Wednesday, July 20, 2011

ہلال اور وحدت اُمت

1 تبصرہ جات

بسم اﷲ الرحمن الرحیم


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ


يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ۭ قُلْ ھِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ۭ

یہ آپ سے ہلال (نئے چاند) کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہیے کہ یہ انسانوں کے لئے تاریخیں مقرر کرنے کے لئے ہے اور حج (کی تاریخ مقرر کرنے )کے لئے بھی۔


۲: البقرہ۔ ۱۸۹



آیت ِبالا سے واضح ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہلال (نئے چاند)کو انسانوں کے لئے تاریخیں مقرر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے اور اور حج (کی تاریخ مقرر کرنے)کا بھی ذریعہ بنایاہے۔


یہ بات واضح ہے کہ عام انسانوں کے لئے عموماًاور اہل ِایمان کے لئے خصوصاً تاریخوں کے تقرر کی ضرورت ہی اس لئے ہے تاکہ اجتماعی مواقع (حرام مہینوں کے آغازواختتام،حج، عیدین وغیرہ) کے دِنوں کے لئے ان کے درمیان وحدت پیدا ہو۔ آیت میں ہلال کے تاریخیں مقررکرنے کے ذریعے کے ساتھ ساتھ حج(انسانوں کے سب سے بڑے اجتماع) کی تاریخ مقررکرنے کاذریعہ ہونے کے ذکر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ تاریخیں روئیت ِہلال (چانددیکھے جانے )سے شروع ہوتی ہیں ۔



تاریخیں انسانوں کے اجتماعی مواقع کے دِنوں کے لئے ان کے درمیان وحدت پیداکرنے کے لئے ہوتی ہیں ورنہ تاریخوں کے نظام کی ضرورت ہی نہیں رہتی ہے۔ انسانوں کے مابین اجتماعی مواقع پر وحدت تب ہی پیدا ہو سکتی ہے جب ان کے مابین تاریخوں کے آغازواختتام کے ایک دن کا نظام رائج ہو ، ایسا تب ہی ہوسکتا ہے جب کرہ ِ ارض پر ہونے والی ہلال کی پہلی روئیت کرہِ ارض کے تمام انسانوں کو قبول ہو اورآیات واحادیث اور زمینی حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا ہونالازم ہے ۔



اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

 جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 97؀

بنایا ہے اللہ نے کعبہ کو ،جو حرمت والاگھرہے ، اجتماعیت کے قیام کا باعث انسانوں کے لئے اور حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں اورقلادوں کو بھی (بنایااس کام میں معاون)۔ یہ اس لئے تاکہ تم جان لوکہ بے شک اللہ جانتا ہے ہروہ بات جو ہے آسمانوں میں اور جوہے زمین میں، اور بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔


(۵: المائدہ۔ ۹۷




آیت سے واضح ہوتاہے کہ بیت اللہ ، حرمت والے مہینے ، قربانی کے جانور اور قلادے انسانوں کے لئے اجتماعیت کے قیام کاباعث بنا ئے گئے ہیں ۔ حرمت والے مہینوں میں سے تین مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجۃ اور محرم تو خودحج سے متعلق بھی ہیں (کہ ذوالقعدہ میں حج کے لئے سفرشروع ہوتا ہے، ذوالحجۃ میں حج ہوتاہے اور محرم میں حج سے واپسی کا سفر ہوتا ہے)۔ حرمت والے مہینوں کاآغازواختتام ہلال کی روئیت سے ہوگا۔جب دنیا میں کہیں ہلال نظر آ جائے اورمکہ سمیت پوری دنیا میں ہلال ہونے کی گواہی پہنچ جائے تو مکہ اورپوری دنیا میں حرام مہینے کا آغاز ہوجائے گا اور مکہ اورپوری دنیاکے مسلمانوں لئے حج کادن مقرر ہوجائے گا ، نہ کہ ہرملک کے مسلمانوں کے لئے حج کادن اُن کے ملک کی اپنی روئیت ِہلال کی بناپرمقررہوگا ، یوں ’’حج اورحرمت والے مہینے‘‘ مہینوں کے آغازواختتام کے حوالے سے پوری اُمت کی وحدت کا ذریعہ بنیں گے اوراس کے لئے کرہ ِ ارض پرہلال کی پہلی روئیت بنیاد بنے گی جوکہ مغرب (مراکش ،مصر،شام ،عرب وغیرہ)میں ہوتی ہے۔


پاکستان ہر سال ایک دن یا دو دن کا فرق مکہ سے رکھتا ہے اب یہاں ایک مسئلہ بنتا ہے کہ

قرآن’’ قدر والی رات‘‘ میں نازل ہوا مگر کونسی میں ؟



روئیت ِ ہلال کے حوالے سے مکہ میں طاری طاق رات میں نازل ہوا یا


روئیت ِ ہلال کے حوالے سے پاکستان میں طاری طاق رات میں نازل ہوا ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

 اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ  


بے شک ہم نے اس (قرآن)کو قدر والی رات میں نازل کیا۔

(۹۷: القدر۔ا


آیت سے واضح ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا۔ آیت میں ’’ایک‘‘ رات کا ذکر ہے، اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے اب سوال یہ ہے کہ یہ کونسی طاق رات ہوتی ہے؟ روئیت ِ ہلال کے حوالے سے جو طاق رات مکہ (نزولِ سورۃ القدر کے مقام)میں طاری ہوتی ہے؟ یا پاکستان میں روئیت ِ ہلال کے حوالے سے جوطاق رات پاکستان میں طاری ہوتی ہے؟ اگر دونوں مقامات کی طاق رات سمجھی جائے تب یہ’’ رات‘‘ کی بجائے ’’دو راتیں‘‘ ہو جائیں گی(پہلے مکہ والی رات پھرروئیت ِ ہلال میں ایک یادودن کے وقفے کی بناپر پاکستان والی رات)، مگرآیت میں ایک رات کا ذکر ہونے کی بنا پر یہ دو راتوں والا معاملہ غلط ہو جاتا ہے، یوں خودیہ سوال کہ’’ کونسی طاق رات ‘‘؟(روئیت ِہلال کے حوالے سے مکہ والی رات یا پاکستان والی رات؟) قدر والی رات کو واضح کر دیتاہے کہ ’’مکہ والی طاق رات ! ‘‘ جہاں سورۃ القدر نازل ہوئی ، جہاں نبی ﷺ کے وقت میں بھی باہر (مغرب) میں نظرآنے والے ہلال کی گواہی‘‘ قبول کی جاتی تھی(یہ حدیث آگے آئےگی) اورآج بھی قبول کی جاتی ہے اور جہاں خودہلال بھی اکثر مشرق(پاکستان وغیرہ) سے ایک دن پہلے نظرآتا ہے۔



