خاص مت کرو،،

مسلم کتاب الصیام باب:٢٤حدیث:١٤٨


تو دیگر راتوں کو بدرجہ اولٰی کسی بھی قسم کی عبادت کے لئے خاص کرنا جائز ودرست نہیں مگر یہ کہ کوئی صحیح دلیل ہو جس سے تخصیص کا پتہ چلتا ہو.البتہ ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسا کہ مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھاہے کہ شعبان سے زیادہ(رمضان کے بعد) کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوں،چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزہ رکھتے تھے،،

( ترمذی کتاب الصوم باب:٣٧حدیث: ٧٣٦)


اسی طرح ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ٫٫میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی اور دو مہینے مسلسل روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ،،

(ترمذی کتاب بالصوم باب:٣٧حدیث:٧٣٦)


ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے مگر پندرہویں شعبان کی تخصیص کے ساتھ نہیں ، ہمیں بھی چاہئے کہ اس مہینہ میں ہم زیادہ سے زیادہ روزہ رکھیں ، تاہم پندرہویں شعبان کے بعد روزے نہ رکھے جائیں کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر شفقت کی بناپر منع فرما دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا

:


اذا بق نصف من شعبان فلا تصوموا


یعنی پندرہیوں شعبان کے بعد روزہ مت رکھو،،

(ترمذی کتاب الصوم باب:٣٨حدیث:٧٣٨




پندرہویں شعبان کے بعد ممانعت اس لئے ہے کہ پورے شعبان کے روزے رکھ کر کہیں نقاہت اور کمزوری نہ آجائے اور پھر رمضان کے روزے رکھنے میں دقت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو انہیں خصوصی طاقت عطا کی گئی تھی. اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ،

آمین یا رب العالمین




پندرہویں شعبان کی فضیلت سے متعلق کچھ ضعیف اور موضوع روایتیں


پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت سے متعلق متعدد روایتیں ہیں اور وہ سب کی سب ضعیف یا پھر موضوع ہیں جن سے استدلال کرنا درست نہیں.ضعیف حدیث کے سلسلہ میں ایک اہم قائدہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ذکر کیا ہے وہ فرماتے ہیں: ضعیف حدیثوں پر عبادات کے باب میں اس وقت عمل کیا جائیگا جب کہ اس کی اصل صحیح دلیل سے ثابت ہو لیکن پندرہویں شعبان کی رات کو منانے والے جشن کے بار ے میں کوئی دلیل اصل نہیں ہے ،،(خانہ ساز شریعت٤٧

)


پندرہویں شعبان سے متعلق کچھ ضعیف اور موضوع رواتیں تنبیہ اور آگاہ کرنے کی خاطر یہاں ذکر کی جاتی ہیں کیوں کہ انہیں روایتوں کی وجہ سے امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد راہ حق سے دور ہوئی ہے ، وہ روایتں مختصراً مندرجہ ذیل ہیں

:


١۔پندرہویں شعبان کی رات کو بارہ رکعت والی نمازپڑھنے کی فضیلت سے متعلق روایت (امام ابن جوزی فرماتے ہیں : یہ روایت صحیح نہیں ہے

)


٢۔ پندرہویں شعبان کی رات کو سو رکعت والی نماز پڑھنے کی فضیلت والی روایت(امام شوکانی فرماتے ہیں: یہ روایت موضوع ہے

)


٣۔نصف شعبان کی رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے والی روایت(علامہ البانی فرماتے ہیں: یہ روایت بہت ضعیف ہے یا موضوع ہے

)


٤۔شب برات کا ایک روزہ ساٹھ سال گزشتہ اور ساٹھ سال آئندہ کے روزے کے برابر ہے (امام ابن جوزی فرماتے ہیں: اس روایت کی اسناد تاریک ہے

)


٥۔پندرہویں شعبان کی رات کوچودہ رکعت والی نمازپڑھنے کی فضیلت سے متعلق روایت(امام بیہقی فرماتے ہیں: یہ روایت موضوع ہے

)


٦۔پندرہویں شعبان کی رات کو قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت والی روایت(علامہ البانی فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے

)


٧۔پندرہویں شعبان کی رات کوجاگ کر عباد ت کرنے سے متعلق فضیلت والی روایت(علامہ عبید اللہ رحمانی فرماتے ہیں:یہ روایت ضعیف ہے
)


٨۔پندرہویں شعبان کی رات کو سال بھر کی موت وحیات کا فیصلہ ہونے والی روایت( علامہ البانی فرما تے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے

)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت میں جتنی روایات ہیں سب ضعیف اور باطل ہیں کوئی بھی حدیث صحیح نہیں اسی لئے ایسی حدیثیں بخاری ومسلم میں جگہ نہ پا سکیں.جب ضعیف حدیث حجت ہی نہیں تو یہ فضیلت ثابت کہاں سے ہوتی ؟اگر یہ رات فضیلت کی رات ہوتی تو صحابہ کرام میں اس کا چرچا ہوتا ، مشہور اور ثقہ راوی اسے روایت کرتے اتنی اہم بات جس کا عام چرچا ہونا چاہئے صرف ضعیف راویوں ہی کو کیسے معلوم ہوئی؟اس لئے ان ضعیف روایتوں کا سہارا لے کر اس رات کی فضیلت کو بیان کرنا یا اسے تہوار کی شکل دینا قطعاً جائز ودرست نہیں۔




پندرہویں شعبان کی چند اہم بدعات


یوں تو پندرہویں شعبان کی بہت ساری بدعات ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے، مگر بطور نمونہ یہاں چند کاذکر کیا جاتا ہے


١۔پندرہویں شعبان کی رات کومحفلیں منعقد کرنا،مسجدوں میں جمع ہوکر قیام اللیل کرنا اور اجتماعی دعائیں کرنا

.