عجیب بات یہ ہے کہ جس وقت مکہ میں طاق رات طاری ہوتی ہے پاکستان میں بھی و ہی رات ہوتی ہے مگر پاکستان میں روئیت ِ ہلال کے حساب سے یہاں یہ رات طاق کی بجائے جفت ہوتی ہے ۔ مغرب ِمکہ اورمکہ میں لوگ طاق رات کو قدر والی رات کے طورپر منا رہے ہوتے ہیں مگر پاکستان والے لوگ ٹھیک اُسی رات ’’اگلی رات کو قدر والی رات کے طور پر منانے کا پروگرام لے کر‘‘ سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جہاں قرآن کے قدر والی رات میں نازل ہونے والی سورۃ اُتری اُس مقام ’’مکہ ‘‘کو اورقدر والی رات کوذہن رکھیں اورذراسوچیں کہ حقیقت میں کونسی رات سامنے آتی ہے ؟ روئیت ہلال کے حساب سے مکہ والی طاق رات یاپاکستان والی رات؟ یقیناً مکہ والی طاق رات ! یہ رات پاکستان میں بھی طاری ہے مگر پاکستان والے مکہ کی روئیت نہ ماننے کی بنا پر اب اگلی رات کو جاگیں گے توکیاوہ حقیقت میں جفت رات میں جاگیں گے یا طاق رات میں جاگیں گے ؟




برصغیر کے علماء ہلال کے معاملے میں



احادیث کو جزو پر لگانے اور کل پر نہ لگانے کی بنا پر اُمت سے الگ ہوئے ہیں



مغرب میں ہلال کی پہلی تاریخ سے ایک دن بعد(اور بعض اوقات دو دن بعد) ہلال کی پہلی تاریخ اختیار کرنا عام طور پر برصغیر کے ملکوں کا دستورہے اور ایسا ذیل کی حدیث سے غلط استدلال لینے کی بنا پر ہوا ہے



نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ



اِذَا رَاَیْتُمُ الْھِلَالَ فَصُوْمُوْا وَ اِذَا رَاَیْتُمُوْ ہُ فَاَفْطِرُوْا فَاِنَّ



غُمَّ عَلَیْکُمْ فَصُوْمُوْا ثَلٰثِیْنَ یَوْمًا۔



تم جب چاند دیکھو تب روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تب ہی افطارکرو پھر اگر تم پرچاند گم رہے تو تیس دن کے روزے پورے کرو۔


( مسلم:کتاب الصیام۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

)



اس حدیث میں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر ہی افطار کرنے کا حکم ہے، لیکن جب علما ء سے کہا جاتا ہے کہ ہلال ہونے کی ’’گواہی‘‘ ملنابھی ہلال دیکھنے کے حکم میں داخل ہے کیونکہ نبی ﷺ نے گواہی قبول کی ہے ، یوں دنیا کے کسی حصے میں اگر ہلال نظرآنے کی گواہی مل جائے اس بنا پر پاکستان میں روزہ کیوں نہیں رکھا جا سکتا؟ اور عید کیوں نہیں کی جا سکتی ؟ تو اس سلسلے میں علماء کی طرف سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت پیش کی جاتی ہے


عَنْ کُرَیْبٍ :بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ ذَکَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ مَتَی رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَکِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّی نُکْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَ لَا تَکْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لَا هَکَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


کریبؒ سے روایت ہے کہ میں شام میں تھا میں نے جمعہ کی رات کو (رمضان کا) چاند دیکھا پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آیا، میرے سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سوال کیا اور چاند کا ذکر کیا کہ تم نے کب دیکھا ؟ میں نے کہا کہ جمعہ کی شب کو، انہوں نے پوچھا :تم نے خود دیکھا ؟ میں نے کہا ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا اور معاویہ ؓ نے بھی روزہ رکھا۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ ہم نے تو ہفتہ کی رات کو دیکھااور ہم تیس روزے پورے کریں گے یا تو چاند دیکھ لیں گے، میں نے کہا : کیا آپ معاویہ ؓ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کا فی نہیں سمجھتے ہیں؟ آپؓ نے کہا کہ نہیں، ایسا ہی حکم کیا ہے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے۔



(

مسلم: کتاب الصیام۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ)



حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ ھٰکَذَآ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ایسا ہی حکم کیا ہے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے‘‘ ۔ اب یقینی بات ہے کہ نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ صحابی نبی ﷺ پر جھوٹ باندھے اور نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے قول،فعل یا تقریر کے ساتھ حکم کیا ہو اور وہ حکم کتب احادیث میں کہیں موجودنہ ہولیکن کتب ِاحادیث میں نبی ﷺکا ایسا حکم کہیں نہیں مل سکا ہے کہ ’’ معاویہ کایا اہل ِ شام کایاکسی اور علاقے یا مطلعے کے لوگوں کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں سمجھنا ہے۔



٭ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاہے کہ ھٰکَذَآ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ ’’ایسا ہی‘‘ حکم کیا ہے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نبی ﷺ کاکوئی حکم پیش نہیں کررہے ہیں بلکہ انہوں نے نبی ﷺ کے کسی حکم سے استدلال کیا ہے،یوں یہ روایت ’’حدیث ِنبویﷺ‘‘کی بجائے محض صحابی کاقول (اثر)ثابت ہوتی ہے اورکتاب وسنت سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت پوری اُمت کے لئے ’’حجت‘‘صرف اللہ کی نازل کردہ وحی’’آیت ِقرآنی‘‘اور’’حدیث ِنبوی ﷺ‘‘ ہی قرار دی گئی ہے نہ کہ کسی کاقول ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے کہ ’’ہم تیس روزے پورے کریں گے یا تو چاند دیکھ لیں گے‘‘ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنہوں نے نبی ﷺ کے اُسی حکم سے استدلال کیا ہے جو اوپر پہلی حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ’’تم جب چاند دیکھو تب روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تب ہی افطارکرو پھر اگر تم پر چاند گم رہے تو تیس دن کے روزے پورے کرو !‘‘ لیکن نبی ﷺکے اس حکم سے چاند دیکھنے کے حوالے سے دوسرے علاقے سے ملنے والی گواہی کی قبولیت کی نفی ثابت نہیں ہوتی ، جب کہ دوسرے علاقے سے ملنے والی گواہی کی قبولیت کے حوالے سے واضح احادیث ِنبویﷺ موجود ہیں جن میں سے ایک بہت مشہورحدیث درج ذیل ہے


ابوعمیر بن انس بن مالک ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے انصار صحابہ میں سے میرے چچاؤں نے بتایا کہ ہم شوال کا چاند نہ دیکھ سکے اور ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی، دن کے آخر میں ایک قافلہ آیا اور اُس نے نبی ﷺ کے سامنے شہادت دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہ صبح عید کے لئے نکلیں۔


ابن ِماجہ: کتاب الصیام۔ ابوعمیر بن انس بن مالک ؒ



درج بالا حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جس علاقے میں قافلہ والوں نے چاند دیکھا تھا اُس علاقے کا مطلع اور مدینے کا مطلع الگ الگ تھا ورنہ اُس علاقے میں نظر آنے والاہلال مدینے میں بھی نظر آنا چاہیے تھا۔ دوسرے مطلعے والے علاقے سے آنے والی روئت ِ ہلال کی گواہی مانے جانے کی واضح حدیث کی موجودگی کے بعد علماء کے لئے دو میں سے ایک فیصلہ اختیار کرنا لازم ٹھہرتا ہے کہ



چاند دیکھنے کے حوالے سے کسی دوسرے مطلعے یا علاقے سے ملنے والی گواہی قبول کرنی ہے



یا



چاند دیکھنے کے حوالے سے کسی دوسرے مطلعے یاعلاقے سے ملنے والی گواہی قبول نہیں کرنی ہے


اگر کسی دوسرے مطلعے یا علاقے سے ملنے والی گواہی قبول نہیں کرنی ہے(جبکہ یہ حدیث کی واضح خلاف ورزی ہوگی) تو پھر پاکستان میں روئیت ِہلال کمیٹی توڑ دینی چاہیے، ہر علاقے وشہرکے لوگوں کو خود چاند دیکھنا چاہیے اور روزہ وعید کا اہتمام کرنا چاہیے۔جس جس کو چاند نظر آئے وہ روزہ یاعید کا اہتمام کر لے جسے نظر نہ آئے وہ روز یاعید کا اہتمام نہ کرے۔




اگر گواہی لینے کا اُصول قبول کرنا ہے، جو کہ پاکستان میں عملاً قبول کیا جاتا ہے ،اسی بناء پرروئیت ِہلال کمیٹی قائم ہے اور ملک کے کسی علاقے سے ہلال کی گواہی ملنے پرپورے ملک میں روزہ یا عید ہوتی ہے۔ اس اُصول کو پوری دنیا کے حوالے سے اختیار کیا جانا لازم ٹھہرتا ہے، کہ دنیا میں کسی بھی جگہ ہلال ہونے کی اطلاع ملے تو پاکستان میں اسے قبول کیا جائے ۔



عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان میں اگر کراچی یا کوئٹہ میں ہلال نظرآنے کی گواہی مل جائے تو پورے پاکستان میں روزے یا عید کا اعلان ہو جاتا ہے لیکن اگر گواہی پاکستان کی سرحد کے پار قندھار یا مکہ یا شام میں ہلال نظر آنے کی مل جائے تو پاکستان میں روزہ یا عید نہیں ہوتی ہے، واضح احادیث کی موجودگی میں آخرکس اُصول کی بنا پر سرحد پار کی گواہی پاکستان میں لاگو نہیں ہوتی ہے؟ اگر اس اُصول کی بنیاد کریب اورعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت کو بنایا جاتا ہے تو اس روایت کے ’’حدیث ِ نبوی ﷺ کی بجائے ’’ محض صحابی کاقول(اثر)ثابت ہونے کی بناء پر‘‘ اور اس کے برعکس ’’دوسرے علاقے سے ملنے والی گواہی کی قبولیت کے سلسلے میں قافلے والی واضح حدیث ِنبوی ﷺموجود ہونے کی بناء پر‘‘ کریب ا ور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت(حقیقت میں قول ِ صحابی؍ اثر) دوسرے علاقے کی گواہی قبول نہ کرنے کے لئے بنیاد نہیں بن سکتی ہے۔


٭

کیا گواہی کی قبولیت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے مطلعے ، فاصلے اور ملک کی کوئی حد مقرر کی ہے ؟ کہ محض اپنے مطلعے سے یا اتنے فاصلے کے اندر سے یافلاں فلاں ملک تک سے ہلال ہونے کی گواہی مل جائے تو قبول کی جائے اور اس سے باہر کی گواہی ملے تو قبول نہ کی جائے۔



٭ کیا نبی ﷺ نے اُس قافلے ،کہ جس نے کل چاند دیکھا تھا، سے پوچھا تھا کہ تم کس مطلعے سے، کس ملک سے اورکتنے فاصلے سے آئے ہو ؟ جب نبی ﷺ نے اُس قافلے سے یہ سوال نہیں کئے تھے توآج یہ سوال کرنا ’’بدعت ‘‘کے سوا اور کیا ہے ؟


٭

بعض علماء کہتے ہیں کہ چونکہ آج کے جیسے’’ ذرائع خبر‘‘ نبی ﷺ کے وقت حاصل نہیں تھے اس لئے ان ذرائع کی بنا پر ملنے والی خبرآج ہلال کے حوالے سے کسی فیصلے کی بنیاد نہیں بن سکتی، جبکہ حدیث کو غور سے دیکھنے سے معاملہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺ کو دن کے آخر میں گواہی ملی کہ گذرے ہوئے کل ہلال دیکھا گیاتھا، آپ نے اُسی وقت(دن کے آخر میں) روزہ افطار کرنے کا حکم دیا ، کیاآپ تک یہ گواہی گذری ہوئی شام یا رات کو پہنچ جاتی تو آپ اُسی رات کو اگلی صبح روزہ نہ رکھنے اورعید کے لئے نکلنے کا حکم نہ دیتے ؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جیسے بنیادی چیز یہ نہیں کہ ہلال کہاں طلوع ہوا ہے اسی طرح سے بنیادی چیز یہ بھی نہیں کہ کس ذ ریعہ سے اطلاع ملی ہے بلکہ بنیادی چیز ’’اطلاع کا پہنچنا ہے‘‘ ،جہاں سے بھی، جب بھی اور جس بھی ذریعے سے’’ جس رات کی شام میں ہلال کا ہونا‘‘ گواہی کے ذریعے ثابت ہوجائے اُس رات کی صبح سے مکہ اور پوری دنیا میں قمری مہینے کی پہلی تاریخ شروع ہو جائے گی۔



٭ بعض لوگ پاکستان اور امریکہ وغیرہ کے فاصلے اور وقت کا تقابل کرنا شروع ہو جاتے ہیں کہ یہاں رات ہوتی ہے اور وہاں دن ہوتا ہے اس لئے دونوں مقامات پرایک ہی وقت میں روزہ یا عید کیسے ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے دو باتیں قابل ِ غور ہیں



پہلی بات یہ کہ دونوں مقامات کے ایک دوسرے سے تقابل کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لئے مرکز نہیں ہیں بلکہ دونوں کے لئے مرکز’’کرہ ِارض پرہونے والی پہلی روئیت ‘‘ہے، ’’ جس رات کی شام میں مغرب میں کسی مقام پر ہلال کا ہونا‘‘ ثابت ہوجائے، وہ رات جب پاکستان،مکہ اور امریکہ میں پہنچے گی تو تینوں مقامات میں اُس رات کی صبح سے مہینے کی پہلی تاریخ شروع ہو جائے گی۔ پاکستان اورمکہ میں تواُس وقت و ہی ہلال والی رات طاری ہو گی اور امریکہ میں وہ رات تھوڑی دیر میں طاری ہو جائے گی۔