٢۔مسجدوں میں مخصوص نماز پڑھنے کیلئے جمع ہونا مثلاسو رکعتیں ایک ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھکر ادا کرنا

.


٣۔پندرہویں شعبان کی رات کو مخصوص دعائیں کرنا جیسے اللہم یا ذا المن ولا یمن ....الخ،،

.


٤۔پندرہویں شعبان کی رات کو خصوصیت کے ساتھ قیام اللیل کرنا اور دن میں روزہ رکھنا

.


٥۔پندرہویں شعبان کی رات کو خصوصیت کے ساتھ سورہ یسن کی تلاوت کرنا، اور قبروں کی زیارت کرنے کیلئے قبرستان جانا

.


٦۔ما ہ شعبان میں مردوں کی روحوں کی طرف سے صدقات وخیرات کرنا


.

٧۔ماہ شعبان میں ایصال ثواب کی غرض سے قرآن خوانی کروانا.


٨۔پندرہویں شعبان سے ایک دو دن پہلے قبروں کو درست کرنا،لیپنا پوتنا،پندرہویں شعبان کی رات کو اس پر چراغاں روشن کرنا ،قمقمہ جلانا،پھول پتیاں چڑھانا،اگربتیاں جلاناوغیرہ یہ مجوسیوں اور ہندؤں کے رسم ورواج ہیں

.


٩۔ پندرہویں شعبان کو مختلف قسم کے حلوے پکانا

.


١٠۔مردوں کی عید سمجھنا ، بعض مسلمانوں کا یہ عیقدہ ہے کہ کوئی شخص شب برات سے پہلے مرجائے اور جب تک شب برات میں حلوہ پور ی اور چپاتی پر فاتحہ نہ کی جائے وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ہے

.


١١۔یہ عقیدہ رکھنا کہ پندرہویں شعبان کو حلوہ وغیرہ نہ بنایا جائے تو مردوں کی روحیں دیواریں چاٹ کر واپس چلی جاتی ہیں

.


اللہ تعالی ہم سب کو ان بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے ،آمین

3 تبصرہ جات:

  • June 3, 2014 at 12:23 AM

    تو بڑا لعنتی ہے مشکل سے مسلمانوں کو عبادت کا موقع ملتا ہے
    تو وہ بھی بدعت بدعت کہہ کر چھین لے
    لعنت ہو تم پر اسلام کے دشمن
    کہیں بھی اللہ رسول کا نام لینے والوں کو اکٹھا نہ ہونے دینا

  • June 24, 2014 at 12:26 AM

    ملک صاحب کسی مسلم کو لعنتی نہیں کہنا چاہیے اگر وہ لعنتی نہ ہوا تو اللہ اسی لعنت کو کہنے والے پر ضرور لُٹا دیتا ہے،
    اور اللہ نے اپنی عبادت پر کوئی قید نہیں لگائی مگر جو عبادت کی شرائط ہیں، باقی سارا سال ہر رات کو عبادت کی جائے کسی نے آ کو منع نہیں کیا ہے مگر سال میں ایک یا دو رات محسوس رات مقرر کرلینا ہے یہ نبی علیہ السلام سے ثابت نہیں ہے ایسی عبادت کی محسوس رات اسلام میں صرف ایک ہے اور وہ ہے لیلۃ القدر کی رات جو 1000 مہینوں سے افضل ہے باقی سبھی راتیں ایک جیسی اہمیت کی حامل ہیں۔
    اسلام کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں اپنی مرضی کی باتیں عقائد شامل کرئے اور جو کہتا ہی یہی ہے کہ
    دین صرف قرآن اور حدیث ہے یعنی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات ہی صرف اسلام ہے، وہ اسلام کا دشمن کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟
    اسلام کو سمجھیں اسلام تعصب نہیں سکھاتا اور آپ تعصب رکھتے ہیں اس کا مطلب آپ اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھ ا رہے بھائی جان قرآن اور احادیث مبارکہ کا مطالیہ کریں حق بات آ پر خود ہی واضح ہوجاے گی ان شاءاللہ

  • May 12, 2017 at 1:33 PM

    ملک صاب جیسی سوچ رکنے والے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان بدعت اور شرک کا اڈا بنا ہوا ہے خود تو علم رکھتے نہیں اور جن کی انگلی پکڑ کر جلتے ہیں وہ بھی علم جعلی علما ہیں اللہ سب کو قرآن اور سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