دوسری بات یہ کہ معاملہ’’ ایک ہی وقت‘‘ میں روزہ یا عید کا درپیش نہیں بلکہ’’ ایک ہی دن وتاریخ‘‘ میں روزہ یا عید کا درپیش ہے اورپوری دنیا میں ایک دن و تاریخ کا معاملہ کسی مزید بحث کا محتاج نہیں، کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ اگر پوری دنیا میں ہفتے کے ایک دن انگریزی مہینے کی ایک تاریخ کا نظام چل سکتا ہے توقمری مہینے کی ایک تاریخ کانظام کیوں نہیں چل سکتا؟معاملہ صرف پوری اُمت میں قمری مہینے کی ایک تاریخ اختیار کرنے کا ہے اوریہ حقیقی تاریخ وہی ہو گی جو’’کرہ ِ ارض پر ہلال کی پہلی روئیت ‘‘کے ساتھ اختیارکی جائے گی۔


اب رہی یہ بات کہ پاکستان میں ہلال ایک یادو دن بعد نظر آتا ہے تودرج بالا دلائل و شواہد سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کرہِ ارض پر کہیں بھی ایک بارہلال طلوع ہونے کے اگلے دن سے مکہ اور دنیا بھرمیں پہلی تاریخ شروع کرنالازم ہے اور اس کے بعد کسی دوسرے خطے میں دوسرے یاتیسرے دن ہلال دیکھے جانے کی بات قابل ِتوجہ ہی نہیں رہتی ہے۔

یہ سوال کہ فون وغیرہ کی سہولت فراہم ہونے سے پہلے جب تک ملک سے باہر کی روئیت ِہلال کی گواہی پاکستان تک نہیں پہنچتی رہی ہے تب تک پاکستان میں جو روزے اور عیدیں پاکستان کی روئیت کے مطابق ہوئی ہیں کیا وہ سب غلط تھیں؟ اس حوالے سے بھی معاملہ بالکل واضح ہے : اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھہراتا ہے، فیصلے کا ختیار بھی اُسی کے پاس ہے اور اجر بھی اُسی نے عطا کرنا ہے۔ نبی ﷺ اورآپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو جب نہ اپنے مطلعے میں چاند نظر آیا اور نہ ہی دوسرے مطلعے میں چاند طلوع ہونے کی گواہی بروقت مل سکی ، تب تک آپ ﷺ نے روزہ رکھا مگر جونہی آپﷺ کودوسرے مطلعے میں چاند ہونے کی گواہی ملی آپ نے روزہ افطار کر دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک باہر کی گواہی نہ پہنچے انسان وہی عمل کرے گا جو انتیس کی شام چاند نظر نہ آنے پر کرنا لازم ہے مگر جب گواہی پہنچ جائے ،خواہ وہ دوسرے مطلعے یادوسرے ملک سے آئی ہو، پھراس کے مطابق عمل کرنا لازم ہوجاتا ہے ۔ اب چونکہ پاکستان میں دوسرے مطلعے یا ملک میں ہونے والی روئیت ِ ہلال کی گواہی فوراً پہنچ جاتی ہے اس لئے اسے قبول کرنا لازم ہے۔



اب تک کے دلائل وشواہد کی بنا پر حقیقت یہی سامنے آتی ہے کہ ’’ہلال‘‘ کے حوالے سے ہم پاکستان کے لوگ خطا کا شکار رہے ہیں اور خطا کی بنا پراُمت سے الگ رہے ہیں۔ اس خطا کو تلاش کرنا پھر اپنی درستی کرناہم سب پرلازم ہے تاکہ ہم اللہ کے احکام کی ٹھیک ٹھیک اطاعت کر سکیں اوراس کے نتیجے میں اُمت دوبارہ وحدت میں ڈھل سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی راہنمائی اور مدد فرمائے ۔ آمین


یہ تحریر’’ ہلال اور وحدت ِاُمت ‘‘کے معاملے میں غورتدبر کی دعوت کے طور پر ہے ، قارئین سے گذارش ہے کہ اس تحریر میں پیش کی گئی بات میں کوئی خطا پائیں یااس کے حق میں یا مخالفت میں کتاب و سنت سے دلائل پائیں تو راقم کو ضرور اطلاع کریں تاکہ معاملہ واضح ہو سکے ۔ جزاکم اللہ خیراً


وَمَا تَوْفِیْقِیْ ٓ اِلَّا بِاللّٰہِ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ ﴿﴾




Monday, July 18, 2011

پیغامِ آزادی

1 تبصرہ جات




بسم اللہ الرحمن الرحیم



پاکستان بنانے کے لیے جس طرح ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دی تھیں اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ مسلمانانِ ہند کسی ایسے ملک کی بنیاد رکھیں کہ جہاں ہم اللہ کے قانون :::

قرآن و سنت::: کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اس طرح آخرت میں سرخرو ہوسکیں اس پاک مقصد کے لیے مسلمانوں نے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کی قربانی دی اور پاکستان کا مطلب بھی یہی کیا کہ لا الہ الا اللہ یعنی پاکستان میں اللہ کے قوانین چلیں گے انگریز یا انسانوں کے بنائے قوانین نہیں چلیں گے، مگر افسوس صد افسوس کہ آج پاکستان کی عمر ۶۴ سال ہونے کو آئی مگر یہ عوام کا خواب شرمندہ تعمیر نہیں ہوسکا اور آج یہاں ابھی تک انگریز کا بناہوا قانون ہی چل رہاہے،



کیا اُس وقت کے مسلمانوں نے ۱۵۰۰۰۰۰، لاکھ عورتوں، بچوں، جوانوں اور بڑھوں نے اس لیے قربانیاں دیں تھیں کہ یہاں پھر وہی کافروں کا نظام نافذ العمل رہے؟؟؟


کیا ہماری وہ ہزاروں مائیں بہنیں جن کو ہندو اور سکھوں نے اغوا کر لیا تھا اور ان کے ساتھ انسانیت سوز مظالم کیے گے، کیا وہ یہی چاہتی تھیں جو آج کا پاکستان ہے؟؟؟



مسلمانوں کے وہ معصوم بچے جنہوں نے ابھی زندگی کی کوئی خوشی نہیں دیکھی تھی اور جنہوں نے اپنے والدین کی ہاں میں ہاں ملا کر پاکستان کی تحریک میں شرکت کی اور اپنی جان کی قربانی پیش کی کیا وہ ایسا ہی پاکستان چاہتے تھے کہ جہاں ظلم کا راج ہو انصاف کو قیدی بنالیا گیا ہو؟؟؟


وہ مناظر آج بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو ہماری روح کانپ جاتی ہے کہ کتنے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گے مسلمانانِ ہند پر اور یہ ظلم صرف اس لیے کیے گے کہ مسلمان اپنا ایک علیحدہ ایسا ملک چاہتے تھے جہاں انگریزی نظام نہ ہو بلکہ وہاں اللہ کا دیا نظام ہو اور ہم آزادی سے اس نظام کے تحت زندگی گزار سکیں۔

مگر افسوس کہ ہمارے آباؤاجداد کی وہ تمنا و آرزو آج تک پوری نہیں ہوسکی کہ جس کی خاطر پندراں لاکھ مسلمانوں نے قربانی پیش کی تھی۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ نام کے دانشور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ محمد علی جناح صاحب نے پاکستان اسلامی سٹیٹ بنانے کے لیے نہیں بنایا تھا بلکہ وہ لبرل ریاست بنانا چاہتے تھے اور وہ اس کے لیے دلیل کے طور پر محمد علی جناح صاحب کی وہ تقاریر پیش کرتے ہیں جن میں انہوں نے ایسے الفاظ کا استعمال کیے تھے کہ جو ان کے لبرل ازم کو تقویت دیتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ محمد علی جناح صاحب کیا چاہتے تھے یہ بات ۱۰۰ فیصد طے ہے کہ ہندوستان کے مسلمان بہرحال یہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان میں لبرل قسم کا کوئی نظام چلے بلکہ وہ پاکستان کا مطلب یہ کرتے تھے کہ پاکستان کامطلب کیا

لا الہ الا اللہ اگر مسلمانانِ ہند پاکستان کو کیمونسٹ ،لبرل یا جمہوری ریاست بنانا چاہتے ہوتے تو وہ پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ ہرگز نہ کرتے۔



پیغامِ آزادی:


آج بھی اگر ہم کو اسلام اور پاکستان سے محبت ہے تو اس کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم آج بھی پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کے لیے کوشش کریں کہ جس کے لیے ہمارے آباؤاجداد نے پاکستان بنانے اور پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے قربانیاں دی تھیں،

ہر تحریک اور انقلاب ہمیشہ قربانیاں دینے سے ہی کامیاب ہوتے ہیں اگر ہم واقعی اسلامی نظامِ حیات کے تحت زندگی گزارنا چاہتےہیں تو اس کے لیے سب سے پہلے ہم سب کو آپس میں متحد ہونا ہوگا آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا،

ہمارے درمیان جو قوم پرستی کی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں ان کو گڑانا ہوگا، ہم کو دین اسلام کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور آپس کے تعلقات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مستحکم کرنا ہوگا،

ہم سب کو مل کر اللہ کی رسی
:::قرآن و سنت::: کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا، اور نئے نئے فتنوں اور فسادات سےخود بھی بچنا ہوگا اور اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی ان فتنوں سے بچانا ہوگا،

پاکستان میں جو علم کی کمی اور جہالت ہے اس کو سب مل کرہی ختم کرسکتے ہیں اس لیے بھی ہم سب کو مل جل کر تعلیم کے فروغ کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا،

اتحاد میں برکت ہے یہ ہم سب کو علم ہے مگر کیا وجہ ہے کہ ہم پھر بھی آپس میں متفرق ہیں؟؟؟ آئیں آج عہد کریں کہ آپس کے چھوٹے بڑے سبھی اختلافات کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کریں گے اور امتِ محمد ﷺ کو متحد کرنے کے لیے کوشش کریں گے نہ کہ اس کو مزید منتشر کریں گے،

اسلام میں رنگ و نسل، زبان ومکاں، حسب و نسب کا کوئی امتیازی حکم نہیں ہے جس نے بھی اللہ کی ایکتائی کا اور محمد ﷺکی رسالت کا اقرار کیا اور اس کلمے کے تقاضے پورے کیے وہ اب مسلمان ہےاور سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں سب پر ایک دوسرے کا خون، مال، عزت اور آبرو حرام ہے، کوئی کسی کی غیبت نہ کرئے، کوئی کسی پر بہتان نہ لگائے، کوئی کسی کا مال ناحق نہ کھائے، کوئی کسی کو دھوکہ نہ دے، کوئی کسی کو قتل نہ کرئے، کوئی کسی کو حقیر نہ جانے، کوئی کسی کو ذلیل نہ کرئے، کوئی کسی کی عزت پامال نہ کرئے ، کوئ کسی کا حق غصب نہ کرئے، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پھر ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ بننے کی طرف اپنا پہلا قدم اُٹھائے گااس لیے بہنوں اور بھائیو آو آج اس بات کا عہد کریں کہ ہم سب اپنے اندر سے ایسی برُائیاں ختم کرنے کی اپنی سی کوشش کریں گے جو معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں ۔



باتیں تو بہت ہیں مگر مختصراً اتنا ہی کافی ہے اگر ہم ان پر بھی عمل کرلیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ بن سکتے ہیں۔


میری طرف سے سب مسلمان بہن اور بھائیوں کو جشنِ آزادی اور رمضان کا مبارک مہینہ مبارک ہو۔

Monday, July 11, 2011

عمل کے قبول ہونے کی شرطیں

0 تبصرہ جات

عمل کے قبول ہونے کی شرطیں

یہ بات معلوم ہے کہ تمام عبادتیں توقیفی ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کو شریعت کے دستور کے مطابق پہچانا جاتا ہے ۔ کسی آدمی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرے بلکہ اس طریقے کے مطابق عبادت کرے جس کو قرآن کریم اور سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے مثلاً عبادت میں ضروری ہے کہ وہ عمل خالص اکیلے اللہ کے لئے ہو ۔

یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی بھی عمل جس سے ہم اللہ تعالی کا قرب حاصل کرتے ہیں اس کے صحیح ہونے کے لئے دو بنیادی شرطوں کا ہونا ضروری ہے اور ان دونوں شرطوں کا ایک ساتھ پایا جانا ضروری ہے ۔ ایک شرط دوسری سے جدا اور علیحدہ نہ ہو ۔

پہلی شرط اکیلے اللہ تبارک و تعالٰی کے لئے عبادت کو خالص کرنا
دوسری شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متا بعت کرنا ۔

ان دونوں شرطوں کو سورۃ الکہف کی اس آیت نے جمع کیا ہے
فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْ لِقَائَ رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلا یُشْرِک بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ أحَدًا


سورہ الکہف آیت ۱۱۰


جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید کرتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ نیک عمل (سنت کے مطابق ) کرے اوراپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

اللہ سبحانہ و تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ عمل سنت کے مطابق ہو پھر حکم دیا ہے کہ عمل کرنے والا خالص اللہ تعالٰی کے لئے عمل کرے اور اس عمل کے ذریعہ اس کے سوا کسی کا قرب تلاش نہ کرے ۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے : قبول ہونے والے عمل کے دو رکن ہیں ۔
ا) عمل کا خالص اللہ تبارک و تعالی کے لئے ہونا ۔
(
۲) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔

اسی طرح کی روایت قاضی عیاض وغیرہ سے بھی مروی ہے ۔


پہلی شرط اکیلے اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے عبادت کو خالص کرنا



شرط اول کا معنی یعنی اخلاص۔ وہ یہ کہ عمل کرنے والا اپنے عمل سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضاء کا ارادہ کرے جو ریاکاری اور شہرت سے دور ہو وہ اپنے اس عمل سے کسی سے بدلہ اور شکرانہ تلاش نہ کرے اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی نصوص کثرت سے وارد ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا
فَاعْبُدِ اﷲَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّیْنَ(سورۃ الزمر آیت ۲
پس تو اللہ تعالی ہی کی عبادت کراس کے لئے عبادت کو خالص کرتے ہوئے ۔
وابْتَغِ فِیْمَا آتَاکَ اﷲُ الدَّارَ الآخِرَۃَ وَلا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اﷲُ إِلَیْکَ (سورۃ القصص آیت ۷۷
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصہ کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ تعالی نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے توبھی سلوک کرتا رہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کہ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا
انا اغنی الشرکاء عن الشرک من عمل عملاً اشرک معی فیہ غیری ترکتہ و شرکہ


مسلم کتاب الزھد ج۴ ص ۲۲۸۹


میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی ہوں جس نے کوئی عمل کیا اور میرے ساتھ اس میں میرے غیر کو شریک کیا تو میں اس کا عمل اور اس کا شرک چھوڑ دوں گا ۔

یعنی میں اپنی عبادات مالیہ، قولیہ اور بدنیہ میں پارٹنر شپ کو گوارہ نہیں کرتا ۔ جو کوئی عبادت گزار میری عبادات میں دوسروں کو حصہ دار بنائے میں اس کی اپنے حصہ والی عبادت بھی قبول نہیں کرتا
اس لئے کہ اس وقت اخلاص اور انسان کا اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ممکن نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی فمن کانت ھجرتہ إلی اﷲ و رسولہ فھجرتہ إلی اللہ ورسولہ و من کانت ھجرتہ لدنیا یصیبھا اوامرأۃ یتزوجھا فھجرتہ إلی ما ھاجر الیہ (بخاری ج ۱ ص ۹ مسلم ۳/۱۰۱۰
اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ہر آدمی کے لئے وہی ہو گا جس کی اس نے نیت کی پس جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت ہو گی جس نے دنیا کے لئے ہجرت کی تو وہ اس کو پائے گا یا کسی عورت کی طرف ہجرت کی کہ وہ اس سے نکاح کرے گا اس کی ہجرت اس کی طرف ہو گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔


دوسری شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متا بعت کرنا ۔



اس کا معنی یہ ہے کہ وہ عمل جس کے ذریعہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں اس دستور اور آئین کے مطابق ہو جس کو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت میں بیان کیا ہے اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے اسلامی دین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق اعلیٰ کی طرف منتقل ہونے سے پہلے پہلے کامل و مکمل کر دیا ہے ۔ اب اس دین محمدیﷺ میں کسی کمی و زیادتی کی حاجت نہیں رہی ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمْ الاِسْلامَ دِیْنَا (سورہ المائدہ آیت ۳
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کوبحیثیت دین پسند کر لیا ۔

ایسی بہت سی آیات قرآنیہ وارد ہوئی ہیں جو اتباع سنت کا حکم دیتی ہیں اور دین حنیف میں نئی نئی باتیں اور بدعتیں ایجاد کرنے سے تنبیہ اور منع کرتی ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُوْاﷲ وَالْیَوْمَ الآخِرَ وَذَکَرَ اﷲَ کَثِیْرًا (سورۃ الاحزاب آیت ۲۱
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ موجود ہے ۔ ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہو اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہو ۔

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا
وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہٗ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا ( الحشر آیت ۷
جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے روکے اس سے باز آجاؤ ۔
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُوْنَ اﷲَفَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اﷲُ (سورۃ آلعمران آیت۳۱

کہہ دیں اگر تم اللہ تعالی سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری تابعداری کرو تو اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا ۔
اس سلسلہ میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی کثرت سے وارد ہوئی ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین من بعدی عضوا علیھا بالنواجذ وایاکم ومحدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار (ترمذی ج ۴ ص ۱۴۹ ، سنن ابن ماجۃ ۱ /۱۶

تم پر میری سنت اور میرے بعد خلفاء الراشدین کی سنت لازم ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اور نئی بدعتیں ایجاد کرنے سے بچ جاؤ اس لئے کہ (دین میں) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں (لے جانے کا سبب بنتی )ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ترکت فیکم امرین لن تضلوا بعدی ما تمسکتم بھما کتاب اﷲ و سنتی


المؤطا ۲/۸۹۹ ابوداود ۱/۴۴۲، ابن ماجۃ ۲/۱۰۲۵

)
میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔ ایک کتاب اللہ ہے اور دوسری میری سنت ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کریم اور اپنی سنت چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے یہ حدیث مبارک منکرین حدیث کے منہ پر طمانچے مار رہی ہے اور ان کے فاسد عقیدے کا رد کر رہی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد (بخاری ۳/۲۴۱ مسلم ۵/۱۳۲
جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس سے نہیں تو وہ رد ہے (اسے کے منہ پر دے ماری جائے گی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَا بعث اﷲ من نبی الا کان حقًا علیہ ان یدل امتہ علی خیر ما یعلمہ لہم و ینذرہم شرما یعلمہ لہم (مسلم امارۃ ۴۶ ج ۳ /۱۴۷۲
اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی بھیجا اس پر واجب تھا کہ وہ اپنی دانست کے مطابق اپنی امت کو بھلائی بتائے اور ان کو اپنی دانست کے مطابق شرسے ڈرائے ۔

اللہ تعالی نے جس کسی نبی کو مبعوث فرمایا اس پر فرض تھا کہ وہ اپنی امت کو اس خیر سے آگاہ کرے جسے وہ ان کے لئے بتانا ضروری خیال کرتا ہے اور ان کو اس شر سے ڈرائے جسے وہ ان کے لئے مہلک سمجھتا ہے

یہ تمام نصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہیں جونسا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے بغیر ہو اس کی کوئی قبولیت نہیں ہے ۔ بہت سے مسلمانوں نے نئی نئی چیزیں گھڑ رکھی ہیں جن کو یہ دین سمجھتے ہیں حالانکہ دین میں ان چیزوں کا کوئی تعلق نہیں ہے جن کو یہ لوگ اچھا سمجھتے ہیں اور خیال (فاسد) کرتے ہیں کہ یہ ان کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کردیں گی ۔

حالانکہ انہوں نے قرآن کریم اور حدیث نبوی کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے چھوڑ دیا ہے گویا کہ یہ لوگ قرآن و حدیث کو سنتے ہی نہیں ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ ان کو ھدایت عطا فرمائے ) ان بدعات کی مثالوںمیں سے وہ گھڑی ہوئی دعائیں اور اذکار اور کلمات وغیرہ ہیں جنکو ہر نماز کے بعد یا کسی خاص وقت میں گانے کی طرح سریں لگا لگا کر گاتے ہیں اور انہوں نے ہر نماز کے بعد ان اذکار اور دعاؤں کو چھوڑ دیا ہے جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تمام اوقات میں پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار کی تعلیم دی ہے ۔ پس مسلمانوں کو معلوم ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلتے وقت اور گھر کی طرف واپس آتے وقت کیا کیا پڑھیں گے اور سوتے وقت اور جاگتے وقت کیا پڑھیں گے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں (بخاری ج ۱۱ ص ۱۰۱

اللہ تبارک و تعالی اولوالالباب کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے
اَلذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ قِیَامًا وَ قُعُوْدًا وَعَلیٰ جُنُوْبِھِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ والاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ
جو لوگ اللہ تعالی کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور پہلوؤں کے بل یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں سوچتے
ھٰذَا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (سورۃ آل عمران آیت ۱۹۱

ہیں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ باطل نہیں بنایا تو پاک ہے پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا
قرآن کریم کی اس آیت نے واضح کر دیا کہ یہ لوگ اللہ تبارک و تعالی کو تمام حالتوں میں یاد کرتے ہیں ۔
ان بدعتوں میں سے مخصوص دنوں اور وقتوں میں عیدیں اور میلے منانا بھی ہیں سوائے ان اسلامی عیدوں کے جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشروع کیا ہے اور وہ عید الفطر، عیدلاضحی اور جمعہ ہے اب ان کے علاوہ جو بھی عید ہو گی وہ جاہلیت کی عید ہو گی۔
اور ان میں نئی نئی عبادتیں گھڑی گئی ہیں سب مردود ہیں (انکے ایجاد کرنے والوں کے منہ پر دے ماری جائیں گی) ۔ کیونکہ یہ بدعتیں ہیں اور ان کے علاوہ جو اعمال دین میں نئے ایجاد کئے گئے ہیں مسلمانوں کے لئے مناسب ہے کہ وہ ان کو چھوڑ دیں اور جن اعمال کا ثبوت قرآن وحدیث میں ملتا ہے اسی پر اکتفاکریں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کچھ لوگ روزانہ مغرب کی نماز کے بعد جمع ہوتے ہیں اور اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ، سبحان اللہ کو بیک آواز بار بار دہراتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان لوگوں پر نکیر فرمائی اور فرمایا اللہ کی قسم تم لوگ ظلماً بدعت لائے ہو اور تم علم کے اعتبار سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے فضیلت لے جانا چاہتے ہو۔ (دارمی ، ابونعیم)

اب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لا الہ الا اللہ یا سبحان اللہ کہنے پر نکیر نہیں فرمائی اس لئے یہ تو ذکر ہے بلکہ انہوں نے اس ھیئت پر جس کے ذریعہ ذکر کر رہے تھے نکیر فرمائی ہے اس لئے کہ اس حالت میںجمع ہو کر ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ، جنہوں نے آپؐ سے روایت کیا اور آپؐ سے اذکار کو سیکھا اور آپؐ سے سنا ، کے نزدیک مشروع نہیں ہے ۔

Sunday, July 3, 2011

پندرہویں شعبان اور اس کی بدعات

8 تبصرہ جات

پندرہویں شعبان اور اس کی بدعات



بسم اللہ الرحمن الرحیم


اسلام ایک مکمل دین ہے، اس میں ذرہ برابر بھی کمی وبیشی کی گنجائش نہیں ہے ۔


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ


اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا


ترجمہ : آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ،، سورہ المائدہ:٣


نیز اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے



اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀


ترجمہ : کیا ان لوگوں نے ایسے(اللہ کے)شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فر مائے ہوئے نہیں ہیں ،اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا،یقینا(ان)ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے ،،

سورہ شوری:٢١



یعنی کہ جتنے دین کے احکامات ہمیں قرآن و صحیح حدیث سے ملیں گے صرف وہی دین  اسلام ہے اب اگر کوئی ان احکامات کو بدلتا ہے یا کہتا ہے کہ ایسی ایسی عبادت کرنا بھی ثواب کا کام ہے اور وہ اپنے اس دعویٰ کے ساتھ کوئی بھی دلیل قرآن یا صحیح حدیث سے پیش نہیں کرتا تو وہ اصل میں دین میں اضافہ کر رہا ہے یعنی شریعت سازی جو کہ صرف اللہ کا حق ہے۔ اس لیئے بہنو اور بھائیو دین کے معاملے میں غلو، اضافہ نہ کریں بلکہ جو طریقہ عبادت ہمیں اللہ اور نبیﷺ نے سیکھایا ہے بس اُس طریقہ کے مطابق ہی عبادت کریں۔


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا


من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد


ترجمہ : جس نے کار خیر سمجھ کر کوئی کام کیا اور اس کا م کامیں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ،،.


صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب :٨ حدیث نمبر :١٧١٨


ایک مسلمان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے ،


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا


فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین ، تمسکوا بہا وعضوا علیہا بالنواجذ ویاکم ومحدثات الامور ، فن کل محدثة بدعة ، وکل بدعة ضلالة ،،

وفی روایة النسائی وکل ضلالة فی النار


ترجمہ : مسلمانو! تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچاکررکھنا اس لئے کہ دین میں نیا کام ( چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے ۔


ابو داود کتاب السنۃ باب :٥حدیث : ٤٦٠٧ اور نسائی کتاب الخطبۃ باب :٢٢حدیث :١٥٧٦


اس معنی کی بیشمار آیات واحادیث ہیں جو صریح طور پر دلالت کر تی ہیں کہ اللہ تعالی نے اس امت( محمدیہ ﷺ)پر اپنے دین کی تکمیل فرمادی ہے .اللہ کے مشروع کردہ جملہ اقوال وافعال کو امت کے سامنے بیان کرنے کے بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی قول وعمل ایجاد کر کے دین کی طرف منسوب کیا جائے گا وہ بد عت ہوگا اور ہر بدعت بدعتی کے منہ پر دے ماری جائیگی۔


بعض لوگوں کی ایجاد کردہ بدعات میں سے بعض بدعتیں شعبان کی پندرہویں رات کی ہیں، مگر جمہور علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پندرہویں شعبان اور اس کی رات کی فضیلت میں وارد ہونے والی روایتیں ضعیف اور بعض موضوع

::من گھڑت::اور بے اصل ہیں ۔


اگر کسی رات کو عبادت کے لئے خاص کرنا جائز ہوتا تو جمعہ کی رات دیگر راتوں کی بہ نسبت عبادت کیلئے زیادہ موزوں اور مناسب تھی ، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن سے متعلق فرمایا

:


خیر یوم طلعت علیہ الشمس،یوم الجمعة


ترجمہ : سب سے اچھا دن کہ جس دن سورج طلوع ہوا، وہ جمعہ کا دن ہے

( مسلم کتاب الجمعہ باب:٥حدیث:١٧)


لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی رات کو اس دن کی بے شمار فضیلتوں کے باوجودعبادت کیلئے خاص کرنے سے منع فرمادیا


لاتختصوا لیلة الجمعة بقیام من بین اللیال


جمعہ کی رات کو عبادت کیلئے خاص مت کرو،،

مسلم کتاب الصیام باب:٢٤حدیث:١٤٨


تو دیگر راتوں کو بدرجہ اولٰی کسی بھی قسم کی عبادت کے لئے خاص کرنا جائز ودرست نہیں مگر یہ کہ کوئی صحیح دلیل ہو جس سے تخصیص کا پتہ چلتا ہو.البتہ ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسا کہ مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھاہے کہ شعبان سے زیادہ(رمضان کے بعد) کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوں،چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزہ رکھتے تھے،،

( ترمذی کتاب الصوم باب:٣٧حدیث: ٧٣٦)


اسی طرح ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ٫٫میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی اور دو مہینے مسلسل روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ،،

(ترمذی کتاب بالصوم باب:٣٧حدیث:٧٣٦)


ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے مگر پندرہویں شعبان کی تخصیص کے ساتھ نہیں ، ہمیں بھی چاہئے کہ اس مہینہ میں ہم زیادہ سے زیادہ روزہ رکھیں ، تاہم پندرہویں شعبان کے بعد روزے نہ رکھے جائیں کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر شفقت کی بناپر منع فرما دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا

:


اذا بق نصف من شعبان فلا تصوموا


یعنی پندرہیوں شعبان کے بعد روزہ مت رکھو،،

(ترمذی کتاب الصوم باب:٣٨حدیث:٧٣٨




پندرہویں شعبان کے بعد ممانعت اس لئے ہے کہ پورے شعبان کے روزے رکھ کر کہیں نقاہت اور کمزوری نہ آجائے اور پھر رمضان کے روزے رکھنے میں دقت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو انہیں خصوصی طاقت عطا کی گئی تھی. اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ،

آمین یا رب العالمین




پندرہویں شعبان کی فضیلت سے متعلق کچھ ضعیف اور موضوع روایتیں


پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت سے متعلق متعدد روایتیں ہیں اور وہ سب کی سب ضعیف یا پھر موضوع ہیں جن سے استدلال کرنا درست نہیں.ضعیف حدیث کے سلسلہ میں ایک اہم قائدہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ذکر کیا ہے وہ فرماتے ہیں: ضعیف حدیثوں پر عبادات کے باب میں اس وقت عمل کیا جائیگا جب کہ اس کی اصل صحیح دلیل سے ثابت ہو لیکن پندرہویں شعبان کی رات کو منانے والے جشن کے بار ے میں کوئی دلیل اصل نہیں ہے ،،(خانہ ساز شریعت٤٧

)


پندرہویں شعبان سے متعلق کچھ ضعیف اور موضوع رواتیں تنبیہ اور آگاہ کرنے کی خاطر یہاں ذکر کی جاتی ہیں کیوں کہ انہیں روایتوں کی وجہ سے امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد راہ حق سے دور ہوئی ہے ، وہ روایتں مختصراً مندرجہ ذیل ہیں

:


١۔پندرہویں شعبان کی رات کو بارہ رکعت والی نمازپڑھنے کی فضیلت سے متعلق روایت (امام ابن جوزی فرماتے ہیں : یہ روایت صحیح نہیں ہے

)


٢۔ پندرہویں شعبان کی رات کو سو رکعت والی نماز پڑھنے کی فضیلت والی روایت(امام شوکانی فرماتے ہیں: یہ روایت موضوع ہے

)


٣۔نصف شعبان کی رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے والی روایت(علامہ البانی فرماتے ہیں: یہ روایت بہت ضعیف ہے یا موضوع ہے

)


٤۔شب برات کا ایک روزہ ساٹھ سال گزشتہ اور ساٹھ سال آئندہ کے روزے کے برابر ہے (امام ابن جوزی فرماتے ہیں: اس روایت کی اسناد تاریک ہے

)


٥۔پندرہویں شعبان کی رات کوچودہ رکعت والی نمازپڑھنے کی فضیلت سے متعلق روایت(امام بیہقی فرماتے ہیں: یہ روایت موضوع ہے

)


٦۔پندرہویں شعبان کی رات کو قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت والی روایت(علامہ البانی فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے

)


٧۔پندرہویں شعبان کی رات کوجاگ کر عباد ت کرنے سے متعلق فضیلت والی روایت(علامہ عبید اللہ رحمانی فرماتے ہیں:یہ روایت ضعیف ہے
)


٨۔پندرہویں شعبان کی رات کو سال بھر کی موت وحیات کا فیصلہ ہونے والی روایت( علامہ البانی فرما تے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے

)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت میں جتنی روایات ہیں سب ضعیف اور باطل ہیں کوئی بھی حدیث صحیح نہیں اسی لئے ایسی حدیثیں بخاری ومسلم میں جگہ نہ پا سکیں.جب ضعیف حدیث حجت ہی نہیں تو یہ فضیلت ثابت کہاں سے ہوتی ؟اگر یہ رات فضیلت کی رات ہوتی تو صحابہ کرام میں اس کا چرچا ہوتا ، مشہور اور ثقہ راوی اسے روایت کرتے اتنی اہم بات جس کا عام چرچا ہونا چاہئے صرف ضعیف راویوں ہی کو کیسے معلوم ہوئی؟اس لئے ان ضعیف روایتوں کا سہارا لے کر اس رات کی فضیلت کو بیان کرنا یا اسے تہوار کی شکل دینا قطعاً جائز ودرست نہیں۔




پندرہویں شعبان کی چند اہم بدعات


یوں تو پندرہویں شعبان کی بہت ساری بدعات ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے، مگر بطور نمونہ یہاں چند کاذکر کیا جاتا ہے


١۔پندرہویں شعبان کی رات کومحفلیں منعقد کرنا،مسجدوں میں جمع ہوکر قیام اللیل کرنا اور اجتماعی دعائیں کرنا

.


٢۔مسجدوں میں مخصوص نماز پڑھنے کیلئے جمع ہونا مثلاسو رکعتیں ایک ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھکر ادا کرنا

.


٣۔پندرہویں شعبان کی رات کو مخصوص دعائیں کرنا جیسے اللہم یا ذا المن ولا یمن ....الخ،،

.


٤۔پندرہویں شعبان کی رات کو خصوصیت کے ساتھ قیام اللیل کرنا اور دن میں روزہ رکھنا

.


٥۔پندرہویں شعبان کی رات کو خصوصیت کے ساتھ سورہ یسن کی تلاوت کرنا، اور قبروں کی زیارت کرنے کیلئے قبرستان جانا

.


٦۔ما ہ شعبان میں مردوں کی روحوں کی طرف سے صدقات وخیرات کرنا


.

٧۔ماہ شعبان میں ایصال ثواب کی غرض سے قرآن خوانی کروانا.


٨۔پندرہویں شعبان سے ایک دو دن پہلے قبروں کو درست کرنا،لیپنا پوتنا،پندرہویں شعبان کی رات کو اس پر چراغاں روشن کرنا ،قمقمہ جلانا،پھول پتیاں چڑھانا،اگربتیاں جلاناوغیرہ یہ مجوسیوں اور ہندؤں کے رسم ورواج ہیں

.


٩۔ پندرہویں شعبان کو مختلف قسم کے حلوے پکانا

.


١٠۔مردوں کی عید سمجھنا ، بعض مسلمانوں کا یہ عیقدہ ہے کہ کوئی شخص شب برات سے پہلے مرجائے اور جب تک شب برات میں حلوہ پور ی اور چپاتی پر فاتحہ نہ کی جائے وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ہے

.


١١۔یہ عقیدہ رکھنا کہ پندرہویں شعبان کو حلوہ وغیرہ نہ بنایا جائے تو مردوں کی روحیں دیواریں چاٹ کر واپس چلی جاتی ہیں

.


اللہ تعالی ہم سب کو ان بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے ،آمین